لاک ڈائون کے مابعد

سرینگر// وبائی مرض نے کشمیر میں طلاب کے ذہنی و نفسیاتی تنائو اور مصائب میں اضافہ کیا ہے،جبکہ ماہرین تعلیم نے مشورہ دیا ہے کہ تعلیمی ادارے کھلنے کے بعد اس تنائو میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔جموں کشمیر میں گزشتہ برس مارچ میں کووِڈ کے پھیلنے سے پہلے ہی تباہ شدہ تعلیم کے شعبے کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا  پڑا۔وادی میں اسکول، کالج اور دیگر تعلیمی ادارے 2019  میںدفعہ370کی منسوخی کے فیصلے کے ساتھ ہی اگست میں بند کر دئیے گئے تھے۔ اس کے بعد سے تعلیمی ادارے مقفل ہوئے اور انٹرنیٹ پر قریب6ماہ کی پابندی سے مسابقتی و تقابلی  امتحانات کی تیاریوں میں مشغول طلاب کو ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑا۔گورنمنٹ ہائر اسکینڈر اسکول اننت ناگ کے پرنسپل ڈاکٹر منظور کا کہنا ہے کہ  ہر سطح پر تعلیمی اداروں کی مکمل بندش کا باعث بننے والے کویڈ لاک ڈائون نے معمول کا تعلیمی نظام خود بخود متاثر کیا اور پڑھائی کے نقصان کو کم کرنے کے لیے تعلیم کا طریقہ آف لائن سے آن لائن نظام پر منتقل ہو گیا ۔ انہوں نے کہاتعلیم کا یہ نیا معمول کسی بھی طرح سے عام تعلیمی نظام کا متبادل نہیں تھا جہاں طلبا ذہنی اور جسمانی طور پر اپنے اداروں میں داخل ہوتے ہیں اور اساتذہ کے مکمل اثر اور نگرانی میں ہوتے ہیں جبکہ اساتذہ طلبا کی ذہنی اور شخصیت کی نشوونما کے لیے نصاب کے عمل میں مدد کرتے ہیں۔ ڈاکٹر منظور جو اسکول ایمپلائز کارڈی نیشن کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں، کا کہنا تھا’’ہم آن لائن تعلیم فراہم کرنے کے لیے بھی اچھی طرح سے تیار نہیں ہیں، اس کے لیے نہ تو ہمارے اساتذہ تربیت یافتہ ہیں اور نہ ہی ان کے پاس سازوسامان دستیاب ہیں،یہاں تک کہ تمام طلبا ء کے پاس مطلوبہ سمارٹ فون نہیں ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت بحال ہونے کے باوجود ہم اس سے مستفید نہیں ہو سکیں گے۔ انکا کہنا تھااسکول بچوں کے لیے اہم کا کردار ادا کرتے ہیں۔ڈاکٹر منظور نے کہا کہ بچے کافی عرصے کیلئے اسکولوں سے دور ایک ایسے ماحول میں رہیں جہاں وہ خود کو قید محسوس کر رہے تھے تاہم تعلیمی ادارے کھلنے کے بعد  وہ ذہنی تنائو سے دور ہوںگے۔پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے صدر انجینئر غلام نبی وار کا کہنا ہے کہ الگ الگ لاک ڈائون کی وجہ سے نہ صرف طلاب کی پڑھائی متاثر ہوئی بلک تعلیمی اداروں کو بھی نقصان ہوا۔وار نے کہا’’ہمارے اسکول پچھلے 31ماہ سے مسلسل بند ہیں جبکہ کشمیر سے باہر کووڈ لاک ڈان کی وجہ سے تعلیمی اداروں کی بندش سے اس کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہماری کہانی بالکل مختلف ہے کیونکہ ہمارے سکول انٹرنیٹ کی مناسب سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے استاد کو آن لائن تدریسی نظام کی تربیت فراہم نہیں کر سکے۔انہوں نے کہا’’تعلیم ایک ارتقائی عمل ہے۔یہ ہر گھنٹے بدلتا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اب جب تعلیمی ادارے کھل رہے ہیں تو سرکار کو بھی چاہے کہ وہ طلاب کے ذہنی نشو نما کیلئے اقدامات کریں۔انجینئر وار نے کہا کہ کافی عرصہ بچے اسکولوں سے دور رہیں،جس کے نتیجے میں ان کے نفسیات پر منفی اثرات مرتب ہوے ہیں،اور ان اثرات کو دور کرنے کیلئے جہاں والدین کو اپنا کردار ادا کرنا چاہے وہی اسکولوں کے اساتذ ہ پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچے محنت سے واپس آسکتے ہیں اور اپنے تعلیمی نقصان کی تلافی کر سکتے ہیں۔ تاہم، جن بچوں کو’ پری ‘اسکولوں میں وقت گزارنے کا موقع نہیں ملا وہ دراصل میں محروم ہو گئے تھے۔ وار نے کہا  دنیا بھر میں بچوں کی نشوونما کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پری اسکولنگ اس عمر کے بچوں کی ذہنی نشوونما کو بڑھانے میں مدد کرتی ہے۔ پری اسکولوں میں، بچے اپنے والدین کی گود سے چند گھنٹوں کے لیے دور رہنے کے عادی ہو جاتے ہیں، جو بالآخر انھیں خود کے احساس کو تلاش کرنے میں مدد دیتے ہیں اور انھیں مطلوبہ سماجی اور جذباتی نشوونما اور طاقت فراہم کرتے ہیں۔محکمہ اعلیٰ تعلیم کے ایک لکچرار ڈاکٹر اعجاز احمد نے کہا کہ اتنے لمبے عرصے تک اسکولوں کی بندش کی وجہ سے طلبا کو جو نقصان ہوا ہے اس کی تلافی کا واحد طریقہ مدرسین کی استقامت اور محنت ہے۔ان کا کہنا تھا ’’ اسکول کی انتظامیہ ہو، اساتذہ ہوں، والدین ہوں، یا طلاب ، ہم سب کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بچے انٹرنیٹ اور موبائل فونوں کے عادی بن چکے ہیں اور اس کا بروقت اور معقول استعمال کرنے کیلئے بچوں کی نگہداشت اور نگرانی جہاں والدین پر لازمی ہے وہی اساتذہ بھی اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ڈاکٹر اعجاز کا ماننا ہے کہ بچے ایک گھٹن سی محسوس کر رہے تھے،جس سے انکے نفسیات پر منفی اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں،اور اس سب کچھ کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے مدرسین کو طلاب کے ساتھ اچھابرتائو کرنا چاہے۔