لدھیانہ میں 500کشمیری برسر رو زگار رو اں سال کرو ڑوں روپئے کے شالو ں کی خر ید و فروخت

 اشرف چراغ

 

لدھیانہ //پنجاب کے شہر لدھیانہ میں سردیوں کے دوران اپنا رو ز گا ر کمانے کیلئے کشمیر سے تعلق رکھنے والے 500سے زائدکشمیری قیام پذیر رہتے ہیں جن میں ایک سو کے قریب وہ لوگ ہیں جو شالوںکی بڑے پیمانے پر تجارت کرتے ہیں ۔اس وقت لدھیانہ میں کشمیریوں کی 80دکانیں موجود ہیں جن میں کشمیری شالو ں کے علاوہ گرم ملبو سات ملتے ہیں ۔شالو ں کی تجارت سے وابستہ کئی تاجرو ں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وہ اکتوبرکے مہینے میں اس شہر کا رخ کرتے ہیں اور اپنی دکانیں سجا تے ہیں ۔شال فروخت کرنے والے ایک بڑے تاجر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’میں لدھیانہ میں ایک چھو ٹا تاجر ہو ں لیکن اس سال میں نے 7کرو ڑ کی تجارت کی اور ان میں ایک کرو ڑکے شال واپس آگئے لیکن یہ ہر سال کا معمول ہوتا ہے ‘‘۔

 

انہوں نے کہا ’’ 6کرو ڑ میں کم سے کم 50لاکھ کا منا فع ہے‘‘ ۔مذکورہ تاجر نے کہاکہ اسی طرح باقی تاجر بھی کروڑوں روپے کا کا رو بار کرتے ہیں اور سب سے بڑا تاجر کم سے کم20کرو ڑ روپئے کی خرید و فرو خت کر تا ہے ۔انہو ں نے کہا کہ اس وقت لدھیانہ میں 80کے قریب شالو ں کی دکانیں ہیں اور ہر ایک تاجر نے اپنے ساتھ 4سے5نوجوان تعینات کئے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر نوجوان کو ان 6مہینو ں میں 70سے80ہزار روپئے اجرت دی جاتی ہے اور اس طرح 80بڑے تاجرو ں کے ساتھ کم سے کم 350نوجوان اپنا روز گار حاصل کرتے ہیں ۔اس کے علاوہ لدھیانہ شہر میں 2سو کے قریب وہ لوگ ہیں جو شال پھیری کر کے روزی روٹی کماتے ہیں ۔ایک شال پھیری والے نے کہاکہ وہ سردیو ں کے 6مہینو ں میں 12لاکھ کے شال فرو خت کرتا ہے اور 2سے 3لاکھ روپئے کماتاہے ۔انہوں نے کہا’’ میں اس کام سے مطمئن ہو ں کیونکہ مجھے 20سال لدھیانہ میں ہوگئے اور یہا ں اپنا روزگار کماتا ہو ں‘‘ ۔شالوں کے کارو بار کے ساتھ ساتھ ایسے درجنو ں نوجوان ہیں جنہو ں نے یا تو لدھیانہ میں ہو ٹل کھول رکھے ہیں یا پھر بادام ،نون چائے اور دیگر ضروریات زندگی کی دکانیں قائم کی ہیں ۔ایک نوجوان نے کہا ’’ مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے کشمیری لوگ جب اپنا کام ختم کر کے گھر جانے کی تیاری میں ہوتے ہیں تو ان کی دکان سے چائے خرید لیتے ہیں اور اس سے میرے کا رو بار میں مزید اضافہ ہوتا ہے‘‘ ۔انہوں نے کہاکہ’ اس سال میں نے 10کوئنٹل نمکین چائے کا کاروبار کیا اور اچھی خاصی کمائی ہوئی‘ ۔انہوںنے مزید کہا کہ جو کوئی کشمیری لدھیانہ شہر میں کارو بار کرتا ہے وہ خالی ہاتھ گھر نہیں لوٹتا ہے بلکہ پورے سال کا خرچہ کما کر ہی واپس چلا جاتا ہے ۔