لالچوک میں ’یوم پھیرن‘ منایا گیا

سرینگر//چلہ کلاں کی آمد پر روایتی لباس پھیرن پہنے کئی مردوزن سماجی کارکنوں اورتاجروںنے منگل کے روز تاریخی گھنٹہ گھر کے سامنے ’یوم پھیرن ‘مناتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ روایتی ملبوسات زیب تن کرنے کیساتھ ساتھ دیگر روایات کوبھی زندہ رکھیں ۔جموں وکشمیر اکنامک فیڈریشن ا اور کئی سماجی کارکنوں نے منگل کولالچوک میں واقع’ تاریخی گھنٹہ گھر‘ کے سامنے جمع ہو کر ’پھیرن ڈے‘ منایا۔’یوم پھیرن‘منانے کیلئے گھنٹہ گھرکے سامنے جمع ہوئے سماجی کارکنوں اوردیگرافرادجن میں کچھ خواتین بھی شامل تھیں ،نے کشمیری پھیرن پہنے ہوئے تھے اوروہ اس روایتی لباس کی اہمیت اورتاریخی افادیت کواُجاگر کرنے کیلئے یہاں جمع ہوئے ۔ ’پھیرن‘ پہنے ہوئے سماجی کارکنوںنے ہاتھوں میں پلے کارڈس بھی اٹھا رکھے تھے جن پر انگریزی زبان میں لکھاتھا’ ’پھیرن ہمارا لباس ہی نہیں بلکہ ہماری شان ہے‘، ’پھیرن پہننا ہماری روایت ہے‘، ’ہمیں پھیرن پہن کر اپنی ثقافت کو زندہ رکھنا چاہئے‘‘۔