لوک سبھا انتخابات کا پانچواں مرحلہ | تیاریاں مکمل، 49 لوک سبھا سیٹوں پر 695 امیدوار،ووٹنگ آج

یواین آئی

نئی دہلی// لوک سبھا انتخابات کے پانچویں مرحلے میں آج یعنی پیر کو آٹھ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی 49 پارلیمانی نشستوں اور اڈیسہ اسمبلی کے دوسرے مرحلے کے لئے 35 نشستوں پر ووٹنگ کے ہموار انعقاد کے لئے ضروری تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔الیکشن کمیشن نے اتوار کو ایک ریلیز میں یہ اطلاع دی۔ ووٹنگ صبح 7 بجے سے شام 6 بجے تک ہوگی اور کچھ پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹنگ ختم ہونے کے مقررہ وقت میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔اس مرحلے میں 49 لوک سبھا سیٹوں پر 695 امیدواروں اوراڈیشہ اسمبلی کے دوسرے مرحلے کے لیے 35 سیٹوں پر لڑنے والے 265 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ہوگا۔ اڈیشہ اسمبلی کی 147 سیٹوں میں سے 28 سیٹوں پر پہلے مرحلے میں 13 مئی کو ووٹنگ ہوئی تھی۔الیکشن کمیشن نے ووٹرز کی شرکت بڑھانے کے لیے ووٹر آگاہی پروگرام منعقد کیے ہیں۔ نیز چیف الیکشن افسران اور ضلعی الیکشن افسران کو سخت گرمی اور لو جیسی صورتحال کے پیش نظر مناسب انتظام کے لیے خاطر خواہ اقدامات کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ الیکشن ورکرز کو مشینوں اور میٹریل کے ساتھ ان کے متعلقہ پولنگ اسٹیشنوں پر روانہ کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ووٹنگ کو آرام دہ اور محفوظ ماحول میں یقینی بنانے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔

پولنگ اسٹیشن پر مناسب سایہ، پینے کا پانی، ریمپ، بیت الخلا اور دیگر بنیادی سہولیات ہونی چاہئیں۔کمیشن نے ووٹرز پر زور دیا ہے کہ وہ بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشنوں پر آئیں اور ذمہ داری اور فخر کے ساتھ ووٹ دیں۔اتوار کو کمیشن کی طرف سے جاری کردہ ریلیز کے مطابق آٹھ ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے کل 49 لوک سبھا حلقوں میں 8.95 کروڑ ووٹر 94732 پولنگ مراکز پر اپنا ووٹ ڈال کر 695 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کر سکیں گے۔ ان میں 4.69 کروڑ مرد، 4.26 کروڑ خواتین اور 5409 ٹرانس جینڈر ووٹر شامل ہیں۔اس مرحلے کی 49 پارلیمانی نشستوں میں سے 39 جنرل زمرہ، تین درج فہرست قبائل اور سات درج فہرست ذات کی نشستیں ہیں۔ اڈیشہ اسمبلی کی 35 نشستوں میں سے 21 عام زمرے کے لیے، آٹھ درج فہرست قبائل کے لیے اور چھ سیٹیں درج فہرست ذات کے لیے ہیں۔کمیشن نے کہا ہے کہ پولنگ اور سیکورٹی اہلکاروں کو لے جانے کے لیے 17 خصوصی ٹرینیں اور 508 ہیلی کاپٹر پروازیں چلائی گئی ہیں۔ کْل 2000 فلائنگ اسکواڈز، 2105 سٹیٹک سرویلنس ٹیمیں، 881 ویڈیو سرویلنس ٹیمیں اور 502 ویڈیو سرویلنس ٹیمیں چوبیس گھنٹے چوکس ہیں تاکہ ووٹرز کو کسی بھی قسم کی ترغیب سے سختی اور تیزی سے نمٹا جا سکے۔الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق پانچویں مرحلے کے لئے 85 سال سے زیادہ عمر کے 7.81 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ ووٹرز اور 7.03 لاکھ دویانگ اور 100 سال سے زیادہ عمر کے 24792 ووٹرز ہیں، جنہیں گھر بیٹھے ہی ووٹ ڈالنے کا اختیار فراہم کیا گیا ہے۔ اختیاری ہوم ووٹنگ سہولت کو پہلے ہی کافی پذیرائی اور تاثرات مل رہے ہیں۔کمیشن نے انتخابات کے اس مرحلے کو خوش اسلوبی اور پرامن طریقے سے انجام دینے کے لیے 153 مبصرین (55 جنرل مبصر، 30 پولیس مبصر، 68 اخراجاتی مبصر) تعینات کیے ہیں۔ مزید برآں، کچھ ریاستوں میں خصوصی مبصرین کو تعینات کیا گیا ہے۔ کل 216 بین الاقوامی سرحدی چیک پوسٹیں اور 565 بین ریاستی سرحدی چیک پوسٹیں شراب، منشیات، نقدی اور مفت سامان کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ سمندری اور فضائی راستوں پر کڑی نگرانی رکھی گئی ہے۔پانچویں مرحلے میں جن آٹھ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے ووٹنگ ہو گی، ان میں اتر پردیش کی 14، مہاراشٹر کی 13، مغربی بنگال کی سات، اوڈیشہ اور بہار کی پانچ پانچ، جھارکھنڈ کی تین اور جموں و کشمیر اورلداخ میں ایک ایک سیٹ ہے۔اس مرحلے کے نمایاں امیدواروں میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی، مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی، جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے چراغ پاسوان، مرکزی وزیر پیوش گوئل، سادھوی نرنجن جیوتی، کوشل کشور، ڈاکٹر پروین بھارتی پوار، شانتنو ٹھاکر، کپل پاٹل، اناپورنا دیوی، بی جے پی لیڈر راجیو پرتاپ روڈی اور راشٹریہ جنتا دل کی روہنی آچاریہ شامل ہیں۔لوک سبھا انتخابات کے پانچویں مرحلے میں اتر پردیش کی جن 14 سیٹوں پر پیر کو ووٹنگ ہو گی ان میں موہن لال گنج، لکھنؤ، رائے بریلی، امیٹھی، جالون، جھانسی، ہمیر پور، باندہ، فتح پور، کوشامبی، بارہ بنکی، فیض آباد، قیصر گنج اور گونڈا شامل ہیں۔ اس میں سے 10 سیٹیں جنرل کیٹیگری کی ہیں اور چار سیٹیں ریزرو ہیں۔مہاراشٹر میں دھولے، ڈنڈوری، ناسک، پالگھر، بھیونڈی، کلیان، تھانے، ممبئی نارتھ، ممبئی نارتھ ویسٹ، ممبئی نارتھ ایسٹ، ممبئی نارتھ سینٹرل، ممبئی ساؤتھ سینٹرل اور ممبئی جنوبی پارلیمانی سیٹوں پر ووٹنگ ہوگی۔مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں بارہمولہ اور لداخ کی واحد پارلیمانی نشست کے لیے ووٹنگ ہوگی۔بہار میں جن پانچ سیٹوں کے لیے انتخابات ہونے ہیں ان میں مدھوبنی، سیتامڑھی، سارن، مظفر پور اور حاجی پور لوک سبھا حلقے ہیں۔اس کے علاوہ اڈیشہ میں بارگڑھ، سندر گڑھ، بولانگیر، کندھمال اور آسکا، جھارکھنڈ میں چترا، کوڈرما اور ہزاری باغ، مغربی بنگال میں بنگاؤں، بیرک پور، ہاوڑہ، اولوبیریا، شری رام پور، ہوگلی اورآرام باغ ہیں۔سال 2019 کے انتخابات میں، ان 49 سیٹوں میں سے 32 پر بی جے پی، سات پر شیوسینا (غیر منقسم) اور چار پر ترنمول کانگریس کے امیدواروں کو کامیابی ملی تھی۔چوتھے مرحلے کی ووٹنگ کے ساتھ ہی کل 543 سیٹوں میں سے 379 سیٹوں پر ووٹنگ کا عمل ختم ہو گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں 102، دوسرے میں 88، تیسرے میں 93 اور چوتھے میں 96 پارلیمانی حلقوں میں انتخابات ہو چکے ہیں۔ پہلے چار مرحلوں میں 45.1 کروڑ سے زیادہ رائے دہندگان نے اب تک ووٹ ڈالے ہیں اور ان مراحل میں اوسط ٹرن آؤٹ 66.95 فیصد رہا ہے۔ چھٹے اور ساتویں مرحلے میں بالترتیب 25 مئی اور یکم جون کو ووٹنگ ہوگی۔ ووٹوں کی گنتی 4 جون کو ہوگی۔