لور جہلم پاور پروجیکٹ بونیار تباہی کے دہانے پر

بارہمولہ // لور جہلم ہائیڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹ( ایل جے ایچ پی)کے نام سے موسوم چالیس برس پرانابجلی گھر تبا ہی کے دہانے پہنچ چکا ہے او ر یہ کسی بھی وقت بیکار ہوسکتا ہے جس سے ریاست کو اربوں روپے خسارہ ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ بجلی گھر کی تمام مشینری اور عمار ت خستہ ہو چکی ہے اورمتعلقہ محکمہ اوراعلیٰ حکام گہر ی نیند سوئے ہیں ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس بجلی گھر کی اہم مشینری جس میں مختلف صلاحیتوں کے ٹرانسفارمر ،پمپ، موٹرز، تاریں، پائپ، واش پایپیں،پریشر پمپز، ٹھنڈک نظام، دیواریں اور دیگر مشینری شامل ہیں، بشمول پروجیکٹ کی عمارت کافی خستہ ہو گئے ہیںتاہم سرکار اور متعلقہ محکمہ کے حکام خاموش بیٹھے ہیں اور بجلی گھر کی مرمت کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھائے جارہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق 105 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت والے اس بجلی گھر کی مشینری میں بجلی کی فراہمی کو برقرار رکھنے کیلئے مختلف صلاحیتوں کے بڑے ٹرانسفارمروں کی معیاد بھی ختم ہوچکی ہے اور وہ کبھی بھی کام کرنا چھوڑ سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان ٹرانسفامرں کی معیاد صرف  35سال تھی، تاہم چالیس برس گذ رچکے ہیں لیکن آج تک متبادل ٹرانسفامرنصب نہیں کئے گئے۔ اس بجلی گھر کو ضلع بارہمولہ کے سرحدی تحصیل بونیار اوڑی کے لمبرگاؤں میں 1977 میں تعمیر کیا گیا تھا اور اب اس بجلی گھر کی مشینری زائد المعیاددہو چکی ہے جبکہ محکمہ صرف اُنہیں پرزوں کو تبدیل کررہا ہے جو مکمل طور پر ناکارہ ہوچکے ہیں ۔محکمہ سے وابستہ ایک سرکاری ملازم نے کہا کہ پروجیکٹ معاہدے میں یہ بات درج تھی کہ آمدنی کا 20فیصد اس بجلی گھر کی مرمت پر خرچ کیا جائے گالیکن یہ اگریمنٹ صرف کاغذوں تک ہی محد رکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ پچھلے سال ایک ٹرانسفارمر کے جلنے سے عمارت کی دیواریں سیاہ ہو گئی ، اُس وقت سے ہم نے کئی بار محکمہ کو اس عمارت کا نئے سرے سے رنگ وروغن کرنے کیلئے پیسے واگذرا کرنے کی درخواستیں دیں لیکن محکمہ نے کوئی توجہ نہ دی ۔انہوںنے مذید کہا کہ کئی ماہ پہلے ایک مین پائیپ لائین میں سوراخ ہو گیا تھا جس کی وجہ سے لاکھوں روپے کی مشینری تباہ ہوگئی اور ہزاروں لیٹر ٹربائین تیل بہہ گیا ۔اس دوران اس بجلی گھر نے تقریباً بیس گھنٹے کام کرناچھوڑدیا اور سرکار کو اس میں لاکھوں روپے کا نقصان ہوا ، جوصرف سرکار کی لاپروائی کی وجہ سے ہوا ۔بجلی گھر کے ایک اورملازم نے کہا کہ اس بجلی گھر کی گانٹہ مولہ سے بمیار تک نو کلومیٹر لمبی کنال میں جگہ جگہ پانی ضائع ہورہا ہے جبکہ کئی جگہوں پر کنال اور دریائے جہلم کے درمیان صرف دس سے بیس فٹ کافاصلہ ہے اور حسب دستور سرکار اس معاملے میں خاموش ہے اور انہو ں نے کنال اور دریائے جہلم کے درمیان مضبوط دیوار بنانے کیلئے اب تک کوئی قدم نہیں اٹھا یا ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مین گیٹ جو کہ دریائے جہلم کا پانی کنال کی طرف موڑ تا ہے اس کی بھی معیاد پہلے ہی ختم ہوچکی ہے ۔اس کے علاوہ پاور ہاوس کا پُل بھی بیس سال پہلے غیر محفوظ قرار دیا گیا تھا ۔جبکہ کنال کی سڑک بھی خستہ ہوچکی ہے اور کنال کی اب تک تاربندی بھی نہیں ہوئی ہے جو سرکاری کی سراسر لاپروائی کا عکاس ہے ۔ بتایا جاتا ہے  کہ اگر یہ بجلی گھرناکارہ ہوجائیگا تو ریاست کو زبردست بجلی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا اور کروڑوں روپے کا خسارہ بھی ہوسکتا ہے ۔ گانٹہ مولہ سے بمیار تک کی آبادی نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس بجلی گھر کی تعمیروتجدید کی طرف فوری توجہ دی جائے تاکہ ریاست کا یہ قیمتی اثاثہ بھاری نقصان سے بچ سکے۔