قومی تنخواہ جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کا نفاذ سبکدوش جوڈیشل افسران کے فیملی پنشن پر نظر ثانی

بلال فرقانی

سرینگر// حکومت نے جموں کشمیر میں اپنی خدمات انجام دینے والے سبکدوش جوڈیشل افسروں کے حق میں دوسرے قومی تنخواہ جوڈیشل کمیشن کی پنشن کے جائزے و فیملی پنشن سے متعلق سفارشات کو یکم جنوری2016سے نافذ العمل لانے کا فیصلہ کیا ہے۔محکمہ خزانہ کا کہنا ہے’’جموں و کشمیر کے جوڈیشل افسروں کے سلسلے میں پنشن،فیملی پنشن، اضافی پنشن،گریچیوٹی اور ریٹائرمنٹ کے دیگر فوائد پر نظرثانی کے سلسلے میں دوسرے قومی جوڈیشل تنخواہ کمیشن کی سفارشات کو یکم جنوری2016سے لاگو کرنے کی منظوری دی ہے ‘‘۔ محکمہ خزانہ کے پرنسپل سیکریٹری سنتوش ڈی وادھا کی جانب سے جاری آرڈر میں کہا گیا ہے کہ جوڈیشل افسر، جو یکم جنوری2016کو یا اس کے بعد سبکدوش ہوئے یا فوت ہوئے، انہیں ریٹائرمنٹ کے وقت نکالی گئی آخری تنخواہ کے بالترتیب 50فیصد اور 30فیصد پر پنشن،فیملی پنشن کی اجازت دی جائے گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یکم جنوری2016سے قبل سبکدوش ہوئے اعلیٰ جوڈیشل سروس کے براہ راست بھرتی ہونے والوں کو’ بار‘ میں برسوں کی مشق کا فائدہ زیادہ سے زیادہ دس سال تک پنشن اور دیگر سبکدوشی فوائد کا حساب لگاتے ہوئے دیا جائے گا ۔محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ اضافی پنشن کا یہ فائدہ تمام اہل پنشنروںوفیملی پنشنروں کو یکم جنوری2016سے دستیاب ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ پنشن وفیملی پنشن کی نظرثانی شدہ شرح پر بقایا جات کی ادائیگی یکم جنوری2016 سے کیا جائے گا اور 25اپریل2018کے گورنمنٹ آرڈر نمبر 233-F کے تحت پہلے ہی ادا کر دئے گئے 30فیصد کی شرح سے عبوری ریلیف کی ایڈجسٹمنٹ کے بعد کیا جائے گا جبکہ بقایا رقم فوری طور پر ادا کی جائے گی۔محکمہ خزانہ کے پرنسپل سیکریٹری نے بتایا’’یکم جنوری2016سے لاگو ہونے کے ساتھ فوت و سبکدوشی گریجویٹی کی زیادہ سے زیادہ حد نظر ثانی کر کے20لاکھ روپے کر دی جائے گی‘‘۔