قومی ترانے پر کھڑا نہ ہونے کا شاخسانہ

حیدر آباد //حیدر آباد کے ایک سنیما گھر میں قومی ترانہ بجائے جانے پر کھڑا نہ ہونے کی پاداش میں بارہمولہ سے تعلق رکھنے والے 3کشمیری طلباء کوگرفتار کرکے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے، تاہم انہیں ضمانت پر چھوڑ دیا گیا۔حیدر آباد تلنگانہ کے الحبیب کالج آف انجینئرنگ میں بی ٹیک کی تربیت حاصل کررہے3کشمیری طلباء سنیچر کو ’’بریلی کی برفی‘‘ نامی ہندی فیچر فلم دیکھنے کیلئے راجندر نگر پولیس اسٹیشن کے تحت آنے والے علاقے میں قائم ایک سنیما ہال میں گئے ہوئے تھے۔ان طلاب کی شناخت جمیل گل، عمر فیض اور مدبر شبیر کے طور پر ہوئی ہے اور ان کا تعلق شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع سے ہے۔ سنیما انتظامیہ نے پولیس میں اس بات کی شکایت درج کروائی کہ فلم شروع ہونے سے قبل جب ہال میں قومی ترانہ بجایا گیا تو تینوں کشمیری طلبہ مبینہ طور اس کے احترام میں کھڑے نہیں ہوئے ۔ڈپٹی کمشنر آف پولیس شمس آباد زون پی وی پدماجا نے بتایا کہ تھیٹر انتظامیہ نے یہ شکایت کی جب ہال میں موجود سبھی لوگ کھڑے ہوئے تو تین کشمیری طلبہ نہ صرف اپنی نشستوں پر بیٹھے رہے بلکہ انہیں ایک دوسرے کے ساتھ مذاق کرتے اور ہنستے ہوئے بھی دیکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس طرح تینوں قومی ترانے کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں۔چنانچہ سنیما انتظامیہ کی شکایت کی بناء پر تینوں طلاب کے خلاف پولیس اسٹیشن راجندر نگر میں قومی وقار سے متعلق1971کے قانون کی دفعہ2کے تحت باضابطہ کیس درج کیا گیا۔پولیس نے فوری طور حرکت میں آکر تینوں کو حراست میں بھی لیا، تاہم بعد میں انہیں ضمانت پر چھوڑ دیا گیا۔ تینوں طالب علموں نے پولیس کو بتایا کہ وہ فلم’’بریلی کی برفی‘‘ دیکھنے کیلئے تاخیر سے سنیما ہال میں داخل ہوئے جہاں اندھیرا چھایا ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ جب قومی ترانہ بجایا گیا تو وہ ابھی اپنی نشستیں تلاش ہی کررہے تھے اور فوری طور اپنا رد عمل ظاہر نہیں کرسکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہال میں بیٹھے ایک پولیس آفیسر نے انہیں پیچھے سے آواز دی جس کے بعد وہ کھڑے ہوئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات کی جارہی ہے۔