قیدیوں کے رشتہ داروں کا احتجاج

 سرینگر//سرینگر سنٹرل جیل میں قید اسیران کے رشتہ داروں نے پریس کالونی لالچوک میں احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ قیدیوں کے ساتھ نارواسلوک روا رکھا جارہاہے ۔ مظاہرین نے کہا کہ جیل کو بدنام زمانہ گونتاموبے قیدخانے میں تبدیل کیا گیا ہے اورجیل میں ہمارے لخت جگر محفوظ نہیں ہے ۔مظاہرین نے احتجاج کرتے ہوئے جیل حکام پر الزام عائد کیا ہے کہ جیل حکام قیدیوں پر مبینہ طور مظالم ڈھارہے ہیں اور ان کو بارکوں سے باہر نکال کر برہنہ کرکے پیٹا جارہا ہے ۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اُٹھارکھے تھے جن پر نعرے درج تھے کہ سنٹرل جیل میں ہمارے لخت جگر غیر محفوظ ہے ۔ مظاہرین میں خواتین و مرد وںکی بڑی تعداد موجود تھی جو سنٹرل جیل میں قیدیوں کے ساتھ کئے جارہے غیر انسانیت سلوک کے خلاف احتجاج کررہے تھے ۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ دنوں جیل میں پیش آئے واقعے کے بعد جیل حکام ہتھیار بند اہلکاروں سمیت جیل کی بارکوں میں داخل ہوکر قیدیوں کو مارتے ہیں ۔ مظاہرین نے کہا کہ جیل حکام شام کو بارکوں کو ایک ایک کرکے کھول کر قیدیوں کو مارپیٹ کا نشانہ بناتے ہیں اورطبی سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا ہے ۔مظاہرین کا کہناہے کہ رشتہ داروں کو بھی اپنے لخت جگروں سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے اور جو بھی ملاقات کیلئے جاتے ہیں ان کو جامہ تلاشی کے بہانے طرح طرح سے ہراساں کیا جاتا ہے ۔ (سی این آئی )