قومی آواز ۔ایک دبستان ِ صحافت تبصرہ

ڈاکٹر ابرار رحمانی

معروف صحافی سہیل انجم کی ایک کتاب’ جدید اردو صحافت کا معمار اور قومی آواز‘ میرے سامنے ہے اور میں خیالوں میں گم ہوں۔ تصور کی اُڑان مجھے 1982 میں لے جاتی ہے۔ یادش بخیر!تین ماہ میں نے قومی آواز میںگزارے ہیں۔ یہ تین ماہ میری تعلیمی زندگی کا بیش بہا زمانہ ہے اور سچی بات تو یہ ہے کہ میں نے صحافت میں اگر کچھ بھی اپنی موجودگی درج کرائی ہے تو اس میں قومی آواز کابھی ہاتھ ہے۔ اگر قومی آواز سے آپ کو ایک سر ٹیفکیٹ عطا کردیا جائے تو آپ سندیافتہ صحافی کا درجہ حاصل کرلیتے ہیں۔ روزنامہ اخبار تو بہت سے نکلے لیکن کسی کو ایک دبستان کا درجہ حاصل نہیں۔ مجھے اس بات کا احساس ہے کہ میں نے اگر وہاں تین ماہ نہیں گذارے ہوتے تو شاید میںعملی صحافت کی بہت سی بنیادی باتوں کو جاننے سے محروم رہ جاتا۔ قومی آواز کے تعلق سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ غریبوں، پریشان حالوں اور پردیسیوں کا مسیحا تھا۔ وہ ایسے لوگوں کی دست گیری کرتا رہا ہے اور بے سہاروں کا سہارا بھی رہا ہے۔ آپ قومی آواز کے کار کنان کی فہرست اٹھاکر دیکھ لیں وہاں کئی بے سہارا اور مفلوک الحال لوگوں کے نام مل جائیں گے۔ قومی آوازنے حقیقی معنوں میں قوم کی آواز کا فریضہ انجام دیا ہے گویا اخبار کا نام اسم بامسمیٰ تھا۔ اس دعویٰ کو قومی آواز نے ثابت کر دکھایا تھا۔ اردو صحافت میں اس نے اپنا ایک مقام بنایا۔ وہ مقام جو اس کو اس کی کار کردگی کی بنا پر حاصل ہوا۔
سنہ 1982 سے میری کئی یادیں وابستہ ہیں۔ایک یہ کہ میں نے جے این یو میں ایم اے میں داخلہ لیا، دوسرے یہ کہ میرے والد اسی سال مرحوم و مغفور ہوئے اور تیسرے یہ کہ میں اپنی پریشانی اور معاشی بدحالی کا شکار ہوا۔ ان دنوں قومی آواز کے شعبۂ ادارت میں سید اجمل حسین کام کررہے تھے۔ مجھے تین سو روپے ماہانہ پر وہاں بحیثیت پروف ریڈر کام کرنے کو کہا گیا اور میں کام کرنے لگا۔ قومی آواز میں میں نے تین ماہ کام کیا۔ بروقت تنخواہ تو نہیں ملی البتہ وہاں ایک اسکول کاماحول ملا۔شور شرابہ، دوڑ دھوپ،اب کون سا صفحہ کھولنا ہے ، کیا لکھنا ہے، کیا پڑھنا ہے اور کیا جمع کرنا ہے ۔ کسی اسکول میں یہ تو عام بچوں کے لیے ایک روٹین ورک ہے۔ قومی آواز ان معنوں میں ایک ایسا اسکول تھا جہاں بہترین اساتذہ کی طرف سے فن ادارت سے لے کر فن خطاطی اور کتابت سبھی کچھ سیکھنے سکھانے کا سلسلہ چلتا رہتا تھا۔ سہیل انجم نے ’قومی آواز‘ کو جدید اردو صحافت کا معمار کہا ہے جو صد فیصد درست ہے۔ اس معمار صحافت نے نہ جانے کتنے لوگوں کے صحافتی کرئیر کی تعمیر و تشکیل میں حصہ لیا ہے۔ سہیل انجم نے اس دبستان صحافت میں تین ماہ نہیں بلکہ تیرہ سال گزارے ہیں اور جی جان سے پہلے تو تعمیر کا کام سیکھا پھر انھوںنے اس تعمیری سلسلے کو آگے بڑھانے میں اپنا یوگدان دیا۔ زیر نظر کتاب ان کا ایک اور یوگدان ہے۔
پیش نظر کتاب چار ابواب پر مشتمل ہے اوریہ سبھی ابواب دلچسپ اور معلوماتی ہیں۔ باب اول ’قومی آواز نئی دہلی ایڈیشن‘ باب دوم’قومی آواز لکھنؤ ایڈیشن‘باب سوم’قومی آواز ممبئی ، پٹنہ اور سری نگر ایڈیشن اور باب چہارم قومی آواز کے کچھ مدیر اور صحافی ۔ پہلے باب میں نئی دلی ایڈیشن کی تفصیل سے ہمیں رو برو کرایا گیا ہے۔ سہیل انجم نے کتاب کو انتہائی سلیس، شستہ اور رواں دواں اسلوب میں لکھا ہے جس کی وجہ سے یہ کتاب بہت ہی معیاری اور کار آمد تصنیف بن گئی ہے۔
قومی آواز پہلے پہل لکھنؤ سے 1945 میں کانگریس پارٹی کے نقیب کے طور پر نکلنا شروع ہوالیکن سہیل انجم نے اسے دلی ایڈیشن(1980) سے شروع کیا ۔ اسی ایڈیشن سے چوں کہ وہ وابستہ رہے اور انھوں نے وہاں روزنامہ صحافت کے تجربات و مشاہدات سے آگاہی حاصل کی، اس لیے انھوں نے اس ایڈیشن کو جونیئر ہونے کے باجود لکھنؤ ایڈیشن پر ترجیح دی۔لیکن اس کے باوجود انھوں نے لکھنؤ پر ڈاکٹر سہیل وحید ، عشرت علی صدیقی ، عابد سہیل، قیصر تمکین اور قطب اللہ کے مضامین شامل کیے ہیں۔ اسی طرح قومی آواز ممبئی ایڈیشن پر سعید حمید، پٹنہ ایڈیشن پر ریحان غنی اور سری نگر ایڈیشن پر موہن چراغی کے مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ موہن چراغی پہلے سے ہی نئی دلی ایڈیشن کو انچارج کی حیثیت سے دیکھ رہے تھے۔
قومی آواز کی یہ خوش بختی رہی ہے کہ اسے ادارت کے لیے اپنے زمانے کے مشہورو معروف ادیب و شاعر ملتے رہے ہیں۔ پہلے ایڈیٹرکے طور پر حیات اللہ انصاری جیسا پائے کا ادیب ،دانشور اور صحافی ملا۔ حیات اللہ انصاری کا’ لہو کے پھول ‘مشہور زمانہ ناول ہے جو سات جلدوں پر مشتمل ہے، اپنے زمانے کا نوحہ ہے۔ اسی طرح ان کا ایک بڑا کارنامہ ’دس دن میں اردو‘ہے جو اردو سیکھنے والوںکے لیے کافی کارآمد اور عمدہ کتاب ہے لیکن ان کا اصلی شناخت نامہ قومی آواز ہے جسے انھوں نے خون جگر سے سینچا تھا۔ حیات اللہ انصاری کے بعد عشرت علی صدیقی ایڈیٹر کے طور پر کام کرنے لگے۔ وہ اپنے کام کو عبادت کی طرح وقت سے ادا کرتے تھے۔ میں نے عشرت علی صدیقی سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ عشرت علی صدیقی بہت دور اندیش صحافی تھے۔ چنانچہ کل کیا ہونے والا ہے، ایک ہفتے بعد کیا ہوگا اور ایک مہینے کے بعد کیسا ماحول ہوگا،ان سب کا اندازہ انھیں بہت پہلے سے ہوجاتا تھا۔چنانچہ اسی حساب سے تیاری بھی کرلیتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ جب کشمیر کے وزیراعلیٰ شیخ عبداللہ موت و زیست کی جنگ لڑرہے تھے تو عشرت علی صدیقی نے ان پر ان کی زندگی میں ہی ایک اچھا سا اداریہ لکھا ، اچھی اور خوبصورت سی کتابت کروائی اور پروف ریڈنگ کرنے کے بعد انچارج کو یہ کہتے ہوئے اس کے سپرد کیاکہ دسویں دن اسے قومی آوازمیں لگادینا۔ ایسا ہی ہوایعنی دسویں دن ان کا انتقال ہو گیا۔ واقعی وہ بہت دور اندیش تھے۔ قومی آواز سے اپنے زمانے کے چندے آفتاب چندے ماہتاب جیسی شخصیات وابستہ رہیں۔ان میں سے چند ایک نام یہ ہیں:
حیات اللہ انصاری اور عشرت علی صدیقی کے علاوہ مفتی محمد رضا انصاری، احمد جمال پاشا، مسیح الحسن رضوی، عثمان غنی، قیصر تمکین اور عابد سہیل۔ ان کے ٹھیک بعد کی صف میں ظفر زاہدی، فرحت احساس، ظفر عدیم، سید اجمل حسین ، من موہن تلخ، کامریڈ اندر دت، عبدالحی فلاحی، نصرت ظہیر، چندر بھان خیال، نور جہاں ثروت کے نام بطور خاص لیے جاسکتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اپنی جگہ جو ذرہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے کی مانند نظر آتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک شخص صحافت کے ساتھ ساتھ ادب اور شاعری کا بھی ذوق رکھتا تھا۔ انھیں چاند ستاروں کی کہکشاں میں مجھ جیسے حقیر فقیر ناچیز اور خاکسار کا نام بھی آناچاہیے تھا۔ پتہ نہیں سہیل انجم سے یہ چوک کیسے ہوئی۔ بہرحال سہیل انجم کی یہ کتاب بہت معلوماتی اور معیاری ہے۔ اس کا ٹائٹل بھی بہت خوب ہے جو اپنے زمانے کی سچی عکاسی کرتا نظر آتا ہے۔
فون نمبر9911455508 / 8860944899