قوت سماعت سے محرومی ایک بڑامسئلہ :بریٹ لی

جموں//کوچلئیرزگلوبل امبیسڈراورمعروف آسٹریلیائی کرکٹربریٹ لی نے شری ماتاویشنودیوی نارائناسپرسپیشلٹی اسپتال کیساتھ مل کرسماعت سے معذورافراد کیلئے بیداری مہم چلانے کابیڑااُٹھایا۔عالمی صحت تنظیم (ڈبلیوایچ او)کے مطابق دنیابھرمیں466ملین لوگ سماعت سے محروم ہیں، جوکہ دنیاکی آبادی کاتقریباً5فیصدہے۔2011کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان میں50لاکھ سے زائد افراد قوت سماعت سے محروم ہیں۔اپنے خیالات کااِظہارکرتے ہوئے بریٹ لی نے کہا’’آج قوت سماعت سے محرومی دنیامیں صحت کاایک بڑامسئلہ ہے،قریب34 ملین بچے دنیابھرمیں قوت سماعت سے محروم ہیں اوران میں ہندوستان کی ایک بڑی آبادی شامل ہے،میں مددکرناچاہتاہوں تاکہ یہ یقینی بن سکے کہ جوبھی اس دنیامیں ہے وہ آوازکی خوبصورتی سن سکے،ہرکسی کواپنے پیاروں ،اہل خانہ ،اوردوستوں کی آوازسننے کے قابل ہوناچاہئے، والدین اور اہل خانہ قوت سماعت کے کم ہونے کی معمولی سے بھی علامت کونظراندازنہ کریں،اگرکسی کوایسامسئلہ درکارہوتوفوری طورپرعلاج ومعالجہ شروع کیاجائے‘،پچھلے کچھ برسوں سے ، میں نے ذاتی طورپریہ مشاہدہ کیاکہ کیسے کوچلیئر امپلانٹ ایک خاموش انسان کو آوازکی دنیاتک لیجاتاہے،یہ زندگی بدل دینے والالمحہ ہے‘‘۔اُنہوں نے کہاکہ ہندوستان کی ایک بڑی آبادی قوت سماعت کی محرومی کے سبب خاص طورپرنوجوان نسل محرومی کاشکارہے جس سے پیداوار،جسمانی واقتصادی،دونوں متاثرہورہی ہیں۔ اُنہوں نے کہاکہ نظراندازکی گئی وقت سماعت پریشانی سے عالمی سطح پراقتصادی نقصانات کاموجب بنتی جارہی ہے۔اس موقعہ پربولتے ہوئے سمرندیپ سنگھ، سی ای او،ایس ایم وی ڈی شرائین بورڈنے اسپتال کی شراکت داری بارے کہاکہ’’ لوگوں کو سننے وبولنے میں مددکرناایک بیش قیمتی فریضہ ہے،ہمیں اس مشن کیساتھ جڑنے پرفخرمحسوس ہورہاہے،ہم بحیثیت کوچلیئر امپلانٹیشن مرکزجوبچوں اور نوجوانوں کوان کے خوابوں کوحاصل کرنے کاذریعہ بناہے،ہونے پرفخرہے۔اُنہوں نے کہاکہ ہم ضرورتمندکنبوں کومالی امدادمہیاکراتے ہیں،اوراس کازکیلئے کام کرنے کاعزم کئے ہوئے ہیں‘‘۔انہوں نے کہاکہ قوت سماعت کاکھوناایک پوشیدہ مسئلہ ہے، جس پرجتنی توجہ مرکوزکرنامطلوب تھی، نہیں کی گئی اور ہندوستان میں آج 27000سے زائد بچے ہرسال بہرے پیداہورہے ہیں،جس سے بولنے کافروغ ،زبان اور سنجیدگی کے عمل میں سستی آتی ہے، اس سے بچے کی تعلیم،کیریئر اور پوری زندگی متاثرہوتی ہے۔ڈاکٹر(برگیڈیئر)من موہن ہجاری ،سی اے او، ایس ایم وی ڈی این ایس ایچ نے کہا’’ایک برس سے کم عرصے میں اسپتال نے کامیابی کیساتھ9کوچلیئر امپلانٹ جراحیاں عمل میں ہائیں اور ہمیں خوشی ہوتی ہے جب ہم اپنے نوجوان سپرسٹازکی ترقی دیکھتے ہیں۔اسے ہمیں حوصلہ ملتاہے،اوراس عمل کوآگے بڑھانے میں مددملتی ہے، ہماری ریاست میں قوت سماعت سے محروم ومتاثرین کی مدد کایہ مشن مزیدرفتار پکڑتاہے۔اُنہوں نے کہاکہ اس مہم کے باوجود بہت سار ے لوگ بیداری سے محروم ہیں، اورانہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ اس مسئلے کے حل کیلئے میسرجدیدٹیکنالوجی سے بھی بے بہرا ہیں۔ڈاکٹرروہن گپتا، کنسلٹنٹ شعبہ ای این ٹی، اینڈسی آئی سرجری ،ایس ایم وی ڈی این ایس ایچ اسپتال نے بڑے پیمانے ہربیداری مہم کی ضرورت پرزوردیتے ہوئے کہاکہ پیدائیش کے موقع پرسماعت سے متعلق ایک معمولی ساٹیسٹ کافی مددگارثابت ہوسکتاہے، جس کاچلن ہوناچاہئے۔اس سے ابتدائی مرحلے میں علاج ومعالجہ کاموقع میسرہوسکتاہے،میڈیکل ٹیکنالوجی میں آرہی جدیدیت کے تئیں شکرگذارہونے کی ضرورت ہے جس کی بدولت آج سماعت سے متاثرین کی زندگی پھرسے خاموشی وتاریکی سے نکل پرخوبصورت آوازیں، اپنوں کی آوازیں سننے کے قابل بن سکتی ہے۔ڈاکٹر سومیااہوجہ، میڈیکل سپرانٹنڈنٹ ایس ایم وی ڈی این ایس ایچ اورڈاکٹر سنیل کوتوال کنسلٹنٹ شعبہ ای این ٹی، اینڈ سی آئی سرجری ، ایس ایم وی ڈی این ایس ایچ نے کوچلیئر امپلانٹڈنوجوان بچوں وان کے والدین کو ان کی محنت کیلئے مددکی۔اُنہوں نے انہیں اس تھیراپی کوجاری رکھنے پرآمادہ کیا، اورزبان کے فروغ پرکام کیا، تاکہ وہ تمام طرح کی خواہشات کی تکمیل کرسکیں تاکہ اُن کامستقبل  تابناک بن جائے۔ڈاکٹر شیریش ایم دھوبلے، کلینیکل ڈائریکٹر ایس ایم وی ڈی این ایس ایچ نے شکریہ کی تحریک پیش کرتے ہوئے اس موقع پرتشریف فرماہرفرد کاشکریہ اداکیا۔