لداخ میں ملازمین کی ڈیپوٹیشن،رہنماخطوط جاری

بلال فرقانی

سرینگر// حکومت نے جموں و کشمیر کے ملازمین کی مرکزی زیر انتظام خطے لداخ میں تعیناتی کے لیے رہنما خطوط جاری کئے ہیں۔ حکام کی جانب سے جاری حکم نامہ میں انتظامی کونسل کی جانب سے لئے گئے فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے’’ اس معاملے پر تمام سابقہ احکامات کو یک طرف کرکے ’’مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے ملازمین کی لداخ میں تعیناتی کے لیے رہنما خطوط، کو فوری طور پر نافذ کرنے کی تاکید کی جاتی ہے۔‘‘ رہنما خطوط کے مطابق تمام انتظامی محکمے،محکموں کے سربراہاںکنٹرولنگ دفاترلداخ میں ڈیپوٹیشن و سروس کی مدت سے متعلق ملازمین کا ایک مکمل ڈیٹا بیس تیار کریں گے جبکہ لداخ میں ڈیپوٹیشن کی تجاویز پر کارروائی کرتے ہوئے، متعلقہ ملازمین کی اہلیت اور مناسبت اور سرکاری کام میں دلچسپی کو سب سے زیادہ ترجیح دی جائے گی اورجہاں تک ممکن ہو، ملازمین کی سہولت کا بھی خیال رکھا جائے۔

 

جاری کردہ رہنما خطوط کے مطابق جموں و کشمیر سے ملازمین جہاں تک ممکن ہو لیہہ،کرگل اضلاع ،سب ڈویڑنل ہیڈکوارٹر پر یا اس کے آس پاس تعینات کیا جائے گا جبکہ لداخ میں ملازمین کی ڈیپوٹیشن سے متعلق تمام تجاویز لداخ اور مذکورہ مرکز کے زیر انتظام علاقے سے کسی بھی واپسی کو، جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ، 2019 کی دفعات کے مجاز اتھارٹی کی منظوری حاصل کرنے کے لیے عمومی انتظامی محکمہ کو جمع کرایا جائے گا۔ رہنمائے خطوط میں بتایا گیا ہے کہ تدریسی عملے کے تبادلوں کا حکم صرف مالی سال کے پہلے مہینے یعنی ہر سال اپریل میں دیا جائے گا۔ تاہم، غیر معمولی صورتوں میں، تعلیمی سیشن کے اختتام پر یا تعلیمی سیشن کے دوران، لداخ کی انتظامیہ کی مشاورت سے۔تدریسی عملے کے تبادلوں پر غور کیا جا سکتا ہے ۔گائڈ لائنز میں کہا گیا جس ملازم، کی لداخ میں ڈیپوٹیشن کا حکم جاری کیا گیا ہے، اسے فوری طور پر فارغ کر دیا جائے گا اور جموں و کشمیر سول سروس ضوابط کے تحت فراہم کردہ جوائننگ ٹائم سے فائدہ اٹھانے کا اہل ہو گا۔مزید کہا گیا ہے کہ کسی بھی ملازم کولداخ سے واپس نہیں لایا جائے گا جب تک کہ متعلقہ محکمے کی طرف سے مناسب متبادل فراہم نہ کیا جائے۔سرکاری گائڈ لائنز میں کہا گیا ہے کہ ملازمین کو دو سال کی مدت کے لیے لداخ میں تعینات کیا جائے گا ۔ جس ملازم نے لداخ میں دو سال کی مقررہ مدت پوری کی ہے، اسے دوسری مدت کے لیے لداخ میں تعینات نہیں کیا جائے گا۔ تاہم، مناسب متبادل کی عدم دستیابی کی صورت میں اور لداخ کی انتظامیہ کی طرف سے کی گئی مخصوص درخواست کی صورت میں، انتظامیہ کے مفاد میں، کسی ملازم کو دوسری مدت کے لیے ڈیپوٹیشن پر غور کیا جا سکتا ہے۔رہنمائے خطوط کے مطابق دو سال سے کم کی بقایا خدمات رکھنے والے کسی بھی ملازم کو لداخ میں تعینات نہیں کیا جائے گا۔ غیر معمولی حالات میں، اور، اگر مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کی انتظامیہ کی طرف سے کوئی خاص درخواست کی جاتی ہے، تو دو سال سے کم بقایا خدمات رکھنے والے افسران کو لداخ میں ڈیپوٹیشن کے لیے غور کیا جا سکتا ہے۔رہنمائے خطوط میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی جسمانی طور پر معذور ملازم کو یونین ٹیریٹری میں تعینات نہیں کیا جائے گا۔ڈیپوٹیشن آرڈرز کی منسوخی یاترمیم کے لیے تجاویز، جہاں کہیں بھی حقیقی پایا جائے، متعلقہ انتظامی محکمے کو صرف اسٹینڈنگ میڈیکل بورڈ کی واضح سفارش موصول ہونے کے بعد پیش کیا جائے گا کہ ملازم طبی طور پر لداخ میں خدمات انجام دینے کے لیے نااہل ہے یا متبادل طور پر اس کی شریک حیات، بچے/ انحصار کرنے والے والدین اس نوعیت کی بیماری میں مبتلا ہیں جو اس کے گھر پر ملازم کی موجودگی لازمی ہے۔