لووڈ منڈا میں 24گھنٹے ٹیسٹ سہولیات دستیاب رکھی جائیں: مسعودی

سرینگر// نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان جنوبی کشمیر جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے سنیچروار دوسرے روز بھی جنوبی کشمیر کے مختلف ہسپتالوں کا دورہ کیا اور متاثرین کوبہم پہنچائے جارہے علاج و معالجہ کے علاوہ آکسیجن اور دیگر ضروری ادویات کی سپلائی کا جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے  لورمنڈا جاکر وادی میں داخل ہونے والوں کی ٹیسٹنگ کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اس بات پر زبردست تشویش اور حیرانگی کا اظہار کیا کہ صرف صبح9بجے سے لیکر شام 6بجے تک ٹیسٹنگ ہوتی ہے جبکہ باقی اوقات باہر سے بلا روک ٹوک لوگ وادی میں داخل ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 9بجے سے لیکر6بجے تک ٹیسٹنگ کی بھی حد مقرر کی گئی ہے اور صرف 6800 ٹیسٹ کئے جاتے ہیں۔مسعودی نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا کہ ایک طرف انتظامیہ کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے بلند بانگ دعوے کررہی ہے جبکہ زمینی سطح پر انتہائی غیر سنجیدگی اور لاپرواہی سے کام لیا جارہا ہے۔ ملک میں کورونا وائرس کا حال دیکھتے ہوئے انتظامیہ کو ایک ماہ قبل ہی بغیر ٹیسٹ کے کسی کو بھی وادی داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے تھی اور 24گھنٹے ٹیسٹنگ کا عمل جاری رہنا چاہئے تھا۔ مسعودی نے انتظامیہ پر زور دیا کہ لووڈ منڈا میں 24گھنٹے ٹیسٹ سہولیات دستیاب رکھی جائیں اور کسی کو بھی بغیر ٹیسٹ کے وادی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے۔ مسعودی نے ضلع ترقیاتی کمشنر کولگام سے بھی ملاقات کی اور ضلع میں کورونا وائرس کی روک تھام اور متاثرین کے علاج و معالجہ کی جانکاری بھی حاصل کی۔