قیادت ریلونٹ ہوگئی، تیار کب ہوگی؟

پی ڈی پی کے جنرل سیکریٹری نذیر احمد یتو نے نہایت چالاکی سے میرواعظ عمرفاروق کے ساتھ ملاقات کرکے بڑی سُرخیاں بٹور لی ہیں۔حالانکہ میرواعظ عمر نے فوری وضاحت کرکے بتادیا ہے کہ انہیں علم نہیں تھا کہ نذیر یتو پی ڈی پی کے ساتھ وابستہ ہیں،اور مسٹر یتو نے بھی صاف کیا ہے کہ وہ عام شہری کی حیثیت سے میرواعظ منزل گئے تھے،لیکن معاملہ یہاں ختم نہیں ہوجاتا۔اس سنسنی خیز خبر کا رُخ دیکھئے۔ یہ رُخ مین سٹریم سے مزاحمت کی اورہے۔ ایسا نہیں کہ کوئی حریت رہنما کسی مین سٹریم لیڈرکے ساتھ ملاقات کرتے ’’رنگے ہاتھوں‘‘ پکڑا گیا ہو۔ اور پھر جیسا کہ نذیریتو کا دعویٰ ہے کہ وہ اہم اور حساس معاملات پر میرواعظ صاحب کی مشاورت چاہتے تھے، تو یہ حالات کے رُخ کا تعین کرنے کے لئے کافی ہے۔حالانکہ کوئی مین سٹریم پارٹی ، جو اقتدار میں ہو، اور اقتدار میں اس کی شریک بھارت پر حکومت کرنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی ہو، اور اسی پارٹی کا جنرل سیکریٹری مزاحمتی خیمے کے ایک اہم رہنما کے گھر جاکر اُن سے ملاقات کرے، اور بعد میں کہے کہ وہ اُن سے عام شہری کی حیثیت سے ملے ہیں ، تو یہ عجیب لگتا ہے۔اگر واقعی محبوبہ مفتی یا ان کی پارٹی کی پولیٹکل افیئرز کمیٹی کو اس بات کا اعلم نہیں ہے تو تعجب ہے۔ اور اگر سرخیاں جم جانے کے بعد نذیر احمد میر کے خلاف نہ پی ڈی پی کوئی کاروائی کرتی ہے اور نہ بی جے پی شور مچاتی ہے، تو یہ دوگنا تعجب ہے۔سوال یہ ہے کہ اس نازک ترین مرحلے پر مین سٹریم خیمہ کو مزاحمتی کیمپ کی ضرورت آن پڑی ہے یا پھر کوئی سکرپٹ ہے جو دلی سے آیا ہے اور مقامی مین سٹریم کردار اس پر اداکاری کے جوہر دکھا رہے ہیں۔
میرواعظ عمرفاروق اپنی نرم گفتاری ،متانت اور سنجیدگی کے لئے مشہور ہیں۔گزشتہ دس پندرہ برسوں کے دوران کشمیر اور جنوب ایشیائی سیاست کی پیچیدگیوں سے بھی واقف ہوگئے ہیں۔ اُن کے بیانات میں بھی سیاسی سوجھ بوجھ دکھائی دیتی ہے۔اگر واقعی انڈین سٹیٹ کو لگتا ہے کہ میرواعظ کوئی کردار نبھا سکتے ہیں تو ظاہر ہے دلی والے انہیں یہ رول اپنی ٹرمز پر دیں گے۔ لیکن 2003کے مقابلے میرواعظ کا سیاسی قدکاٹھ بہت بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے گیلانی صاحب اور یاسین ملک کے ساتھ مفاہمت کرکے عبوری ہی سہی ایک اتحاد کے قیام میں رکاوٹ نہیں ڈالی۔
اُدھر بھارت کے مغربی شہر پونا میں سابق آئی بی چیف امرجیت سنگھ دُلت نے ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ عمرعبداللہ، تصدق مفتی اور میرواعظ عمر فاروق کو آپس میں مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنا چاہیے۔اُن کا کہنا تھا کہ اگر تصدق صاحب کو لگتا ہے کہ’’ بی جے پی کے ساتھ اُن کی شراکتِ اقتدار کی قیمت کشمیریوں کو اپنا لہو دے کر چکانا پڑے گی اور ان کی پی ڈی پی اور بھاجپا درحقیقت جرم کی تھالی کے چٹے بٹے ہیں، تو انہیں عمرعبداللہ اور میرواعظ عمر کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے۔‘‘  مسٹر دُلت کا دعویٰ ہے کہ میرواعظ، جونیئر عبداللہ اور تصدق مفتی ایسے تین نوجوان چہرے ہیں جو کشمیری لوگوں کے لئے بہت کچھ کرسکتے ہیں اور اگر تینوں نے بات چیت شروع کردی تو اس کے مثبت نتائج نکلیں گے۔ اس بیان میں بھی نہایت نپے تلے انداز میں عمرعبداللہ اور تصدق مفتی کو میرواعظ کے ساتھ نتھی کیا گیا ہے اور یوں لگتا ہے کہ نئی دلی کی گہری ریاست کو عالمی سطح پر قابل چہروں کی ضرورت آن پڑی ہے اور شطرنج پر بچھی نئی بساط پر جو پیادہ فوج تیار ہے، اسے لوگوں میں قابل اعتماد بنانے کے لئے مزاحمتی خیمے کا رُوٹ اختیار کیا جارہا ہے۔ 
مسٹر دُلت کا کہنا ہے کہ کشمیری جوآزادی مانگ رہے ہیں اُس کا مطلب بھارتی وفاق کے اندر اکامڈیشن ہے، اُس کا مطلب ہے بھارتی سسٹم کے تحت کشمیریوں کے لئے عزت ، وقار اور انصاف ۔ اُن لہجے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عمرعبداللہ اور تصدق مفتی اگر اپنے خانوادوں کے درمیان دیرینہ دشمنی کو دوستی میں بدل دیں تو کشمیر بھارتی وفاق میں بنا رہے گا، لیکن اس پروجیکٹ میں میرواعظ عمر فاروق کا کردار کلیدی ہے۔
پی ڈی پی کے نذیر یتو کی میرواعظ کے ساتھ ملاقات اور دُلت کی تازہ لنترانی کے پیچھے جو بھی ہو، لیکن اس کا ایک پہلو نمایاں ہے کہ کشمیرمیں سیاسی گرؤنڈ تیزی سے شفٹ ہورہا ہے۔مین سٹریم سیاست سے لوگوں کا اعتماد اُٹھ چکا ہے۔ یہ سب اپنی آنکھوں سے دلی کے پالیسی ساز دیکھ رہے ہیں۔اور پھر دُلت کی پیشن گوئیوں اور نذیر یتو کا میرواعظ منزل پر دستک دینا اس بات کا غماز ہے کہ نئی دلی کو احساس ہوچلا ہے کہ اس کے طفیلی سیاسی کردار کشمیرمیں بری طرح پِٹ چکے ہیں، اب ان ہی پٹے مہروں پر نئی ملمع سازی کے لئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ نئے اور نسبتاً کلین چہروں کو نوجوان مزاحمتی قیادت کا اعتماد حاصل ہے۔
یہ بات اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ دُلت نہ صرف یہ کہ حکومت میں کوئی پوزیشن نہیں رکھتے، بلکہ وہ واجپائی لابی کے ساتھ گردانے جانے پر اجیت ڈووال اور مودی کو ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ لہٰذا فی الوقت کشمیر سے متعلق اُن کی کوئی تجویز یا خواہش کوئی خاص وزن نہیں رکھتی، لیکن بھارت کی ڈیپ سٹیٹ میں دُلت کا اہم کردار ہے۔ مرحوم مفتی سید کے ساتھ اُن کی قربت کا علم سبھی حلقوں کو ہے۔اور پھرایسا صرف میرواعظ عمر فاروق کے ساتھ نہیں ہوا۔ اس خیمے کے ایک قدآور لیڈر محمد یایسن ملک کو بھی درجنوں مرتبہ اپروچ کیا گیا۔ گیلانی صاحب نے خود اعتراف کیا ہے کہ آئی بی کے لوگ ان کے گھر آکر ان سے ملے اور انہیں مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرنے یا ایجی ٹیشن معطل کرنے کی فہمائش کرتے رہے۔
آئندہ ایام میں ایسی کئی ڈیولپمنٹس ہوسکتی ہیں۔ لیکن بار بار ان سطور میں لکھا جاچکا ہے کہ مزاحمتی خیمہ آگ لگے پر کنواں کھودنے کے مصداق ایسے مواقع پر عجلت میں ردعمل ظاہر کرتا ہے جس سے بعض حلقے نہ صرف اس خیمے پر پاکستان کا پراکسی ہونے کا الزام دھرتے ہیںبلکہ یہاں تک کہتے ہیں کہ مزاحمت کی بھاگ ڈور نااہل لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔
یہ وقت سیاسی فعالیت اور صفوں کی درستی کا ہے۔اول تو جے آر ایل بینر تلے جو تین قائدین ہیں انہیں اپنے دوسرے ساتھیوں کو ساتھ ملاکر ایک برین سٹارمنگ نشست کرنی چاہیے کہ مستقل اتحاد کی کیا صورت ہو۔ ایسا نہ ہو کہ یہ اتحاد محض تین شخصیات کے گرد گھومتا رہے ۔ دوسرامسلہ سیاسی اور سفارتی سطح پر صلاحیت سازی کا ہے۔بالفرض اگر مشاورت کے دوران یہ طے پایا کہ نئی دلی یا مین سٹریم جماعتوں کے ساتھ مذاکراتی انگیج منٹ وقت کی ضرورت ہے، توسوال یہ ہے کہ کیا یہ قیادت اس قدر پُراعتماد ہے کہ وہ اس پر کوئی فیصلہ کرپائے گی؟کشمیرمیں سیاسی فیصلوں کی عوامی مخالفت کا ایک پیٹرن رہا ہے۔جب بخشی غلام محمد نے دلی کی دلنوازی کا علم بلند کیا تو شیخ عبداللہ ہندمخالف مزاحمت کار بن گئے۔ موجودہ وزیرخزانہ حسیب درابو نے کئی برس قبل گریٹر کشمیر میں ایک مضمون لکھا تھا۔ اُن کا استدلال تھا کہ اگر حریت کانفرنس (اُن دنوں حریت متحدہ تھی، اور آج ہی کی طرح ریلونٹ بھی)انتخابات لڑنے کا فیصلہ کرتی ہے تو نیشنل کانفرنس آزادی کا پرچم لئے سڑکوں پر ہوگی۔
میرواعظ عمرفاروق، یاسین ملک اور سید علی گیلانی کو احساس ہوگا کہ مزاحمتی قیادت ایک بارپھر ریلونٹ ہوگئی ہے۔ لیکن ضرورت اس احساس کی ہے کہ قیادت کو لہجوں کی پیچیدگیوں میں اُلجھے بغیر مناسب تیاری کرکے آئندہ چینلج کے لئے تیار رہنا ہوگا۔آج بھی یہ سوال اپنی جگہ تشنہ جواب ہے: قیادت ریلونٹ تو ہوگئی مگر تیار کب ہوگی؟ 
……………………….
بشکریہ: ہفت روزہ نوائے جہلم سری نگر