قوم کو خراب کرنا بدترین عمل

جب سے بی جے پی نے اقتدار سنبھالاہے، وہ ملکی عوام کو درپیش مسائل ، جن کا حل اُسے نکالناتھا کو یکسرچھوڑکرلوگوں کے ذہنوں سے اُن مسایل کونکالنے کے لیے کوئی نہ کوئی نیامسئلہ اُچھال دیتی ہے اورخود اپنے ایجنڈے پرعمل پیرارہتی ہے۔اس طرح یہ سلسلہ یہاں تک پہنچ گیاہے کہ جب ملک بھر میں سی اے اے، این آرسی اور این پی آر کے خلاف احتجاج ہونے لگے توجامعہ اور شاہین باغ وغیرہ کے پرامن احتجاج کوختم کرانے کے لیے  ہر طرح کے ہتھکنڈے اپنائے گئے۔ احتجاجیوں کوفرقہ وارانہ رنگ دینے کی ہرممکن کوشش کی مگر ہندو،مسلم،سکھ،عیسائی اوردلتوں نے ان احتجاجوں میںشریک ہوکر حکومت کوہلادیا۔تب ایک سوچی سمجھے منصوبہ کے تحت  اس کے خلاف ریلیاں کیں مگر اس میں وہ اپنی حمایت میں اتنی بھیڑنہیں جٹاپائی جس کے بل پر وہ یہ کہہ سکے کہ سی اے اے کی حمایت میں زیادہ لوگ ہیں۔ اصل میں اس وقت لڑائی جمہوریت اورکٹرہندوتوکے درمیان ہے۔ اس میں جوکامیاب ہواملک کاآئندہ نقشہ اسی سوچ کا مظہر ہوگا۔ لہٰذا حکومت کسی بھی طرح احتجاجوں کوختم کرنے کے لیے کسی بھی سطح تک جاسکتی ہے، جس کا قبل از وقت عام لوگ اندازہ نہیں لگا سکتے۔
تمام میڈیا میںدہلی فساد کی خبریںچھائی ہوئی ہیں۔اس میں اب تک 45لوگوں کی جانیں جاچکی ہیں اور300سے زائدلوگ زخمی بتلائے جارہے ہیں۔فساد کے دوران کے ویڈیوز بھی وائرل ہورہے ہیں۔ان میں ایک ویڈیوایسابھی ہے جس میں فسادیوں کے ساتھ دہلی پولیس بھی حصہ لے رہی ہے۔اسی کا نتیجہ ہے کہ جہاں جہاں مسلمان قلیل تعداد میںہیں، وہاں وہ اپنے گھروں کوچھوڑ کر ان علاقوں کارخ کررہے ہیں جہاں مسلم آبادی زیادہ ہے۔مگر گودی میڈیا تو کسی طرح اس فساد کو الٹے مسلمانوں پر ڈالنے کے لیے جتن کررہاہے ۔یوں تو دہلی فساد سے پورا ملک دہل گیاہے، مگریوپی اور ہریانہ کے مسلمانوں میںخاصی بے چینی دیکھی جارہی ہے۔ انھیں اس بات کا خوف ہے کہ کہیں شرپسندان کی بستی میںبھی فساد نہ پھیلادیں۔ 
اس فساد کامقصد سی اے اے اوراین آرسی کے خلاف ہورہے احتجاج ختم کرناہے۔حکومت احتجاج ختم کرانے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے اورکچھ بھی کرنے کے لیے تیارہے۔اس کے پاس پولیس،فوج اور لاکھوں کارکن تیاربیٹھے ہیں، جن کی تربیت آج کل آرایس ایس چیف ضلع ضلع گھوم کرکررہے ہیں۔ تعجب اس بات پر ہوتاہے کہ ملک کی 15فیصد آبادی کودونمبرکاشہری بنانے کی دھن میں بی جے پی اور آرایس ایس پورے ملک میں آگ لگانے کے لیے تیار دھائی دیتی ہے۔  اگرحالات ایسے ہی رہے تو کون ساملک یہاں تجارت کرنے آئے گا۔ویسے بھی ملک کی اقتصادیات کراہ رہی ہے، بے روزگاری عروج پر ہے، اشیائے خوردنی کی قیمتیں روز بروز بڑھتی جارہی ہیں اور حکومت لوگوں کومذہب کی افیون چٹاکر سارے ایسے کام کررہی ہے جس کو کوئی بھی انصاف پسند ہندوستانی پسند کی نگاہ سے نہیں دیکھے گا۔ہندوستان کی جمہوریت جسے مٹانے کے لیے نسل پرست لگے ہوئے ہیں، کبھی ختم نہیں کرسکتے۔ حکومت سوچتی ہے کہ جیسے جے این یوکے بچوں کو مارپیٹ کر اوردھمکی دے کرچپ کرادیا، اسی طرح کئی دوسرے علاقوں میں مظلوموںو مقہوروں کا خون بہا کر سی اے اے، این آرسی، این پی آر کے خلاف احتجاج کرنے والوں کوبھی ڈرادے گی، کیا ایسا ہوگا ،ایسانہیں دکھائی دیتا ہےبلکہ میں سمجھتاہوں کہ اس سے لوگوں کے حوصلے پہلے سے زیادہ بلند ہوں گے۔آج تک جتنی ہلاکتیں ہوچکی ہیں،ان میں ہندومسلمان دونوںہیں۔ یہ فسادیوں نے نہایت سوچ سمجھ کر کیا ہے۔دونوں فرقے کے لوگوں کومارکریہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ مسلمانوں نے بھی ہندوؤں کوماراہے۔ جب کہ سچائی یہ ہے کہ یہ کام صرف اور صرف فسادیوں نے ہی انجام دیے ہیں، اس میں عام ہندویاعام مسلمان کاکوئی رول نہیںہے۔سوشل میڈیا کے مطابق اس کے لیے پورے پلاننگ کے ساتھ 25-30لوگوں کا گروہ ہرعلاقے میں بھیجاگیاتھا، جہاں پران لوگوںنے کھل کرتانڈوکیا۔ حالانکہ سوشل میڈیامیں یہ بھی خبریں وائرل ہوئی ہیں کہ فسادیوں نے مذہب جاننے کے لیے لوگوں کے کپڑے تک اُتروائے، مگر یہاں بھی ان بیمارذہنیت کے لوگوں نے یہی پیغام دینے کی کوشش کی کہ ان کے نشانے پر صرف مسلمان تھے، مگر ایسانہیں ہے، سبھی لوگوں کو انھوں نے ہی ماراہے،کیوں کہ خبروں کے مطابق زیادہ تر لوگوں کی موت گولی لگنے سے بتائی جارہی ہے۔فسادیوں نے اس کے ذریعہ لوگوں کو یہ میسیج دیاہے کہ ہندوؤں کے مارنے والے مسلمان ہیں تاکہ ہندوؤں کو مشتعل کیاجاسکے اورانھیں مزیدفرقہ وارانہ فسادکے لئے اُکسایاجاسکےلیکن دہلی کے نہایت عوام سمجھ دارہیں۔انھوں نے ایک دوسرے کے فرقے والوںکو پناہ دے کراوران کی جان بچاکرفسادیوں کو بتادیا ہے کہ وہ انسانیت کے ساتھ ہیں، مذہب کے نام پر کی جانے والی کسی بھی سازش کا وہ حصہ نہیں ہیں اورنہ ہی وہ دہلی میں ایساہونے دیں گے۔ 
شمال مشرقی دہلی میں جوفسادات ہوئے، یہ اس کی ابتدا ہے۔اس وقت پولیس سے لے کر تمام اداروں پربی جے پی کاقبضہ ہے۔ حدتوتب ہوگئی جب انصاف کے مندر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کو بھی حکومت اپنے قبضے میں کرناچاہتی ہے مگراس میں کام کرنے والے بہادر اور ایمان دار ججوں نے حکومت کے سخت دباؤ کے باوجود کئی ایسے فیصلے کیے جوسچائی اورحقیقت پرمبنی تھے۔ تازہ واقعہ دہلی ہائی کورٹ کاہے۔دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس ایس مرلی دھر نے26فروری کودہلی فساد پرسنوائی کرتے ہوئے دہلی پولیس کوان لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے آرڈر دیے جنھوں نے مشتعل انگیزبیانات دیے تھے۔ یہی نہیں عدالت نے پولیس کو ان بیانات کی ویڈیوز بھی دکھائی مگر اس سے پہلے کہ آرڈرپرعمل ہوتا، انھیںراتوں رات پنجاب وچنڈی گڑھ ہائی کورٹ میںٹرانسفر کردیا گیا۔اس پر راہل گاندھی کاکہناہے کہ ’مجھے اس وقت بہادراوربے باک جج لویا کی یادآرہی ہے۔‘ مطلب یہ کہ اس وقت ملک کے حالات نہایت ناگفتہ بہ اورخطرناک ہیں۔ 
بی جے پی کو سوچنا چاہیے کہ سیاسی مسئلوں کا حل مارکاٹ، دھونس اور دھمکی نہیں ہے بلکہ سیاست کامسئلہ سیاست سے ہی طے ہوتا ہے۔ یہ سمجھنا کہ فساد وں صرف ایک طبقے کانقصان ہوگابالکل غلط ہے،اس سے ملک کے تمام لوگوں کا نقصان ہوگا۔سی اے اے اور این آرسی کے خلاف احتجاج اپنی نئی نئی شکلوں میں ظاہرہوں گے۔ دہلی فساد 2002کے گجرات ماڈل کانمونہ لگتاہے،جس کو پورے ملک میں آزمانے کے لیے سی اے اے، این آرسی، این پی آر کاپینتراکھیلا گیاہے، تاکہ ہندوستان میں اٹلی کے مسولینی یانطشے کے فلسفے پرعمل کیاجاسکے۔ جانبدار میڈیا نےاپنی پوری طاقت سے فساد میں حکومت کی ناکامی کو چھپانے کے لیے اس کے رخ کو اپوزیشن کی طرف موڑدیاہے۔ کیسی بے انصافی ہے کہ جن لوگوں کے گھراوردکانیں جلی ہیں اورجن کا نہایت بے دردی سے خون بہایاگیا ان پر اس فساد کی ذمہ داری بھی تھوپ دی جائے۔موجودہ سرکار سےتو اسی بات کی امید کی جاتی ہے کہ جہاں پر ایمان دارججوں کونہیں بخشاجارہاہے وہاں پرعام لوگوں کے ساتھ انصاف کیسے ممکن ہے؟ 
���
   صدر’مرکزعالمی اردومجلس‘بٹلہ ہاؤس،جامعہ نگر،نئی دہلی25-
موبائل نمبر؛9971730422، [email protected]