لائوڈ سپیکر پر وعظ و تبلیغ

وعظ و تبلیغ کی اہمیت سب پر واضح ہے۔ بعض جدیدیت پسند لوگ کبھی کبھار خوامخواہ خطبا حضرات سے چِڑتے ہیں۔ لیکن ہمارے یہاں وعظ و تبلیغ کا عمل دہائیوں سے صوتی آلودگی کا سبب بن چکا ہے۔ لاوڈ سپیکر مساجد اور خانقاہوں کی اہم ضرورت ہے کیوں کہ اجتماعی عبادات کا یہ خاصا ہوتاہے کہ سماع باندھا جائے۔لیکن یہ سماع شرکا کے لئے بندھے تو بہتر ہے، جب سماع سماعت شکن ہوجائے اور ہر راہگیر شور سے خوف کھائے تو جان لیجئے کہیں پر کچھ غلط ہورہا ہے۔
 میں طویل مدت سے یہ سمجھ ہی نہ پایا کہ مسجد میں بیٹھے چند سو افراد کی تربیت کرنے کے لئے پورے علاقے کے کان کیوں پھاڑے جائیں۔اس مسلے کو ذرا تفصیلی پس منظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔  
انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ  اپنی تخلیقات، خیالات یا کمالات کی نمائش چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ لوگ بھی اْس کے کام کو دیکھیں، بات کو سْنیں ، اْس کی سراہنا بھی کریں اور اْس کے ساتھ اتفاق بھی کریں۔ انسانی فطرت میں اس لذتِ نمود کو ودیت کرنے میں مشیت الٰہی ہے کہ انسان اپنے گردوپیش سے بیزار ہوکر ہاتھ پہ ہاتھ دھرا نہ بیٹھے۔ شاباشی اور تعریف کی بھوک انسان کو اپنے عمل کو نکھارنے پر اْبھارتی ہے۔ لیکن کبھی کبھی یہ بھوک شکم سیری کی لت میں بدل جاتی ہے اور انسان نرگِسیت کا شکار ہوکر سماج اور معاشرے پر مسلط ہونا چاہتا ہے۔ 
انفرادی سطح پر مرضِ انا اور مرضِ اشتہار ہر طرح کے معاشروں میں موجود ہے۔ لیکن اجتماعی سطح پر اگر یہ مرض معاشروں میں داخل ہوجائے تو ہٹلر اور مسولینی جیسے سفاک پیدا ہوتے ہیں۔ اور پھر اگر مذہبی طبقے کو یہ روگ لگ جائے تو عام انسان کا جینا مشکل ہوجاتا ہے۔
فلسطین میں ایک لطفیہ بہت مشہور ہوا ہے۔بتایا جاتا ہے ایک شخص نے دوسرے سے کہا کہ ’’اسلام نہایت امن پسند دین ہے، لیکن اگر تْم اس بات سے انکار کروگے تو میں تْم کو قتل کردوں گا۔‘‘ 
ہر جمعہ کو مساجد کے منارے فلک شگاف وعظ سے گونجتے ہیں۔ اس قدر شور و غوغا ہوتا ہے کہ مسجد کے گردونواح میں لوگ واعِظ کی بات نہیں بلکہ گن گرج سْنتے ہیں۔ کئی لوگ نفسیاتی اْلجھن میں بھی پڑ جاتے ہیں، کہ وعظ کے شور پر بددل ہونے سے کہیں وہ گناہ گار تو نہیں ہوگئے۔ 
بیسویں صدی کے رْبع اول میں جب ہندوستان میں لاوڈ سپیکر کا استعمال ہونے لگا تو اْس وقت کے جید علما نے باقاعدہ فتوے جاری کرکے اسے حرام قرار دیا۔ عالم دین اور فقیہ مولانا اشرف علی تھانوی کی ’’امدادالفتاویٰ‘‘ میں لاوڈ سپیکر کی حرمت کے تین فتوے درج ہیں۔ یہاں تک کہ مولانا تھانوی اور مولانا شبیر احمد عثمانی کے درمیان اس بات پر اختلاف بھی ہوا کہ لاوڈ سپیکر کی وجہ سے نماز ناقص ہوجاتی ہے۔ یہ مسلہ اس قدر پیچیدہ مباحث کا موجب بن گیا تھا کہ مولانا تھانوی کی وفات کے بعد اْن کے شاگرد مفتی محمد شفیع نے اْستاد کا فتویٰ برقرار رکھا۔ برٹش انڈیا کی تقسیم کے بعد جب پاکستان بن گیا تو مفتی صاحب نے ریڈیو پاکستان سے رجوع کیا اور پوچھا کہ لاوڈ سپیکر آواز کو ریکارڈ کرتا ہے یا صرف بڑھاتا ہے۔ مفتی صاحب نے بعد میں لاوڈ سپیکر کے فتوے پر نظر ثانی کی اور اْن کے بعد کئی علما نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ فتویٰ دراصل لاوڈ سپیکر کے بارے میں ناقص معلومات کی وجہ سے صادر ہوا تھا۔ مسلم معاشرے میں بیس سال تک لاوڈ سپیکر پر چوٹی کے علما مناظروں میں مصروف رہے۔ 
موجودہ دور میں جس ڈھٹائی اور غیرذمہ داری کے ساتھ لاوڈ سپیکر کا استعمال ہوتا ہے، میرا گمان ہے کہ اکثر لوگ مولانا تھانوی کو دعائیں دیتے ہونگے اور خواہش کرتے ہونگے کہ کاش وہ فتویٰ برقرار رہتا اور خوامخواہ کی سمع خراشی سے نجات ملتی۔ 
مساجد جب مسالک میں تقسیم ہونے لگیں تو مساجد کے لاوڈ سپیکر بھی مزید شدت کے ساتھ بلندبانگ ہونے لگے۔ مسلکی کشمکش میں ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ لاوڈ سپیکر کی وجہ سے کسی کو تکلیف پہنچ سکتی ہے۔ جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جہاز کے شور، لاوڈ سپیکر کی بلند آواز یا بادل گرجنے سے حمل گر سکتا ہے، دل کی حرکیات اور قوتِ سماعت بھی بْری طرح متاثر ہوسکتے ہیں۔ 
اس کے علاوہ گھروں میں اکثر بچے امتحانات کی تیاری میں ہوتے ہیں۔ خاص طور پر فی الوقت آن لائن کلاسز ہوتی ہیں۔ وہ اس شورو غوغا سے کس قدر پریشان ہوتے ہیں یہ سبھی والدین پر واضح ہے۔ 
کیا لاوڈ سپیکر کے شور کو برداشت کرنا مذہبی واجبات میں ہے؟ کیا غیرمسلم کو بھی یہ برداشت کرنا ہوگا؟ پہلے وعظ اور پھرنماز بھی لاوڈ سپیکر پر؟ کیا منطق ہے اس اجتماعی رویے کی؟ کیا اجتماعی طور پر مسلم معاشرہ احساس کمتری کا شکار ہے؟ مسجد کی ایک یا دو منزل پر نمازیوں تک امام صاحب کی قرات یا تکبیر پہنچانے کے لئے ہم پورے علاقے کو سزا دیتے ہیں۔ اگر بیس سال میں تھانوی صاحب کا فتویٰ بدل سکتا ہے تو ہمارے موجودہ علما حضرات اس بارے میں ایک نیا فتویٰ بھی جاری کرسکتے ہیں۔کوئی مذہبی اجتماع محض دو سو لوگوں کی اصلاح کے نام پر ہزاروں کے کان کیوں پھاڑے؟ 
ہر روز مختلف اداروں میں سینکڑوں کانفرنسیں ہوتی ہیں، مباحثے ہوتے ہیں، تقاریر ہوتی ہیں۔ لیکن وہ باتیں آ ڈیٹوریم کی چار دیواری سے باہر نہیں جاتیں۔ یہ کون سی منطق اور کیا مجبوری ہے کہ مساجد کے لاوڈ سپیکر سْپرسانِک جیٹ کی طرح ہر جمعہ کو گرجیں۔ کہیں ہم اجتماعی نرگسیت کے شکار تو نہیں؟ کہیں مرضِ انا اور مرضِ اشتہار میں مبتلا ہوکر ہم ترویجِ دین کے نام پر دین کی اصل روح کو مجروح تو نہیں کررہے۔ 
ہمارے یہاں پولیوشن کنٹرول بورڈ کے نام پر باقاعدہ ادارہ ہے، جو رہائشی بستیوں میں معمولی کھلونے بنانے والی فیکٹری کی اجازت نہیں دیتا۔ کیا حکومت اس بارے میں کچھ نہیں کرسکتی۔ اجتماعی عبادت کا بھی ایک کوڈ آف کنڈکٹ ہونا چاہیے۔ اگر مسجد کے اندر عبادت ہورہی ہے تو اس کا ڈھنڈورہ نہ اخلاقی طور صحیح ہے نہ قانونی طور۔ حکومت کی مداخلت کے بغیر ہی اگر علما حضرات اس مسلے پر سرجوڑ کر بیٹھیں اور ایک لائحہ عمل جاری کردیں تو یہ سب سے بڑی خدمت ہوگی۔یورپ اور امریکہ میں چرچ تو نہیں گونجتے۔ بس جنوب ایشیا میں مندر اور مسجد کے لاوڈ سپیکر ہوا کو چیر دینے والے شور سے لوگوں کو بہرا کرنے پر تْلے ہیں۔ 
اس مسلے پر ہر ذی حس شہری، ہر ذی شعور عالم اور ہر ذمہ دار منتظم نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ غور کرے، کیونکہ نئی نسل ویسے بھی مذہب بیزاری کے جرثوموں سے متاثر ہورہی ہے۔ مذہبی وابستگی ایک فطری عمل ہوتا ہے، یہ کوئی سوداگری نہیں کہ پہلے میلہ لگایا جائے اور لوگوں کو شور شرابے سے رِجھایا جائے۔ 
رابطہ9469679449