لولاب کا لاپتہ نوجوان 4سال بعدراجستھان سے بازیاب

کپوارہ//شمالی ضلع کپوارہ کی لولاب وادی سے تعلق رکھنے والے لاپتہ شہری کو 4سال بعد چائلڈ پروٹیکشن سروس کی مدد سے راجستھان سے بازیاب کرا یا گیااور گھر پہنچنے پر خوشی کی لہر دو ڑ گئی ۔10سالہ منظور احمد کھٹانہ ولد بھگو کھٹانہ ساکن بٹہ ناڑ لولاب کو والد نے4سال قبل سنگری پرے محلہ بارہمولہ میں ایک گھر میں مزدوری کے لئے رکھا ۔ کچھ مہینے بعد راجستھان کے لوگ وہا ں پہنچے جو گائو ں گائو ں جاکر غبارے فروخت کرتے تھے۔ غبارہ فروخت کرنے والوں نے منظوراحمدکھٹانہ کو اپنے ساتھ راجستھان لایا اور کہاکہ اگر وہ ان کے ساتھ غبارے فروخت کرے گا تو اسے ماہوار 7ہزار روپے دیئے جائینگے ۔ منظور کھٹانہ نے راجستھان میں غبارے فروخت کرنا شروع کئے اور اس کا نام بدل کر راجیش سنہا رکھا گیا اور کہاکہ وہ کسی کو یہ نہ بتائے کہ اس کا تعلق کشمیر سے ہے۔ منظور کھٹانہ کو جب حسب وعدہ ماہوار 7ہزار روپے نہیں دیئے گئے تو اسے احساس ہوا کہ اس کے ساتھ دھوکہ ہوا۔ منظور کھٹانہ وقت گزر نے کے ساتھ ساتھ اپنی مادری زبان اور تہذیب بھی بھول گیا اور دیار غیر میں رہ کر غبار ے بھیجنے پر مجبور ہوا اور راجستھان سے نکل کر کولکتہ پہنچ گیا جہا ں اس کا ان غبارے فروخت کرنے والوں کے ساتھ جھگڑا ہوا اور اسے انہوںنے اپنے ٹھکانے سے نکال دیا ۔منظور کو نہ تو کولکتہ کے ماحول کا پتہ تھا اور نا ہی شہر کے بارے میں کچھ جانتا تھا اور وہا ں در در کی ٹھوکریں کھانے لگا ۔اس دوران کولکتہ پولیس نے منظور کھٹانہ کو اپنی تحویل میں لے لیا اور اسے راجستھان پہنچاکر چائلڈ پروٹکشن سروس ضلع ڈوسہ راجستھان کے سپرد کیا ۔ چائلڈ پروٹکشن سروس نے منظور کی کئی ماہ تک کونسلنگ کی اور آہستہ آہستہ اسے اپنے آ بائی گائوں کا نام زبان پر آگیا اور اس بات کا اظہار کیا کہ وہ شمالی ضلع کپوارہ کے لولاب علاقہ سے تعلق رکھتا ہے ۔چائلڈ پروٹکشن سروس نے لولاب وادی جاکر کئی ماہ تک منظور کے بارے میں جانکاری حاصل کی اور وہ یہ جانکاری حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے اور پتہ چلا کہ منظور کا تعلق لولاب وادی کے بٹہ نا ڑ سے ہے ۔ گزشتہ روز راجستھان پولیس نے منظور کو کپوارہ پہنچایا اور مقامی پولیس کے حوالہ کیا ۔کپوارہ پولیس اور چائلڈ پروٹکشن سروس کپوارہ کے عہدیدارو ں نے جمعرات کی شام کو منظور کو بٹہ ناڑلولاب پہنچایا جہا ں اس کو گھر والو ں کے حوالہ کیا گیا جس کے بعد منظور کے گھر میں خوشی کی لہر دو ڈ گئی اوررشتہ دار اور گائو ں کے لوگ بہت خوش ہوگئے ۔منظور کھٹانہ کا بارہمولہ سے لاپتہ نے کی خبر جب گھروالوں کو ملی تو کافی تلاش کے بعد کوئی اتہ پتہ نہ ملنے پر 23اگست  2018کو منظور کی گمشدگی کی رپورٹ پولیس تھانہ میں درج کرائی گئی ۔منظور کا والد بھگو کھٹانہ لا علاج مرض میں مبتلا ہو گیا اور اپنے لخت جگر کی جدائی برداشت نہ کر سکا اور انتقال کر گیا ۔منظور کی والد ہ زلیخا بیگم نے جب اپنے لخت جگر کو دیکھا تو وہ رو پڑی اور بہت دیر تک اسے گلے لگا یا ۔ زلیخا کا کہنا ہے کہ اگر اس کا شوہر زندہ ہوتا تو وہ اپنے لخت جگر منظور کو دیکھ کر کتنا خوش ہوتے لیکن وہ منظور کی تلاش میں یہ دنیا چھو ڑ کر پہلے ہی چلا گیا ہے ۔زلیخا نے راجھستان پولیس کے ساتھ ساتھ چائلڈ پروٹکشن سروس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بدولت سے انہیں اپنا لخت جگر واپس مل گیا ۔