لداخ میں فوجی تعطل ختم ہونے کیلئے پراُمید

فوج کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار:فوجی سربراہ

 
نئی دہلی//چین اور پاکستان کو ملک کی سلامتی کیلئے مشترکہ خطرہ قرار دیتے ہوئے فوج کے سربراہ جنرل منوج مکند نروانے،نے اُمیدظاہر کی ہے کہ مشرقی لداخ میںچین کے ساتھ فوجی تعطل دوطرفہ بات چیت کے ذریعہ برابر ی کی بنیاد پر دور کیاجائے گا۔جنرل نروانے ،نے تاہم یہ بھی کہا کہ فوج حقیقی کنٹرول لائن پر کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے اور’’قومی اہداف اور مقاصد کے حصول تک فوج کے قدم ڈٹے رہیں گے۔فوجی سربراہ15جنوری کو آرمی ڈے سے قبل ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔حقیقی کنٹرول لائن پر حفاظتی چیلنجز کے بارے میں پوچھے جانے پرانہوں نے کہا کہ شمالی سرحدوں پرفوجی تناسب پرنظرثانی کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے چین کے ساتھ لگنے والی سرحد پرتوجہ مرکوز کرنے کیلئے اقدامات کئے گئے۔ انہوں نے کہا ،’’مجھے یقین ہے کہ بات چیت اور بحث ومباحثے کے بعد ہم دوستانہ حل نکالنے میں کامیاب ہوں گے جوباہمی برابری کے اصول پر مبنی ہوگا۔انہوں نے کہا ،’’میں مثبت صورتحال کے بارے میں پُراُمید ہیںتاہم جیساکہ میں نے کہا ہم کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں‘‘۔ جنرل نروانے ،نے کہا ،’’ہم اپنے اہداف اور مقاصد کے حصول تک ڈٹے رہنے کیلئے تیار ہیں‘‘۔انہوں نے مزیدکہا،’’بھارتی فوج نہ صرف لداخ بلکہ پوری حقیقی کنٹرول لائن پر پوری طرح ہوشیاراور چوکنا ہے‘‘۔انہوں نے کہاکہ ہماری تیاریاں اعلیٰ معیار کی ہیں اور فوج کاحوصلہ بھی بلند ہے۔
جوکچھ بھی گزشتہ برس ہوا،اس سے ہماری تشکیل نو کی ضرورت اُجاگر ہوئی اورصلاحیتوں میں اضافہ کرنے کا موقع ملا‘‘۔ مشرقی لداخ کی صورتحال کے بارے میں پوچھے جانے پرجنرل نروانے،نے کہا یہ گزشتہ سال ہی کی طرح ہے اورجوں کی توں صورتحال میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے۔بھارت کو درپیش  مجموعی حفاظتی چیلنجزکاحوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین ملک کی سلامتی اوحفاظت کیلئے ایک زوردارخطرہ ہے۔انہوں نے کہا،’’اس میں کوئی شک نہیں پاکستان اور چین ملک کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیںاور اس کو نظراندازنہیں کیا جاسکتا۔وہ ہماری منصوبہ بندی  اور دفاعی حکمت عملی کاحصہ ہے،جب ہم اپنے منصوبے ترتیب دیتے ہیں۔‘‘
جنرل نروانے ،نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان دفاعی اور غیر دفاعی شعبوں میں تعاون میں اضافہ ہورہا ہے اور بھارت کو ممکنہ دو طرفہ محاذ کے خطرے کیلئے تیار رہناچاہیے ۔چین کی طرف سے گزشتہ سال فوج کی نقل وحمل کے بارے میں پوچھے جانے پر فوجی سربراہ نے کہا کہ یہ نیا نہیں تھا کیوں کہ وہ خطے میں تربیت کیلئے آئے تھے اوربھارت ان کی نگرانی کررہاتھاتاہم انہوں نے کہا کہ چین کی فوج کو پہلے نقل وحمل کا فائدہ تھا۔انہوں نے گزشتہ برس بھارتی فوج کی طرف سے متعدددفاعی چوٹیوں پرقبضہ کرنے کااشارہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے انہیں اگست میں حیران کیا کیوں کہ اُسوقت ہمیں پہلے نقل وحمل کا فائدہ تھا۔جنرل نروانے ،نے کہا کہ چین نے تربیت کے بعد گہرائی والے علاقوں سے فوجوں کو واپس بلایا ہے اورکہا کہ صف اول پر فوجوں کی تعیناتی میں کوئی کمی نہیں کی گئی ہے۔پاکستان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ دہشت گردی کو ملک کی پالیسی کے طور استعمال کررہے ہیں اور بھارت کا اس کا موثر طور مقابلہ جاری رکھے گا۔انہوں نے تاہم اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ دہشت گردی کو برداشت نہیں کیاجائیگا اورہم صحیح موقعہ اورصحیح جگہ پراس کاجواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس کاواضح پیغام ہم نے انہیں بھیجا ہے ۔