لام پنچایت کے116قبائلی کنبے بنیادی سہولیات سے محروم | سڑک دستیاب نہ پانی ،حکام مسائل سے لاتعلق ،متاثرین انتظامیہ سے فریادی

رمیش کیسر

درہال//آزادی کے 75 سال گزرنے کے بعد بھی تحصیل قلعہ درہال کی لام پنچایت کے تحت 116 درج فہرست قبائل کے خاندانوں کو سڑکیں اور پانی جیسی بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کی گئیں۔کلر پٹرانی گونی کتھارا لوہا تحصیل قلعہ درہال کے تحت لام پنچایت کے 116 خاندان کٹھہ اور راجلی میں رہائش پذیر ہیں جن کا تعلق شیڈولڈ ٹرائب سے ہے۔ آزادی کے 75 سال بعد بھی حکومت نے انہیں سڑکوں اور پانی جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا ہوا ہے۔مقامی رہائشی یو محمد سائی خالد حسین محمد سالک حاجی صادق شبیر حسین وغیرہ نے بتایا کہ وہ اسی علاقے میں پچھلے 75 سال سے رہائش پذیر ہیں تاہم ان کے گاؤں میں ابھی تک سڑک اور پانی جیسی بنیادی سہولتیں حکومت کی طرف سے فراہم نہیں کی گئی ہیں۔انھوں نے بتایا کہ نوشہرہ کے لیڈروں نے ان سے صرف ووٹ مانگے ہیں۔انھوں نے مرکزی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جب کام سوبھاگیہ سکیم کے تحت لوگوں کو بجلی فراہم کرنا شروع کی، اس سے انہیں بجلی فراہم کی گئی۔ان لوگوں کے مطابق آج بھی وہ پرانے زمانے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جب کوئی بیمار ہوتا ہے تو اسے چارپائی پر بٹھا کر لے جایا جاتا ہے،پانی فراہم کرنے کے لیے 4 سال پہلے ایک پائپ بچھایا گیا تھا، وہ بھی پانی کا مسئلہ حل نہیں ہوا اور انہیں ندی نالوںیا چشموںسے پانی لاناپڑتا ہے۔انکاکہناتھا کہ ان کے گاؤں میں آج تک کوئی سرکاری اہلکار نہیں آیا۔انہوں نےلیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں پانی اور سڑک کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ اس حوالے سے اے ڈی سی نوشہرہ بابورام ٹنڈن سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ٹرانسفر ہونے کے بعد ایک ہفتہ قبل نوشہرہ آئےہیں اور جلد ہی باشندوں سے ملاقات کر کے حالات کے بارے میں دریافت کرنے کی کوشش کریں گے۔