لاکھوں مہاجر پرندوں کی آماجگاہ | شالہ بگ آبی پناہ گاہ کی اراضی سکڑتی جارہی ہے

راجا ارشاد احمد

گاندربل//گاندربل میں واقع مشہور آبی پناہ گاہ شالہ بگ کے ارد گرد اراضی ہر گزرتے وقت کے ساتھ سکڑتی جارہی ہے۔ یہ آبی پناہ گاہ 36 ہزار کنال پر مشتمل ہے جو وادی کشمیر کی دوسری آبی پناہ گاہوں کے مقابلے میں مہاجر آبی پرندوں کے لئے سب سے بڑی ہے جہاں ہر سال 10 سے 12 لاکھ مہاجر پرندے 3 سے 4 ماہ کے دوران قیام کرتے ہیں۔ شالہ بگ آبی پناہ گاہ کے ارد گرد علاقوں میں رہائش پذیر آبادی نے غیر قانونی اور ناجائز طریقے سے سینکڑوں کنال اراضی پر قبضہ کر لیا ہے جس کی وجہ سے وادی کشمیر میں موجود آبی پناہ گاہوں میں تین سے چار ماہ کیلئے سکونت اختیار کرنے والے لاکھوں مہاجر پرندوں کے لئے مشکلات پیدا ہورہے ہیں۔اسی طرح گاندربل کے نواحی علاقہ شالہ بگ آبی پناہ گاہ سرینگر کے ٹاکن واری سے گاندربل تک 36 ہزار کنال پر پھیلی ہوئی ہے۔وسطیٰ ایشیاء کے ممالک، تاشقند، روس، افغانستان، سائبیریا، چین سمیت دیگر ممالک سے نقل مکانی کرنے والے لاکھوں آبی پرندے تین سے چار ماہ کیلئے یہاںسکونت اختیار کرتے ہیں جن کی نمایاں آمد کا مشاہدہ کرنے کیلئے محکمہ جنگلی حیات تیاریوں میں مصروف ہیں۔ شالہ بگ آبی پناہ گاہ یہاں سردیوں کے مہینوں میں ہونے والی سالانہ ہجرت خطے کی قدرتی خوبصورتی اور ثقافتی رونق میں اضافہ کرتی ہے۔اکتوبر کے مہینے سے ہی یہ جانور شالہ بگ آبی پناہ گاہ کی ہجرت کرتے ہیں۔وسطی ایشیاء کے ممالک سے ہوا بازی میں اپنی فطری مہارت کے لیے مشہور یہ آبی پرندے کشمیر کا سفر کرتے ہیں۔آبی پرندوں کی پرواز لمبائی اور اونچائی میں ان کے قابل ذکر توازن کو ظاہر کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پرندے کشمیر کے ماحولیاتی نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اس بارے میں راشد نقاش ریجینل وائلڈلایف وارڑن نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا ’’ہم اس سال 10 سے 13 لاکھ نقل مکانی کرنے والے پرندے آنے کی توقع رکھتے ہیں۔مہاجر آبی پرندے ہر سال اکتوبر کے مہینے میں آنا شروع ہوتے ہیں اور مارچ کے آخری حصے تک ٹھہرتے ہیں۔ پچھلے سال کشمیر کی آبی پناہ گاہوں میں 12 لاکھ نقل مکانی کرنے والے پرندوں کی آمد ریکارڈ کی گئی تھی جو وادی کشمیر کے مختلف آبی پرندوں کے لیے موسم سرما میں افزائش گاہ کے طور پر خطے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ مہاجر آبی پرندوں کو غیر قانونی شکار سے بچانے کے لئے چھ مقامات پر کنٹرول روم قائم کئے گئے ہیں تاکہ آبی پرندوں کو غیرقانونی اور ناجائز طریقے سے شکار ہونے سے بچایا جاسکے۔شالہ بگ آبی پناہ گاہ کے انچارج محمد اشرف کابلی نے اس بارے میں بتایا کہ شالہ بگ آبی پناہ گاہ میں اس وقت ابھی مہاجر پرندوں کی تعداد فی الحال کم ہے۔ جیسے جیسے موسم بہتر ہوتا جائے گا ہم پرندوں کی تعداد میں اضافے کی توقع کرتے ہیں، ہمیں 10 سے 12 لاکھ پرندوں کی توقع ہے جو شالہ بگ آبی پناہ گاہ میں قیام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ 20اقسام کے یہ پرندے سال میں دو مرتبہ انڈے دیتے ہیں اور ان کی مادہ20سے22انڈے دیتی ہیں جن کی وجہ سے ان آبی پرندوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے‘‘۔