قوم پرستی !

موجودہ دور کا ایک زبردست المیہ اجتماعی اور سیاسی بلکہ نفسیاتی اور تربیتی میدانوں میں مذہبی اخوت کی جگہ قومی عصبیت ہے اور اس قومی عصبیت یا قوم پرستی کو اس وقت اور زیادہ مہمیز دی جاتی ہے جب مسلمانوں کی عام زندگی سے اسلامی اخوت کے رشتہ کو کمزور کرنا مقصود ہو۔وطن کی محبت ایک ناقابل انکار حقیقت ہے اور اپنے وطن کا دفاع ایک لازمی فریضہ بھی۔لیکن وطن پرستی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انسان اپنے دین سے رشتہ توڑ دے یا اپنے ربّ سے کئے گئے عہد وپیمان ہی کو توڑ دالے۔
اْمت ِ اسلامیہ پر موجودہ دور کی استعماری یلغار کا ایک بدترین نتیجہ اسلامی وحدت و اخوت کے قلعہ میں شگاف پڑنا اور اس میں انتشار برپا ہونا ہے۔آج پوری اْمت چھوٹی چھوٹی قوموں اور ایک دوسرے سے نفرت کرنے والے فرقوں میں تقسیم ہوچکی ہے،اِسی قومی عصبیت نے انہیں چھوٹی چھوٹی امارات اور مملکتوں میں محصور کردیا ہے۔اس سے قبل مسلمان ایک اْمت تھے اور اسلام نے اْن کی شیرازہ بندی کی تھی لیکن اب استعمار نے عربوں اور مسلمانوں کو قومیتوں کے چھوٹے چھوٹے دائروں میں تقسیم کردیا ہے۔ایک انسان کے مکمل جسم کا تصور کیجئے اور پھر اْس کے ایک ایک عضو سے الگ الگ کیجئے کہ تم اپنی سوچوں اور دوسرے اعضاء کی فکر کرنا چھوڑ دو ،ایسے میں جبکہ ہاتھ ایک مْلک ہو اور پائوں ایک دوسرا مْلک ،آنکھ ایک مْلک اور کان کوئی دوسرا مْلک ،دل اور دماغ میں کوئی رشتہ نہ رہے اور نہ ہی دل اور اس کے اعضاء￿  کے درمیان کوئی تعلق۔کیا یہ کام زندگی بخشنے والا کوئی ڈاکٹر کرسکتا ہے یا قتل کا ارادہ کرنے والا کوئی بے رحم قصائی ؟ یورپ کے بازیگروں نے یہ منصوبہ بنایا اور پھر اس خاکہ میں رنگ بھر دیا۔جب جسم کے ان منتشر اعضاء میں حرکت پیدا ہوئی اور انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی کوشش کی تو استعمارنے پھر سے وہی پْرانا فسوں پھونک کر انہیں باور کرایا کہ تم محفوظ ہو ،عیش کرو ،اوروں کی کیوں فکر کرتے ہو،افسوس! یہ قومی عصبیت خود کشی نہیں تو اور کیا ہے؟
اس المیہ کی اصل جڑ ہے ،تنگ نظر قوم پرستی اور اسی مہلک مرض نے اسلام کو لہولہان کردیا ،یہ تنگ نظر اور تنگ دل قوم پرستی انسانیت کے لئے ہی کلنک ثابت نہیں ہوتی ہے بلکہ اسلام کے موجودہ دور میں اسلام کی موجودہ حالت میں یہ ایک گناہ بن کے سامنے آئی ہے۔اسی تنگ و تاریک راستے سے ملتِ نے اپنے عزیز علاقوں کو بیرونی حملہ آوروں کے حوالہ کردیا ،دراصل نئے حملہ آوروں کو وہ نکتہ رسا مِل گیا تھا جس تک رسائی قدیم صلیبی قوتوں کو نہیں ہوئی تھی،انہوں نے اسلام کے خلاف اْس کی عظمت کو پاش پاش کرنے کے لئے اْسے حصے بخرے کرنے کے لئے اور اس کے مستقبل کو تاریک کرنے کے لئے سب سے کامیاب نسخہ یہ دریافت کیا کہ مسلمانوں کے دِلوں میں سے ایمان کی لذت او بندوں اور اللہ کے تئیں ان کے حقوق سے خالی کرکے ان میں قوم کی پْر فریب محبت بھر دی جائے،یہاں تک کہ وہ  اپنے دل و دماغ کی صدا بھی نہ سْن سکیںاور جب نوبت یہاں تک پہنچ جائے تو پھر اللہ کے لئے نہ تو پہلے ہی کچھ رہ جائے گا اور نہ ہی بعد میں کچھ باقی بچے گا۔اس مردود استعمار نے جسے ہم سے شدید بیر ہے اور جسے ہمارے ماضی حال او مستقبل سے نفرت ہے ،مسلمانوں کے اندر یہ نئی نفرت ا?میز سوچ اور جذبہ کو ابھارا ہے۔انہوں نے قومی نعروں اور علاقائی فِتنوں کے سہارے اسلامی وحدت کے شیرازے کو پاش پاش کر ڈالااور اس طرح انہوں نے وہ کام انجام دے ڈالا جو وہ فوجوں اورہتھیاروں سے نہ کرسکے تھے۔
مغربی قوموں نے تو مشرقی ملکوں پر یلغار کے وقت دین کو ایک مستقل عنصر مانا اور دین ہی کے جھنڈے تلے تمام یورپی قوموں کو یکجا کیا  جبکہ اسلامی ملکوں میں اسی دینی عنصر کو بالکل ہی خارج کردیا گیا۔چنانچہ تاریخ موجود ہے کہ الجزائر کے مسلمانوںسے یہ کہا گیا کہ وہ افریقی مسلمانوں کی بربادی پر نہ تو آنسو بہائیں اور نہ ہی کوئی قدم اٹھائیں ،اِسی طرح مصر میں اسلام کو نشانہ بنایا گیا تو عراقیوں سے کہہ دیا گیا کہ نہ تو وہ شور مچائیں اور نہ ہی کوئی اْلٹی سیدھی حرکت کریں۔اس طرح قدیم چیزوں سے گلو خاصی اور خالص وطن پرستی کا اصل نشانہ صرف اور صرف اسلام اور مسلمان بنے۔
پوری انسانیت کے لئے نسخہ ٔ کیمیا قرآن نے مختلف اسلامی قوموں کے درمیان وحدت کا جو تصور صدیوں تک برقرار رکھا اب معدوم ہوچکا ہے اور اسلامی قوم اب مختلف قومیات میں بٹ کر رہ گئی ہے۔تْرک مسلمان ترکی نسل کے لوگوں کو ایک جھنڈے تلے بْلا رہے ہیں تو عرب کے علمبردار عربوں کو متحد کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔یہ تمام لوگ اس عالمی رنگ کو بھول چکے ہیں جو مذہب اسلام کی بنیادوں میں موجود تھا ،محدود اور تنگ قومی معرکہ آرائیوں سے عالمی توحید کے عقیدے کو جو کاری ضرب پہنچی ہے وہ اب پوری انسانیت کے مستقبل کے لئے بہت بڑا خطرہ بن چکی ہے۔اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ قومیت کا سہارا لئے بغیر انسانی آزادی کو نہ تو قائم کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی برقرار رکھا جاسکتا ہے۔قدیم جاہلیت کی طرف واپسی اور وطن ،رنگ اور خون کاا ندھا تعصب گمراہی کی ہی ایک قسم ہے جو ہم مسلمانوں کو کسی بھی طرح زیب نہیں دیتی،یہ واپسی اسلام اور مسلمانوں کے لئے زبردست نقصان دہ ہے اور جدید یورپی استعمار کے لئے بہت ہی سود مند۔
’’آج پوری زمین پر مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیاں ہورہی ہیں ،صلیبی طاقتوں کی طرح صیہونیت بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کررہے ہیں،مْٹھی بھر یہودیوں نے اپنی زمین پر پناہ دینے والے مظلوم فلسطینیوں کا قافیہ تنگ کر رکھا ہے،وہ جب چاہیں انہیں گاجر مولی کی طرح کاٹ سکتے ہیں اور اقوام عالم خاموش تماشائی بن کر امریکہ کی اس ناجائز اور سر پِھری اولاد کی اس دیدہ دلیری کی پسِ پردہ حوصلہ افزا/ئی کررہی ہیں اور اس چھوٹی سی یہودی ریاست کے ارد گرد کھڑی مسلمان مملکتیں توسیع پسندانہ عزائم رکھنے والے دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد مْلک امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانے اور خوشامد کرنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں‘‘۔
ایک عرصہ سے مسلمان پے درپے مصائب و آلام سے گذر رہے ہیں اور درد سے سِسک رہے ہیں،آخر کیوں؟کیونکہ تنگ نظر اور تنگ دل قوم پرستی کے علاوہ ہماری موجودہ صورت حال یہ ہے کہ ہم وبائوں سے ڈرتے ہیں ،امراض سے گھبراتے ہیں ،بَلائوں کی دہشت ہمارے دلوں میں سمائی ہوئی ہے ،مادہ پرستی ،شہوت پرستی ،ہر جگہ قوت کے سامنے سرنگوں ہوجانا ،خواہشات کی بے قید اطاعت ،لہو لعب میں انہماک ،ذہنی تسکین و آرام طلبی،قیادتوں اور کھوکھلے نعروں کی اندھی تقلید ،حقائق سے پردہ پوشی ،بار بار کے تجربات سے عبرت نہ حاصل کرنا ،اْمیدوں اور آرزئوں کی بے لگامی،سیاسی اورغیر سیاسی لیڈروں اور رہنمائوں کی تقدیس اور ان کے بارے میں غلطیوں سے معصومیت کا اعتقاد جیسے مہلک امراض میں مبتلا ہیں،جو ہمارے لئے کہیں زیادہ خطرناک و تشویش ناک ہیں اور جس نے ہمارے دلوں کو سخت اور ہماری آنکھوں کو اندھا کردیا ہے۔
موجودہ دور کے نت نئے المیوں سے دوچار ہم مسلمان پھر بھی عبرت حاصل کرنے سے محروم ہیں کیونکہ ہمارا ضمیر مْردہ ہوچکا ہے اور اس نے اپنا کام کرنا چھوڑ دیا ہے ،ضمیر کا کام ہے احتساب اور غلطیوں کی گرفت خواہ وہ اپنے بھائی یا باپ سے سرزَد ہوتی ہوں یا کسی ذی وقار پیشوا اور رہنما سے۔ضمیر جب بے حس و حرکت ہوجائے ،اجتماعی اور قومی ضمیر سے زندگی کے آثار ناپید ہوجائیں اور جب قوم سے محاسبہ کی صلاحیت اورجر أت ختم ہوجائے تو کیا اس سے بڑھ کر اور کسی المیہ کا تصور ممکن ہے؟ اصل معیار ہے قلب اور ضمیر ،جب قوموں میں اتنی ہمت اور جرأت نہ ہو کہ اپنے قائدین کی غلط کاری پر انہیں ٹوک سکیں تو ایسی بے حس قوموں کو جو سَر پھیرا بھی چاہے غلام بنا سکتا ہے اور ہر جاہل اور احمق اْن کی عزت و شرف کے تانے بانے بکھیر سکتا ہے جیساکہ موجودہ صورتِ حال ہمارے سامنے ہے۔
رابطہ۔احمد نگر سرینگرکشمیر
فون نمبر۔9697334305