لداخ میں چین کے 3فضائی اڈے موجود: ائر چیف

نئی دہلی// فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل وی آر چودھری نے کہا ہے کہ چینی فضائیہ اب بھی لائن آف ایکچول کنٹرول کے قریب اپنے علاقے میں تین فضائی اڈوں پر تعینات ہے ، لیکن یہ اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تیاریوں سے ہندوستانی فضائیہ پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ دہائی کے اختتام تک فضائیہ میں جنگی طیاروں کے سکواڈرن کی تعداد منظور شدہ 42 کے بجائے 35 تک پہنچ جائے گی۔پاکستان اور چین کے درمیان گٹھ جوڑ اتنی تشویش کی بات نہیں ہے اور فضائیہ دونوں محاذ پر بیک وقت کسی بھی ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے ، لیکن پاکستان سے چین میں مغربی ٹیکنالوجی کی منتقلی تشویشناک ہے ۔ایئر چیف مارشل نے کہا کہ 89 ویں یوم تاسیس سے قبل سالانہ پریس کانفرنس میں کہا کہ کچھ ممالک کی افواج ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتی ہیں اور ان کے افسران بھی بات چیت کرتے ہیں، ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور بات کرتے ہیں، ڈرنے کی کوئی بات نہیں لیکن مغربی ٹیکنالوجی کی پاکستان سے چین میں منتقلی تشویشناک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فضائیہ دو محاذ پر بیک وقت کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔لائن آف ایکچول کنٹرول کے قریب جب چین کی تیاری سے خطرے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ چینی فضائیہ اپنی علاقے میں تین فضائیہ کے اڈوں پر تعینات ہے ، لیکن ہم بھی کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کی انتہائی اونچائی سے مشن چلانے کی صلاحیت نسبتا ًکمزور ہے ۔انہوں نے کہا کہ تبدیل شدہ حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ملٹی ڈومین ایریا میں جنگ کرنے کی صلاحیت حاصل کریں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ طویل المنتظر S-400 دفاعی میزائل سسٹم رواں برس کے آخر تک روس سے مل جائے گا۔جب پاکستان اور پاک مقبوضہ علاقے میں بنی ہوائی پٹیوں کے بارے میں پوچھا گیا تو ایئر چیف مارشل نے کہا کہ یہ چھوٹی ہوائی پٹیاں ہیں اور یہ زیادہ تشویش کی بات نہیں ہیں کیونکہ یہ بنیادی طور پر ہیلی کاپٹروں کے لیے بنائی گئی ہیں۔