لاک ڈاﺅن سے مزدور طبقہ پریشان

 ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع میں ہفتہ وار کورونا کرفیو کو لے کر تجارت پیشہ افراد نے احتجاج کرتے ہوئے بندشیں ہٹانے کا حکام سے مطالبہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہفتہ کے روز سیول سوسائٹی و بیوپار منڈل کی جانب سے ڈوڈہ کی تحصیل گندوہ و چلی پنگل کے ملکپورہ میں احتجاجی مظاہرہ کیا جس دوران مظاہرین نے ہفتہ وار کورونا کرفیو پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عرصہ ڈیڑھ سال سے کاروباری افراد و مزدو طبقہ بری طرح متاثر ہوا ہے جبکہ مسلسل لاک ڈاﺅن میں سبزی فروشوں، چکن، گوشت و دودھ سپلائی کرنے والے افراد کو لاکھوں کی مالیت کا سامان تباہ ہوا ہے لیکن اس کی کسی نے بھرپائی نہیں کی۔ چیئرمین یونائٹڈ فرنٹ بھلیسہ محمد حنیف ملک نے اس موقع پر بولتے ہوئے کہا کہ ڈوڈہ ضلع اور باالخصوص بھلیسہ سب ڈویژن میں کوو¿ڈ 19 کے کافی عرصہ سے کوئی کیس نہیں آرہے ہیں لیکن اس کے باوجود ہفتہ وار کورونا کرفیو کے سلسلے میں بندشیں عائد ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ مقامی انتظامیہ دکانداروں کو ہراساں کر رہی ہے جو کہ ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار ٹھپ ہے، مزدور پیشہ افراد پریشان ہیں اور انتظامیہ نرمی کے بجائے سختی سے کام لے رہی ہے۔ نعمت اللہ وانی ایک سماجی کارکن نے کہا کہ بے روزگار لوگوں نے مختلف اسکیموں کے تحت بنکوں سے قرضہ حاصل کرکے کرائے پر دوکانیں لی ہیں لیکن کاروبار ٹھپ رہنے سے قسطیں اور نہ ہی دوکانوں کا کرایہ ادا ہورہا ہے اور اکثر چھوٹے تاجر پیشہ افراد ذہنی تناو¿ کا شکار ہو رہے ہیں۔ نوجوان سیاسی و سماجی کارکن چوہدری غلام رسول نے کہا کہ یوٹی کے بیشتر اضلاع سے بندشیں ہٹائی گئی ہیں لیکن ڈوڈہ ضلع میں ابھی تک بندشیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی سے لے کر تجارت پیشہ افراد متاثر ہوئے ہیں اور انتظامیہ انہیں ہراساں کر رہی ہے۔ مظاہرین نے لیفٹیننٹ گورنر و صوبائی انتظامیہ سے ڈوڈہ ضلع میں ہفتہ وار کورونا کرفیو ہٹانے و تجارت پیشہ افراد کی طرف سے بنکوں سے لیا گیا قرضہ معاف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔