قید و بند کا تازہ چکر بے سود:حریت ع

سرینگر//حریت (ع)نے جموںوکشمیر کی تازہ ترین سیاسی صورتحال کو از حد سنگین اور دھماکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ہند جموںوکشمیر پر اپنے تسلط کو دوام بخشنے کیلئے تمام بین الاقوامی مسلمہ اصولوں کی حدیں پار کررہی ہے اور پورے کشمیر میں خوف و ہراس اور عدم تحفظ اور شدید گھٹن کا ماحول قائم کیا گیا ہے۔بیان میں خبردار کیا گیا کہ جموںوکشمیر کے مستقل اور پشتنی باشندگی قانون State Subject Law 35A کے ساتھ کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ کے نتائج انتہائی بھیانک اورخطرنک ہونگے کیونکہ ریاست کے تینوں خطوں کے عوام اس بنیادی مسئلہ پر یک جٹ اور متحد ہیں اور اس کے خلاف کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائیگا۔بیان میں کشمیری عوام کیخلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈائون ،تازہ ترین چھاپوں ، ہراسانیوںاور گرفتاریوں کو ایک طویل سلسلہ شروع کرنے کیخلاف شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ گرفتاریوں کے تازہ چکر کے تحت سینئر مزاحمتی رہنما محمد یاسین ملک ، جماعت اسلامی جموںوکشمیر کے امیر ڈاکٹر عبدالحمید فیاض سمیت جماعت کے سینکڑوں سرکرہ عہدیداروں اور اراکین، دفاع جمعیت اہلحدیث سے وابستہ مولانا مشتاق احمد ویری اور ان کے درجنوں رفقاء کی گرفتاری قابل مذمت ہے ۔ بیان میں یہ بات زور دیکر کہی گئی کہ دھونس، دبائو، قدغنوں ، ہراسانیوں، گرفتاریوں، نظر بندیوںاور اعلانیہ و غیر اعلانیہ کرفیو اور پابندیوںکے نفاذ سے حکمرانوں کو نہ تو ماضی میں کچھ حاصل ہوا ہے اور نہ ہی آئندہ ممکن ہے۔