قلم توڑو ، سیاہی پھینک دو ، کاغذ جلا ڈالو

حال ہی میں ریاست کے کثیر الاشاعت انگریزی روزنامہ ’’گریٹر کشمیر‘‘ کے سرکاری اشتہارات بند کردئیے گئے ۔ یہ ریاست کی صحافتی اور جمہوری تاریخ کا پہلا واقعہ ہو نہ ہو لیکن یہ اس لحاظ سے پہلا واقعہ ضرور ہے کہ جس ادارے پر یہ چھری چلائی گئی، اس کو ابھی تک اس کا پتہ بھی نہیں کہ یہ اس کے کس جرم کی سزا ہے ۔ یہ فیصلہ کس نے کیا ،یہ بھی کسی کو معلوم نہیں اور اس کا کوئی باضابطہ اعلان بھی نہیں کیا گیا اور جب ایڈیٹرس گلڈ، جو ایک با اعتبار صحافتی تنظیم ہے،نے اس پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا تو اس کو بھی نظر انداز کردیا گیا ۔ ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا اور پریس کونسل آف انڈیا کو اس معاملے سے آگاہ کیا گیا ہے ۔یہ بااختیارصحافتی ادارے کیا کرتے ہیں وقت ہی بتائے گا تاہم کشمیر کا ہر صحافتی ادارہ اور ہر صحافی ایک ایسی گومگو کی حالت میں ہے جہاں اسے کچھ معلوم نہیں کہ سرکاری نظرئیے سے کیا لکھنا جائز ہے اور کیا نہیں ۔ پریس ایکٹ کی کتاب، جس کے مطابق صحافتی ادارے پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرتے تھے، کو شاید اب بے وقعت قرار دیا گیا ہے ۔لیکن اس کے بدلے کوئی نیا ایکٹ اور کوئی نئی کتاب بھی نہیں ہے ۔ سرکار نے کوئی ہدایت نامہ بھی جاری نہیں کیا ہے جو صحافت کی آزادی کے نئے حدود کا تعین کرتا چنانچہ کسی کو معلوم نہیں کہ رائزنگ انڈیا کی جمہوریت کی تعریف کیا ہے اور اس کے چوتھے ستون کی آزادی کا مفہوم کیا ہے ۔
’’گریٹر کشمیر ‘‘کی ہمہ گیر مقبولیت میں اس کی ادارتی پالیسی کا سب سے بڑا حصہ رہا ہے ۔ اس اخبار کا ’’ opinion page‘‘ایک ایسا فورم ہے جس میں ہر طبقہ خیال اپنے تجزئیے ، نظرئیے اور سوچ کا اظہار کرتا ہے ۔حکومت اور غیر سرکاری ادارے لاکھوں روپے خرچ کرکے سمیناروں کا انعقاد کرتے ہیں تاکہ حالات سے متعلق عام رائے اور دانشورانہ سوچ سامنے آسکے، اس طرح سے آگے کی پالیسیاں مرتب کرنے میں مدد ملتی ہے ۔ گریٹر کشمیر کا یہ صفحہ حکومت کو ہی نہیں بلکہ مختلف سیاسی قوتوں کو روزانہ کی بنیاد پرسوچ کے دھاروں، نظریات ، اعتقادات ، خیالات ، حالات ، نظریات اور رحجانات کا پورا موادفراہم کرتا ہے۔ بے شک اس میں حکومت اور اس کی پالیسیوں کے خلاف بھی آرائیں ہوا کرتی ہیں اور علیحدگی پسندوں کی رائے بھی ہوا کرتی ہے لیکن اس رائے کے خلاف بھی رائے سامنے آیا کرتی ہے ۔نہ صر ف اخبار پڑھنے والے دلائل کی بنیاد پر رائے کے غلط یا صحیح ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں بلکہ جن سینوں کے اندر غصے اور نفرت کے شعلے بھرے ہوتے ہیں وہ قلم کی نوک سے باہر آتے ہیںبم اور بارود سے نہیں ۔حکومت کو پتہ چلتا ہے کہ کونسی سوچ کس حد تک گہری ہے ، حالات کی نہج کیا ہے اور کس طرح کی صورتحال فروغ پارہی ہے ۔ حکومت کے پالیسی سازوں کے لئے اس سے زیادہ بہتر آئینہ اور کوئی نہیں ہوسکتا ہے لیکن کوئی حکومت اس نظرئیے سے اخبار کو نہیں دیکھا کرتی ۔ اگر دیکھتی تو صورتحال کا درست اندازہ بھی کرسکتی اور اپنے طریقہ عمل کو اس کے مطابق ڈھال کر حالات کا رخ بدل سکتی تھی ۔صحافت کو جمہوریت کا چوتھا ستون اسی لئے قرار دیا گیا تھا کہ یہ جمہوریت کو اس کی راہ متعین کرنے میں سب سے زیادہ مددگار تھا ۔لیکن اب جمہوری ادارے ایسے ہاتھوں میں ہیں جو مختلف آرائوں کی بنیاد پر اپنی سوچ نہیں بناتے بلکہ اپنی سوچ کو ہی حرف آخر سمجھتے ہیں چاہے وہ عام رائے سے کتنی ہی متضاد کیوں نہ ہو ۔یہی رویہ حکومتوں اور عوام کے درمیان ٹکرائو کوجنم دینے کا باعث ہوتا ہے اور یہ ٹکرائو زیادہ وسعت اختیار کرے تو کشمیر جیسے حالات پیدا ہوتے ہیں۔اخبارات کی خبریں اپنے وقت کا آئینہ ہوتی ہیںجیسا ہوتا ہے ویسا ہی پیش کیا جاتا ہے چاہے وہ کتنا ہی تلخ کیوں نہ ہو ۔ پیشہ ورانہ ذمہ داری کایہی تقاضا ہے جسے ’’گریٹر کشمیر ‘‘دیانتداری کے ساتھ پیش کرتا رہا ہے ۔ شاید یہی اس کا جرم بھی بنا ۔کیونکہ اہل اقتدار اخبارات میں وہ دیکھنا چاہتے ہیں جو ان کے خیالات میں ہوتا ہے لیکن زمینی سچائیا ں اس سے مختلف ہوتی ہیں ۔
پچھلی تین دہائیوں سے کشمیر میں صحافت کو کن مراحل سے گزرنا پڑا، یہ ایک درد ناک داستاں ہے ۔دو طرفہ قہر انگیز دبائو کو جھیلنا کس قدر مشکل تھا ،یہ وہی جانتے ہیں جنہوں نے اس کو برداشت کیا ۔ جب محمد شعبان وکیل کو اس کے دفتر میں گولی ماردی گئی تو کسی کو بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ اسے کیوں گولی ماردی گئی ۔ کئی صحافیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اورکئی بال بال بچ گئے ۔یوسف جمیل کے بدلے ایک اور معصوم جان موت کے منہ میں چلی گئی ۔ ظفر معراج کیسے ایک ہلاکت خیز حملے میں بچ گیا ،اس پر وہ خود بھی حیران ہیں ۔ خود گریٹر کشمیر کے ایڈیٹر کو اغوا کرنے کی کوشش ہوئی لیکن اس کے بدلے اخبار کا اس وقت کا ایگزیکٹو ایٹر اغوا ہوا ۔ ایک اور اردو اخبار کا ایڈیٹر بھی اس کے ساتھ اغوا ہوا ۔انہیں بچانے کیلئے اس وقت کی تمام کی تمام صحافتی برادری کو اغوا کاروں کے سامنے جھک جانا پڑا ۔ایک دھماکہ میرے دفتر میں بھی ہوا ۔ جس کاحدف میں ہی تھا لیکن شومئی قسمت کہ دفتر میں کام کرنے والی ایک لڑکی زخمی ہوئی لیکن پولیس نے اس کا ایف آئی آر بھی درج نہیں کیا ۔حکومت کی طرف سے سنسر شپ کئی بار عاید کی گئی ۔ کئی بار اخبار ات کو راتوں رات پریسوں میں چھپنے کے بعد ضبط کیا گیا ۔ اخبارات کے خلاف ایف آئی آر درج کئے جاتے رہے اور آج بھی کئے جارہے ہیں ۔جن لوگوں کی روحیں ان سختیوں سے زخمی ہوئیں وہ پرنٹ میڈیا کے چند ہی صحافی تھے جو عبادت جان کر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرتے تھے ۔ بعد میں اس شعبے کو بے وقعت بنانے کے لئے پرنٹ میڈیا کا ایک سیلاب برپا کیا گیا ۔ ’’ گریٹر کشمیر ‘‘ نے پامردی کے ساتھ تمام حالات کا مقابلہ کیا اور اس کا شمار ملک کے بڑے اخبارات میں ہونے لگا ۔لیکن بجائے اس کے کہ اس اخبارات کو اور زیادہ مضبوط کرکے عوام اور حکومت کے درمیان ایک پل بنانے کی کوشش کی جاتی، اس کی ہر مرحلے پر حوصلہ شکنی کی جاتی رہی ۔ سالوں پہلے مرکز کی طرف سے اس کے ڈی اے وی پی اشتہارات بند کردئیے گئے ۔ اس کے جموں سے شائع ہونے والے ایڈیشن کو ریاستی حکومت کے اشتہارات سے بھی تقریباً محروم رکھا گیا ۔اس کے باوجود اس اخبار کا زندہ رہنا اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ عوام میں اس کی جڑیں کس قدر مضبوط ہے ۔ یہ واحد اخبار ہے جس کی قیمت پانچ روپے فی کاپی ہے، اس کے باوجود بھی لوگ اسے خریدتے ہیں اورپڑھتے ہیں ۔ریاستی سرکار کے اشتہارات بند کیا جانا اس کوبند کرنے کی کوشش ہے لیکن اس اخبار کو مشکلات کا شکار ضرور ہونا پڑے گا کیونکہ اس کا خرچہ بہت زیادہ ہے ۔ لیکن اس کا اثر ان لوگوں پر پڑے گا جو اس میں کام کرتے ہیں ۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ صحافی اس کا حصہ ہیں اورکوئی اخبار اتنے صحافیوں کو روزگار دینے کی پوزیشن میں نہیں ۔ یہ اخبار بڑی تعداد میں مزید صحافیوں کو روزگار دے سکتا تھا، اگر اس کو حکومت کے عتاب کا شکار نہ ہونا پڑتا ۔ حکومت کوکم از کم اس بارے میں کھلے ذہن کے ساتھ سوچنا چاہئے تاکہ کشمیر میں ذمہ دارانہ اور بااعتبار صحافت کی موت نہ ہوئے ۔ایسا ہونے سے نقصان ریاست کا ہوگا ۔حکومت کو یہ واضح کرنا چاہئے کہ اس کی نگاہ میں اخبارات کی آزادی کے حدود کیا ہیں ۔موجودہ حالات میں لگتا ہے کہ جیسے حکومت کہہ رہی ہے    ؎
قلم توڑو، سیا ہی پھینک دو ،کاغذ جلاڈالو 
زباں پر مہر خاموشی لگادو چپ رہو یارو 
 ہفت روزہ ’’نوائے جہلم‘‘ سری نگر
