قیامِ امن کے لئے پرہیز گاری لازمی

آج حوادثات کا تسلسل ،فسادات کاطوفان ،دھماکوں کی بہتات ،کیس و مقدمات کی بھرماراور جرائم کا چلن ہے۔ آج کا ہر جرم پہلے سے خطرناک ، ہر واقعہ پہلے سے بھیانک، ہر حادثہ ہولناک و دہشت ناک ہے۔ آج کی دنیا خوف و دہشت کی زد میں ہے ، کوئی ملک اس سے محفوظ نہیں،کوئی خطہ اس سے مامون نہیں، اس لئے کہ آج کی سائنس و ٹکنالوجی نے جہاں زندگی کے دیگر شعبوںمیں زبردست انقلاب لایا ہے وہیں واقعات و حوادثات کی تکنیک  میں بھی کافی بدلائو لاکر رکھ دیا ہے۔ حادثہ چاہے چھوٹا ہو یا بڑا ہر ایک میں سائنس کے ہزاروں فارمولے موجودہیں، جرائم پیشوں کے ذہن و دماغ میں ٹکنالوجی کے سینکڑوں جواہر موجزن ہیں۔
عدالت چاہے مرکزی ہویا ریاستی ،چھوٹی ہو یابڑی، مقدمات و جرائم کی کثرت سے اسکی تمام فائلیں بھری پڑی ہیں ، قیس و مقدمات کی غیر معمولی ہجوم کی وجہ سے ججوں کو بروقت فیصلہ سنانے کی فرصت نہیں۔ چنانچہ ایک ایک واقعہ کا فیصلہ سنانے میں دسیوں ، بیسیوں سال لگ جاتے ہیں، جب تک مجرم یا تو مر چکا ہوتا ہے یا زندگی سے اسقدر مایوس ہوچکا ہوتا ہے کہ معمولی سزا کا بھی لائق نہیں رہ جاتا ہے۔
جرائم و حوادثات کی روک تھام اور دنیامیں امن کے قیام کے لئے نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین اقوامی طور پر پیش رفت ہوتی ہے۔اس کے لئے متعدد بار سربراہانِ مملکت کے مابین کانفرنسیں ہوتیں رہیں، کوششیں ہوتیں رہیںاور الگ الگ ملک کے لئے جدا گانہ منشوریں بھی تیار کی گئیں۔ بہت کچھ ہوا لیکن وہی نہیں ہوا جو ہونا چاہئے تھا۔ جرائم کی وجہ یہ نہیں کہ وہاں پولیس کی تعینات نہیں تھی، بم دھماکے اس لئے ہوتے کہ وہاں فوج کی کمی تھی؟ حوادثات کی بنیاد اس پر نہیں کہ حکومت کے پاس ہتھیار کی قلت ہے؟ اس کا سبب یہ نہیںکہ جرائم پیشوں کو ملکی آئین اور دفعات کا علم نہیں تھا۔بلکہ اس کی وجہ ہے کہ دل میں خوف خدانہیں ، حشر ونشر کا استحضار نہیں، قانون کا احترام نہیں اور انسانیت کا عنصر نہیں۔
اگر غو رکیا جائے ، تو جتنے بھی جرائم اور مصائب ہیں، وہ اللہ کے ڈر سے ہی ختم ہوسکتی ہیں۔ جرائم کو نہ پولیس روک سکتی ہے نہ فوج روک سکتی ہے اور نہ ہی ہتھیار روک سکتی ہیں، جب تک کہ دل میں ڈر اور خوف خدا وندی نہ ہوگا، آدمی جرائم سے باز نہیں رہ سکتا۔ اگر محض پولیس اور فوج کی طاقت سے جرائم کا سدباب ہوتا تو آج کی دنیا سب سے زیادہ متقی ہوتی، اسلئے کہ آج نہ فوجوں کی کمی ہے اور نہ پولیس کی کمی ہے اور نہ  ہتھیار وں کی قلت۔ بلکہ آج کل ایسے ایسے ہتھیار موجود ہیں کہ دنیا نے کبھی دیکھے بھی نہ ہوں گے۔ اگر ان ذرائع سے دنیا میں امن قائم ہو سکتا اور جرائم مٹ سکتے تو آج کی دنیا میں کوئی جرم باقی نہ رہتا، سب کے سب متقی اور پرہیزگار ہوتے، لیکن جتنی پولیس بڑھتی جاتی ہے اور جتنی فوج اور ہتھیار بڑھائے جاتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ جرائم بڑھتے جاتے ہیں۔ دنیا میں فسق و فجور ، مار دھاڑ، بد امنی، بد نیتی اور فسادات عام ہوتے جارہے ہیں۔ دنیا میں چاہے جتنی فوج کو بڑھادے، پولیس کی تعداد میں دوگنا اضافہ کردے بلکہ میں یہ بھی کہتا ہوں کہ ہرہر گھر میں ایک ایک مسلح پولیس کی تعیین کر دے پھر بھی دنیا میں امن وامان قائم نہیں ہوسکتا ، جب تک کہ دلوں میں خوف خدا کی پولیس ، اور تقویٰ و طہارت کی فوج پہرہ نہ دے ،اس وقت تک اس نفس امارہ کو دنیا کی کوئی طاقت ارتکاب جرم سے نہیں روک سکتی۔ لہٰذا سب سے بڑی پولیس جودلوں میں بیٹھی ہوئی ہے وہ خوف خدا وندی ہے، وہی تمام جرائم سے بچانے والی اور ہر طرح کی معصیت سے روکنے والی ہے، ورنہ دنیامیں جرائم روکنے کی کوئی صورت نہیں۔مثلاً گھر کے اندر ، تنگ و تاریک کو ٹھری ہیں، گناہ کے تمام دواعی موجود ، وہاں نہ کوئی پولیس نہ فوج، نہ ہی کوئی دیکھنے والا ۔ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتایئے کہ وہاں اگر کوئی جرم کرنا چاہے تو کونسی طاقت ہے جو اسکو روک سکے؟
حضرت یوسف ں سات کمروں کے اندر تھے، وہ بھی ہر دروازہ پر تالا، اس چہار دیواری کے اندر دو شخص حضرت یوسف عاور زلیخا کے علاوہ کوئی نہیں تھا، نہ کوئی سرکاری پولیس نہ ہی کوئی دربان؟ اور ایک طرف عیش و نشاط کے سامان، نفسانی جذبات پورے کرنے کے لئے ہر قسم کی سہولیتیں اور دلکش و ہوشر بائی کے سارے سامان جمع کرکے عزیز کی بیوی نے چاہا کہ یوسف ںکے دل کو ان کے قابو سے باہر کردے، دوسری طرف جوانی کی عمر ، قوت کا زمانہ ، مزاج کا اعتدال، تجرد کی زندگی یہ سب دواعی و اسباب ایسے تھے جن سے ٹکراکر بڑے سے بڑا زاہد کا تقوی بھی پاش پاش ہوجاتا ۔
گناہ و معصیت کے اسقدر اسباب و دواعی ہونے کے باوجود کونسی طاقت تھی جس نے عصمت نبوت کوتار تار ہونے سے بچا لیا؟ روایت میں آتا ہے کہ حضرت یوسف ں نے ایک لفظ ( معاذاللہ)خدا کی پناہ ، کہہ کر شیطانی جال  کے سارے حلقے توڑ ڈالے ، اور تقویٰ و طہارت کا ایک عدیم النظیر نمونہ دنیا کے لئے چھوڑ گئے۔
مثلاً ایک سنسان جنگل میں جہاں دور دور تک انسان کا نام ونشان نہیں لاکھوں روپیہ کا خزانہ ہے یا قیمتی سونے چاندی کی تجوری ہے، آپ کا وہاں سے گزر ہوا اس پر آپ کی نظر پڑی ، فطری حرص و حوس نے اندر ہی اندر میں چٹکیاں لیں، جی للچانے لگاکہ اتنی خطیر رقم سے برسوں کے خواب کو شرمندۂ  تعبیر کر لوں گا ، پھر نہ جانے یہ زریں موقع ہاتھ آئے نہ آئے آپ نے اسی نیت سے اُٹھا تو لیا،مگر …دل میں خوف خدا اور تقویٰ کی چنگاری نے کروٹ لی اس کی تپش اور حرارت نے رفتہ رفتہ ساری آرزوں کا خاکستر کرنا شروع کیا، اور آخر کار غالب آیا معاً آپ کو یہ سونچنے پر مجبور کردیا کہ کل خدا کے پاس کھڑا ہونا ہے (ولمن خاف مقام ربہ جنتٰن) وہاں بہتون کے متعلق سوال ہوگا تو اس مال کے بارے میں بھی ضرور پوچھ ہوگی ، کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ ذخیرہ اللہ نے میرے ایمان و یقین کے لئے امتحان و ازمائش کا ذریعہ بنایا ہو، اور میں اس میں ناکام ہورہا ہوں؟ یہ سب ایمانی سوالات نے اس کو وہی رکھنے پر مجبور کر دیئے، اب سونچئے اگر آپ کے دل میں خوف خدا نہ ہوتا اور وہ مال لیکر اپنے تصرف میں لے آتے تو کیاہوتا؟ کچھ نہیں ہوتا اسی لئے کہ وہاں نہ کوئی پولیس ، نہ فوج ، نہ حکومت کا کوئی مکبر، بہرحال ،ہر جگہ چاہئے وہ تنہائی کا موقع ہو یا اجتماعی کا، باطنی اخلاق ِ رذیلہ پر بریک لگانے میں تقویٰ ہی موثر ہوسکتا ہے۔خارجی پولیس ،فوج اور ہتھیار سے انسان کے باطنی شرارت کو روکنے میں کسی طرح بھی نہ مفید ہوئے ہیں نہ مفید ہونگے۔
انسان جبلی طور پر درندہ واقع ہوا ہے، مارکاٹ، چیرپھاڑ، اس کا خاصہ ہے۔ قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے کہ جب حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر اتارا گیا ، اور حضرت حوا بھی اتریں تو فرمایا۔ اھبطوا بعضکم لبعض عدو۔
جاؤ تم دنیا کے اندر اور ایک دوسرے کی دشمنی تمہارے اندر ڈال دی گئی ہے۔ ایک دوسری جگہ ہے۔اکثر شیٔ جدلا۔ انسان بڑا جھگڑالو ہے۔ پس معلوم ہوا کہ مار دھاڑ ، فتنہ فساد اس کی سرشت میں ہے، لہذا اس باطنی چیز کو باہر کی فوج و پولیس نہیں روک سکتی بلکہ اس کے لئے اسی طرح کی باطنی خوف ہو جو اس فطرت کو اندر ہی اندر پنپنے سے روک سکے اور وہ ہے تقوی، خوف خدا، آخرت کا استحصار۔
اسی لئے اسلام میں عقیدۂ آخرت ضروری قرار دیا ہے۔ جنت و دوزخ، حشر نشر، حساب وکتاب، جزاء و سزا، یہ سارے نظام خداوندی یونہی بیکار ہے نہیں بلکہ اسکا تعلق براہ راست انسان کی عملی زندگی سے ہے، یہی وہ عقیدہ ہے جو انسان کو احکام خداوندی کے مطابق زندگی گزارنے پر مجبور کرتا ہے ورنہ اس عقیدہ کے بغیر پورا نظامِ کائنات ہی بے سود ہوکر رہ جاتا ہے۔