لداخ میں آمنے سامنے کھڑی ا فواج

نئی دہلی//بھارت نے کہا ہے کہ حقیقی کنٹرول لائن پر مشرقی لداخ میں جاری فوجوں کی واپسی کا مقصد چین کے ساتھ ٹکرائو کو ختم کرنا ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان انوارگ سری واستو نے ایک آن لائن میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ بھارت حقیقی کنٹرول لائن کااحترام کرنے کیلئے مکمل طور مخلص ہے اور یکطرفہ طور جوں کی توں حسب سابق حالت تبدیل کرناکسی طور قبول نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ حقیقی کنٹرول لائن پر بھارت کا موقف کسی طور  تبدیل نہیں ہوا ہے ۔ہم مکمل طور حقیقی کنٹرول لائن کاتقدس بحال رکھنے اور اس کا احترام کرنے میں مخلص ہیں۔حقیقی کنٹرول لائن کی جوں کی توں حالت یکطرفہ طور تبدیل کرنا کسی طور ہمیں قبول نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی کنٹرول لائن پر فوجوں کی واپسی’’پیچیدہ ‘‘ہے اور اس لئے غیرمصدقہ اورغلط اطلاعات سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔سری واستو نے بھارت اور چین کے سینئر کمانڈروں کے درمیان 14جولائی کو ہوئی بات چیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جاری عمل کے نفاذ کاجائزہ لیااور جلدسے جلد فوجوں کی مکمل واپسی کو یقینی بنانے کیلئے مزیداقدامات پرتبادلہ خیال کیا۔انہوں نے کہا کہ دونوں طرفین فوجوں کی مکمل واپسی کیلئے مخلص ہیں اورہندچین سرحد پر حقیقی کنٹرول لائن پر مکمل امن وامان کے خواہاں ہیں.۔انہوں نے کہا کہ دونوں طرفین سفاری اور فوجی سطح پربات چیت جاری رکھیں گے تاکہ مقصد کوحاصل کیاجائے۔فوجوں کی واپسی کے حوالے سے سری واستو نے کہا کہ طرفین اس بات پر متفق ہیں کہ مخصوص مقامات پرحقیقی کنٹرول لائن پراپنے اپنے اطراف فوجوں کو اپنے پوسٹوں پر دوبارہ تعینات کیاجائے۔یہ کارروائیاں طرفین باہمی طور اتفاق سے کریں گے اور جیسا کہ میں نے پہلے ہی کہا ہے کہ یہ ایک مسلسل عمل ہے اوردوطرفی دوبارہ تعیناتی کااورکوئی مطلب نہیں نکالا جاناچاہیے۔انہوں نے کہا کہ مشرقی سیکٹر میں جاری فوجوں کی واپسی کے عمل کا بنیادی مقصدٹکرائو اورحقیقی کنٹرول لائن پرفوجوں کی نزدیک سے تعیناتی سے بچنا ہے ۔