’قلم دوات ریاست میں سیاسی خلفشاراورانتظامی انتشار کی ذمہ دار‘

 سرینگر//ریاست کی موجودہ صورتحال کو بدترین قراردیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر ناصر اسلم وانی نے پیپلزڈیموکریٹک پارٹی پر الزام عائد کیا وہ ریاست میں مسلسل شہری ہلاکتوں،اقتصادی بدحالی ،سیاسی خلفشار اور انتظامی انتشارکی ذمہ دار ہے۔ایک بیان کے مطابق یوتھ نیشنل کانفرنس کے صوبائی سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ناصر اسلم وانی نے کہا کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت والی مخلوط سرکار کی غلط پالیسیوں کا خمیازہ ریاست کے لوگ گزشتہ ساڑھے تین برس سے بھگت رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے ریاست خصوصاً وادی میں2010کے بعد انتہائی محنت،لگن کی کوششوں ،حکمت عملی اور عوامی اشتراک سے یہاں کے حالات کوپٹری پر لایا تھا۔امن وقانون کی خراب صورتحال کے بعد وادی میں معمول کی زندگی بحال ہوئی تھی،تعمیروترقی نے عروج پکڑاتھا،لوگوں کی اقتصادی حالت بہتر ہوئی تھی،روزگار کے مواقع میسر ہوئے تھے،سیاحتی شعبہ بھی جوبن پرتھایہاں تک کہ 2014کے تباہ کن سیلاب نے بھی یہاں کے لوگوں کاحوصلہ پست نہیں کیااورانہوں نے حکومت کے شانہ بہ شانہ اُس مایوس کن دور کے حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ناصر اسلم وانی نے الزام لگایا کہ تاہم پی ڈی پی نے اپنے ساجھے داروں کے ساتھ زمام اقتدار سنبھالتے ہی ریاست کو اندھیروں میں دھکیلنا شروع کردیا۔ پی ڈی پی اور بھاجپا کے ناپاک اتحاد کیساتھ ہی ریاست کے لوگوں پر مصیبت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ قلم دوات جماعت کی سربراہی والی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی نوجوانوں مخالف پالیسی اختیار کی اور حکومت گرنے تک لگاتار یہاں کے نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ گذشتہ ساڑھے 3سال میں یہاں کے لوگوں خصوصاً نوجوانوں پر جو مظالم ڈھائے گئے اُن کی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ پی ڈی پی حکومت نے عوام پر مار دھاڑ، جبر و استبداد، خوف و ہراس، پکڑ دھکڑ اور توڑ پھوڑ کے ریکارڈ توڑ مظالم ڈھا کر یہاں دہشت کا ماحول قائم کیا۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اس وقت بدترین اقتصادی بدحالی کے شکار ہیں، تعمیر و ترقی محض ذرائع ابلاغ میں دکھائی دیتی ہے، بے روزگاری نے پھر سے عروج پکڑ لیا ہے اور لوگ عدم تحفظ کے شکار ہیں۔ ناصر نے کہا کہ پی ڈی پی نے ساڑھے 3سالہ دورِ حکومت میں اگر کچھ کیا تو وہ کنبہ پروری، اقرباپروری، رشوت ستانی اور کورپشن ہے۔ اس موقع پر صدرِ صوبہ یوتھ کشمیر سلمان علی ساگر، مشتاق احمد گورو، احسان پردیسی، مدثر شہمیری اور ایڈوکیٹ جہانگیر یعقوب کے علاوہ ضلع صدور بھی موجو دتھے۔