قیام امن کیلئے ملی ٹینسی کا خاتمہ ضروری بات چیت کے ماحول کیلئے پاکستان پہل کرے :ڈاکٹر فاروق

جاوید اقبال

مینڈھر// مینڈھر میں نیشنل کانفرنس کے سربراہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے امن کے قیام کیلئے ملی ٹینسی کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان پہلے ملی ٹینسی ختم کرے تاکہ بات چیت اور قیام امن کیلئے حالات پیدا ہوسکیں۔مینڈھر میں پارٹی کے پارلیمانی امیدوار میاں الطاف کی حمایت میں منعقد ہ ایک بھاری جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق نے کہاکہ وہ یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے سرحد پار سے نوجوانوں کے ہاتھ میں بندوق تھمائی اور جس سے ہمارے دشمن خوش ہوئے۔انہوں نے کہا کہ اس بندوق نے نیشنل کانفرنس کے کارکنان کو لہو لہان کیا اور ریاست کا امن پامال کیا۔ان کا کہنا تھا کہ امن کیلئے ملی ٹینسی کا خاتمہ ضروری ہے اور پاکستان اس بات کو سمجھے تاکہ بندوق بند ہو اور بات چیت کا راستہ ہموار ہوسکے۔اِس دوران انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ 25 مئی کو اپنے اپنے پولنگ سٹیشن پر جا کر ہل والے چناؤ نشان کا بٹن دبا کر بھاری اکثریت سے نیشنل کانفرنس کے امیدوار کو کامیاب بنائیں ۔اِس موقعہ پر اننت ناگ راجوری پارلیمانی حلقہ کے امیدوار میاں الطاف احمد لاروی نے لوگوں کے بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ راجوری پونچھ کے لوگوں کے ساتھ حدبندی کر کے ناانصافی کی گئی ہے کیونکہ اننت ناگ اُور راجوری پونچھ پارلیمانی حلقہ کا آپس میں کوئی لنک نہیں تھا کیونکہ چھ ماہ تک مُغل روڈ بند رہتی ہے۔ اُنکا کہنا تھا کہ آپ لوگوں کی وجہ سے مجھے اِس حلقہ کا اُمیدوار بنایا گیا کیونکہ کئی سياسی پارٹیوں کے لوگوں نے مجھے کہا کہ آپ جیسا کوئی امیدوار نہیں ہے لہذا آپ کو میدان میں اترنا چاہیے جس کے بعد میں نے فیصلہ لیا اور اب آپ لوگوں کو بغیر مہذب و ملّت مجھے ووٹ دینے ہیں تاکہ میں آپ لوگوں کی پارلیمنٹ میں جا کر بات کر سکوں۔ اِس دوران سابقہ ایم ایل اے جاوید احمد رانا نے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی سرکار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 2019 کے بعد اِن لوگوں نے ہماری ریاست کا نقشہ ہی تبدیل کر دیا جس کیلئے ہمیں ووٹوں کے ذریعہ جہاد کرنا پڑے گا۔ اُنکا کہنا تھاکہ اِس سے قبل بھی میں کہتا رہا کہ یہ دفعہ 370 اُور 35 اے کو بھی تھوڑیں گے جو انہوں نے کیا اور اب اگر دوبارہ حکومت اِن کی مرکز میں آتی ہے تو اب دوبارہ الیکشن نہیں ہونگے ۔اُنکا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کی تمام سیٹیں ہم جیتیں گے اور کہیں پر بھی ہمارے ساتھ کسی پارٹی کا مقابلہ نہیں ہے اور نہ انکا کوئی وجود ہے ۔