لاپتہ خواتین کے مسئلہ کی راجیہ سبھا میں گونج | تلاش کیلئے خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دینے کا مطالبہ

File Photo

یواین آئی

نئی دہلی//نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کی فوزیہ خان نے منگل کو راجیہ سبھا میں لاپتہ خواتین کا مسئلہ اٹھایا۔وقفہ صفر کے دوران ملک میں خواتین کی گمشدگی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے ان خواتین کو بیرون ملک اسمگل کئے جانے کا خدشہ ظاہر کیا۔ گزشتہ چند برسوں میں 10 لاکھ سے زیادہ خواتین لاپتہ ہو چکی ہیں۔ اس لئے حکومت کو اس حوالے سے عوامی بیداری مہم چلاکر لوگوں کو انسانی اسمگلروں کے بارے میں آگاہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منظم جرائم کے دائرے میں آتا ہے اس لئے اس سلسلے میں سختی کی جانی چاہئے۔ محترمہ خان نے خواتین کی تلاش کے لیے ایک خصوصی فورس بنائے جانے کا مطالبہ کیا۔کانگریس کے جی بی ماتھر ہیشم نے ایوان میں کسانوں کی خودکشی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ان کی فصلوں کی قیمت وقت پر ادا کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کیرالہ میں دھان کے کسانوں کو ادائیگی نہیں کی گئی ہے۔ جس کی وجہ سے کئی کسان خودکشی کر چکے ہیں۔ انہوں نے ایوان میں ایک کسان کی طرف سے خودکشی سے قبل لکھا گیا خط بھی پڑھ کر سنایا، جس میں کسان نے کہا کہ مزدوری نہ ملنے کی وجہ سے اس نے خودکشی کی ہے۔ کانگریس کے ممبر نے کہا کہ کسان فصل بونے سے پہلے قرض لیتا ہے اور صحیح وقت پر فصل کی قیمت نہ ملنے کی وجہ سے وہ خودکشی کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے اے اے رحیم نے موبائل لون ایپس کے چنگل میں پھنسے لوگوں کا مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ حکومت کو اس سلسلے میں موبائل لون ایپس پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عام لوگ موبائل لون ایپس کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔