لاک ڈائون کے بعد لاک ڈائون سے تجارت کا شعبہ تباہ

سرینگر //کوروناوائرس متاثرین اور اموات میں اضافہ کے دوران لاک ڈائون پر لاک ڈائون نے کشمیری تاجروں کی کمر توڑ دی ہے کیونکہ ایک نئی اُمید کے ساتھ عید کیلئے دوبارہ قرض لیکر خریدا گیا مال بھی دوبارہ لاک ڈائون کی وجہ سے دکانوں میں پڑا سڑ رہا ہے ۔تاہم اس دوران معلوم ہوا ہے کہ سرکار جلد ہی غیر لاک ڈائون علاقوں میں تجارت کی بحالی کیلئے کوئی قدم دوبارہ اٹھا رہی ہے ۔ کووِڈ- 19کے باعث کشمیر وادی میں کاروباری مشکلات اور پابندیوں کے باعث ہر دن ڈیڑھ سو کروڑ کا نقصان تاجروں کو اٹھانا پڑرہا ہے۔ وہیں تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر حالت ایسی ہی رہی ،تو تیسری عید پر بھی وہ کچھ کمائی نہیں کر سکیں گے ،اور ان کا سارا مال ضائع ہو جائے گا ۔دنیا بھر کے ساتھ ساتھ اس وقت کشمیر کی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے اور سب سے زیادہ نقصان سیاحت ، تجارت ، ٹرانسپورٹ ، باغبانی ، صنعت وحرفت اور مال مویشی سے منسلک طبقہ کو اٹھانا پڑ رہا ہے ۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر باقی ممالک اور ریاستوں میں ایس او پیز کے تحت تجارت کھلی ہے اور انتظامیہ نے ٹیموں کو تشکیل دیا ہے ،تو صرف  کشمیرمیںاس طبقہ سے منسلک افراد کیلئے ہی کیوںپابندی ہے کیا کورونا کا خاتمہ دکانوں کے شٹر بند کرنے سے ہی ممکن ہے ۔کشمیر اکنامک الائنس کے چیئرمین محمد یاسین خان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ یہ تیسری عید ہے تاجر کچھ کمائی نہیں کر سکے ہیں ‘‘۔ انہوں نے کہا ’’اگر نجی ٹرایفک چل رہا ہے، آپ سیاحوں کو کشمیر بلا رہے، پارکیں کھول رہے ہیں ،تو پھر بازاروں کے شٹر کیوں نیچے ہیں‘‘ ۔انہوں نے کہا کہ صرف دکانوں کو بند رکھ کر کورونا سے نہیں نپٹا جا سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم مانتے ہیں، اموات  میں اضافہ ہورہا ہے، کیسز زیادہ آرہے ہیں، تو گرائونڈ پر کچھ لگ نہیں رہا ہے ، نجی گاڑیاں چل رہی ہیں،  قومی شاہراہ کھلی ہے ،تعمیراتی کام ہو رہے ہیں، صرف دکانوں کو ہی بند رکھا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم سب کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے کیونکہ پچھلے 11ماہ سے دکانیں بند ہیں صرف 20دن ہی ہم نے دکانیں کھولی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیول انتظامیہ کو اس پر غور کرنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ حکام ایس او پیز اور گائیڈ لائنز کولوگوں اور تاجروں کیلئے مشتہر کریں اور اس کے باوجود بھی اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرتا ہے ،تو اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جانی چاہئے ۔انہوں نے کہا سعودی عرب اور امریکہ میں بھی خلاف ورزی کرنے والوں پرجرمانہ عائد کیا جاتا ہے جبکہ ملک کی کئی ریاستوں میں بھی ایسا ہی کیا جاتا ہے، یہاں پر بھی ایسا ہی کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ عید آنے والی ہے اور اگر صورتحال ایسی ہی رہی تو صوتحال انتہائی تشویش ناک ہو جائے گی اور چھوٹے کاروباری جو پہلے سے ہی دانے دانے کے محتاج ہیں ،ان کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں ۔ہری سنگھ ہائی سٹریٹ سرینگر میں نیو پوائنٹ گارمنٹس کے مالک رفیق احمد زرگر نے کشمیر عظمی ٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا،’’ 5اگست سے قبل انہوں نے مال لایا تھا تاکہ وہ بڑی عید پر اس کو فروخت کر سکیں لیکن یہ مال ضائع ہو گیا اور اس مال سے کمائی کے بجائے ہمیں خسارہ اٹھانا پڑا ‘‘۔انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 کی تنسیخ کے لاک ڈائون کے بعد سردیوں کے موسم میں ہم نے گرمیوں کیلئے مال لایا تھااور یہ اُمید تھی کہ چھوٹی عید پر اس سے کوئی کمائی کر یں گے لیکن یہ مال بھی دکانوں میں ہی پڑا ہے اور اب دوبارہ تیسری بڑی عید کی اُنہیں اُمید تھی کہ وہ کچھ کمائی کریں گے اور کچھ دن لاک ڈائون کھلنے کے بعد انہوں نے قرض لیکر مال لایا ،تو پھر سے لاک ڈائون نافذکیا گیا جس کے نتیجے میں وہ ایک بار پھر پٹری پر آگئے ہیں ۔رفیق کا کہنا ہے کہ اس کی دکان میں اس وقت30لاکھ کا مال سڑرہا ہے کیونکہ لاک ڈائون کی وجہ سے خریداری کیلئے اس کے پاس کوئی بھی خریدار نہیں آرہا ہے ۔کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرنگ فیڈریشن کے ایک دھڑے کے صدر بشیر احمد راتھر نے بتایا ’’2008سے لیکر آج تک یہاں کا تاجر طبقہ کبھی ترقی نہیں کر سکا ۔انہوں نے کہا کہ پچھلی عید پر کچھ کمائی نہیں ہوئی، اب دوبارہ لاک ڈائون کر دیا گیا، تو یہ چھوٹے تاجر جنہوں نے پھر قرض لیا نئی اُمید کے ساتھ کہ وہ بڑی عید پر کاروبار کریں گے، لیکن لاک ڈائون نافذکرکے ان کی پریشانی میں اضافہ کر دیا گیا  ۔انہوں نے کہا کہ ان کی میٹنگ ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر سے ہوئی جس میں ان سے گذارش کی گئی کہ عید تک لاک ڈائون کو ہٹا دیا جائے اور تاجر طبقہ جس نے لاکھوں کا سامان  دوبارہ خریدا ہے ،وہ کمائی کرسکے کیونکہ اُن کے گھر کے چولہے ہی بجھ گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ تاجروں نے بیوپاریوں سے اُدھار پر مال لیا ہے،  اب دوبارہ اُن کو نقصان اُٹھانا پڑے گا ۔انہوں نے کہا کہ ڈی سی نے انہیں کہا کہ ان کی پہل پر ہم نے لاک ڈائون کھول دیا تھا لیکن اس دوران جو احتیاطی تدابیر اپنائی گئی تھیں، ان کو عملایا نہیں گیا اور وجہ یہ رہی کہ کووِڈ- 19 زیادہ پھیل گیا ۔انہوںنے اُمید ظاہرکی کہ بہت جلد اس سلسلے میں تاجروں کی ایک میٹنگ ڈی سی سرینگر سے ہو گی اور لاک ڈائون علاقوں کو چھوڑ کر باقی علاقوں میں تجارت بحال کی جائے گی ۔ہم انتظامیہ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم پہلے سے ہی ہدایات پر عمل کرتے تھے اور بھی کریں گے اور جس طرح سے کہا جائے گا، اس پر کھرا اُتریں گے لیکن دکانوں کو بند رکھ کر کووِڈ پر قابو نہیں پایا جا سکتا  ۔اس دوران معلوم ہوا ہے کہ تاجروں اور انتظامیہ کے بیچ تجارت کی بحالی کیلئے ایک میٹنگ جلد ہو رہی ہے جس میں تاجروں کو ایس او پیز او ر ہدایت کے حوالے سے آگاہ کیا جائے گا ۔کشمیر چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر شیخ عاشق نے بتایا کہ اس تعلق سے میری بات انتظامیہ سے ہوئی ہے اور انہوں نے یقین دلایا ہے کہ وہ ریڈ زون علاقوں کو چھوڑ کر باقی علاقوں میں تجارت کو بحال کرنے کیلئے کوئی حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں اور اُمید ہے کہ آج یا کل اس پر کوئی فیصلہ بھی لیا جائے گا۔ انہوں نے لوگوں اور تاجروں سے اپیل کی ہے کہ وہ حکام کی جانب سے جاری کی گئی ایس اوپز پر عمل کریں ،تاکہ تاجروں کو مشکلات پیش نہ آئیں ۔