لنچنگ کے اعداد و شمار

گزشتہچار سالوں میں مسلمانوں پر 250 سے زائد تشدد کے معاملے سامنے آئے ہیں جب کہ 65 لنچنگ کے معاملے ہوئے۔ پچھلے ایک سال میں لنچنگ کے واقعات میں تقریباً 30 لوگوں کی جانیں بھی جا چکی ہیں۔پارلیمنٹ میں ریاستی وزیر برائے داخلہ ہنس راج اہیر نے کہا تھا کہ مرکزی حکومت کے پاس لنچنگ (بھیڑ کے ذریعہ پیٹ پیٹ کر قتل) کے اعداد و شمار موجود نہیں ہیں، لیکن یہ درست نہیں ہے۔ جو اعداد و شمار جمع میڈیا کی وساطت سے منظر عام پر آچکے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ چار سالوں میں تقریباً 65 لنچنگ کے معاملے سامنے آئے ہیں۔ ’ڈسمینٹلنگ انڈیا‘ (منتشر ہندوستان) رپورٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی کے چار سال کا لیکھا جوکھا پیش کیا گیا ہے،اس میں مسلمانوں، قبائلیوں، دلتوں اور عیسائیوں کے خلاف کیے گئے تشدد کا سلسلہ وار اور تاریخ وار تفصیلات موجود ہیں۔ اس میں درج اعداد و شمار کے مطابق ملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کے تقریباً 371 وارداتیں ہوئیں جن میں سے 228 معاملوں میں مسلمانوں پر تشدد کیا گیا، پٹائی اور ان کا قتل وغیرہ ہوا۔ یہ اعداد و شمار صرف 3جولائی 2018 تک کے ہیں۔ اس کے بعد بھی کئی وارداتیں ہوئیں اور لگاتار ہو رہی ہیں۔ راجستھان میں ہوئی لنچنگ پر سپریم کورٹ میں یہ عرضی داخل ہو رہی ہے کہ ریاستی حکومت نے ملک کی عدالت عظمیٰ کی توہین کی ہے۔گزشتہ ایک سال کے دوران 9 ریاستوں میں لنچنگ کے تقریباً 30 معاملے ہوئے ہیں۔ کسی بھی معاملے میں انصاف ابھی تک نہیں ملا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ 30 فیصد سے زائد معاملوں میں مارے گئے شخص کے گھر والوں پر ہی الٹا کیس درج کیا گیا ہے جب کہ 5 فیصد واردات میں تو حملہ کرنے والوں کے خلاف کوئی معاملہ ہی درج نہیں ہوا۔ یہ سبھی اعداد و شمار موجود ہیں، اگر مرکزی حکومت چاہے تو ایک چٹکی میں تمام معاملوں اور اس میں کی گئی کارروائی کو ایوان میں پیش کر سکتی ہے، لیکن ایسا کرنے سے وہ بچ رہی ہے۔ اس کے برعکس مرکزی وزیر سے لے کر تمام ممبران پارلیمنٹ ان لنچنگ کو بھی وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف کی جا رہی’’ سازش‘‘ سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں اور بیان دے رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی 27 دسمبر 2017و ایوان میں موب لنچنگ کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں مرکزی وزیر داخلہ نے ایوان میں کہا تھا کہ 2017 میں صرف دو ہی لنچنگ کی واردات ہوئی، مہاراشٹر اور راجستھان میں۔ جب کہ ’انڈیا اسپینڈ‘ ویب سائٹ کے مطابق 2017 کے شروع کے چھ مہینوں میں صرف گئو کشی پر افواہ پھیلا کر 18 حملے ہوئے۔ 2017اس طرح کے تشدد کے لیے اب تک کا سب سے خراب سال رہا۔ ’انڈیا اسپینڈ‘ پر موجود اعداد و شمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان میں 2014 سے 20 جولائی 2018 کے درمیان گائے کے نام پر ہوئے تشدد کے کل 85 واقعات ہوئے جن میں 34 لوگوں کی موت واقع ہوئی۔
لنچنگ معاملے میں مرکز کی بی جے پی حکومت کے خلاف ماحول بن رہا ہے۔ این ڈی اے کی معاون پارٹیاں اس کے خلاف کھڑی بھی ہو رہی ہیں۔ شرومنی اکالی دل نے بھی لنچنگ کے خلاف آواز اٹھانے کا اعلان کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ایسا کریں گے ، چاہے بی جے پی سے اتحاد رہے یا ٹوٹے۔ راجستھان کے الور میں ہوئی لنچنگ کے واقعہ اور اس کے بعد پولس انتظامیہ و بی جے پی لیڈروں کے کردار کے خلاف آوازیں اُٹھ رہی ہیں۔ الور میں اکبر کا قتل راجستھان میں 2015 سے یہ پانچواں واقعہ ہے۔ سب واقعات میں ایک ہی پیٹرن ہے۔ اس سلسلے میں پی یو سی ایل کی کویتا شریواستو نے بتایا کہ چونکہ راجستھان ۔میوات کی پوری پٹی میں مسلمان بڑی تعداد میں دودھ کا کاروبار کرتے ہیں، گائے پالتے ہیں، اس لیے یہاں گائے کے نام پر ان سے وصولی کا بڑا ریکٹ چلتا ہے۔ ایک خوف کا ماحول تیار کرنے میں بی جے پی حکومت و پولس انتظامیہ کامیاب ہوئی ہے۔ اس سے بڑا افسوس اور کیا ہو سکتا ہے کہ یکم اپریل 2017 کو لنچنگ بھیڑ کے ذریعہ مارے گئے پہلو خان پر حملہ کرنے والے (جن میں سے کئی کا نام پہلو نے مرنے سے پہلے اپنے بیان میں لیا تھا) وہ چھوٹ گئے۔ ابھی بھی کئی مرکزی وزیر لنچنگ کرنے والی بھیڑ کے حق میں بیان دینے سے پرہیز نہیں کررہے ہیں۔واضح رہے کہ 30 مئی 2015 کو ناگور ضلع میں عبدالغفار قریشی، یکم اپریل 2017و پہلو خان، بہرور تھانہ، ضلع الور، 16 جون 2017 کو ظفر خان، پرتاپ گڑھ اور 10 ستمبر 2017کو بھگت رام مینا، نیم کا تھانہ، سیکر کو بھیڑ نے پیٹ پیٹ کر مار دیا تھا۔
