قلم اور زبان کی آزادی

  حال ہی میں ریاستی حکومت نے اپنے ایک حکم نامے کے ذریعے سرکاری ملازمین کو سوشل میڈیا پر بقول اس کے غیر قانونی و غیر اخلاقی استعمال سے گریز کر نے کے ضمن میں بعض قواعد وضوابط کا پابند بنایا ہے۔ یہ متنازعہ حکم نامہ ممکن ہے حکو متی نکتہ نگاہ سے ملازمین کے لئے سرکاری ضابطہ ٔ اخلاق کہلائے لیکن عوامی اور سوشل میڈیا حلقوں میں اس نئے حکم نامے پر مختلف النوع تنقیدیں اورتبصرے برابر ہورہے ہیں۔حزب مخالف اسے آزادی ٔ اظہار پر قدغن کہہ کر مسترد کر رہاہے ۔ اس بحث میں اُلجھے بغیر کہ امر حق کیا ہے ، یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ سرکاری ملازمین چونکہ سی ایس آر سے بندھے ہوئے ہوتے ہیں،بنابریں اُن کا سیاسی سرگرمیوں سے لاتعلق ہونا اورسیاسی گفتار وغیرہ سے اجتناب بر تنا قابل فہم بات ہے ۔ ویسے بھی ملازمین ہر حکو مت ِوقت کے دست وبازو ہوتے ہیں اور کوئی بھی حکومت نہیں چاہے گی کہ اس کے ماتحت انتظامی مشنری کے کل پرزے اس کی منشاء کے خلاف سوچیں ، لکھیںیا زبان کھولیں ۔ البتہ اکابرین ِحکومت کے لئے ان دو ناقابل تردید حقیقتوںسے بھی مفر نہیں : اول گزشتہ ستائیس سال سے کشمیر جن کرب ناک اور ناگفتہ بہ حالات سے گزر تاجا رہاہے ،ان میں پورا سماج کسی نہ کسی عنوان سے متاثر چلا آرہاہے ، سرکاری ملازمین اس صورت حال سے مستثنیٰ نہیں ہوسکتے۔ دوم قلم اور تلوار کی باہمی کشاکش تاریخ کی ایک اَنمٹ اوراٹل حقیقت ہے۔ سقراط اور گلیلیو سے لے کر آج تک زمانے وقت کے حاکموں نے ہمیشہ تیز دھار خنجربن کر قلم ا ورزبان کی حق بیانی روکنے کا رقص نیم بسمل کیا، خیال کی اُڑان کو پر بریدہ کیا، سوچ کی پرواز پر پہرے بٹھانے کی  کوششیں کیں مگر سب بے سود۔ اتناہی نہیںبلکہ قلم اور تلوار کی ا س مستقل محاذآرائی میں حکومتی طاقت نے ہمیشہ علم و بصیرت کو اپنے زیر تسلط لانے کے لئے لاکھ دست آزمائیاں کیں اور صدق ودانش کی قندیلوں کو اپناہم نوا بنانے کا بیڑہ اٹھایا تاکہ سچ زمانہ اُسے ہی سمجھے جسے وہ سچ کہے اور جھوٹ اُسے مانے جسے وہ جھوٹ ٹھہرائے، پھر بھی قلم نے اپنی آزادی کا حق منوایا ۔ تاریخ اس کشاکش میں مایوس کن جھلکیاں دکھا تی ہے ،  لیکن مورخ اس بات کی گواہی بھی دیتے ہیں کہ اس معر کے میں قلم کی حق بیانی اور زبان کی حق گوئی نے ہمیشہ اپنی فتح ونصرت کا پر چم لہرایا۔اسے ہم انسانی عقل وشعورکا اعجاز کہیں یاعلم و آگہی کا اُجالا سمجھیں ، بہرحال امرواقع یہ ہے کہ قلم اور حق گوئی لاکھ دبائے نہیں دبتی۔ بایں ہمہ اصولاًانسان کا قلم یا کلام قدرت کا الہام وکشف نہیں کہ اس میں بھول چوک کا عمل دخل نہ ہو بلکہ جس طرح انسان فکر کی شاہراہ پر آبلہ پائی کرتے ہوئے بشریت کے سبب ٹھوکریں کھا سکتا ہے ،اسی طرح کسی انسان کاقلم یانطق بھی کہیںدانستہ کہیںنادانستہ فکری تسامحات کا مر تکب ہوسکتا ہے، ان کے استعمال پر معروضیت کے بجائے صاحب ِ قلم کی ذاتی پسند وناپسند کی چھاپ بھی پڑ سکتی ہے ، ان سے لغزشیں ، دل آزاریاں، بے ا حتیاطیاں اور اجتہادی غلطیاںبھی سرزدہو سکتی ہیں، یہ کسی واقعے یا نفس ِمضمون کو مخصوص عینک سے دیکھ کر غلط نتائج اخذ کر نے کا وُبال بھی اپنے سر لے سکتے ہیں، سب سے بڑھ کر یہ کسی عیاں وبیاں حقیقت کی من پسند توجیہ وتاویل کرکے سچائی کا گلا بھی گھونٹ سکتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ کوئی دانائی نہیں کہ اس دور ِ جمہور میں طاقت کی زبان میں بات کر کے کسی سقراط کا منہ بند کرنے کے لئے اس کے سامنے زہر کا پیالہ پیش کر ے یا کسی گلیلیو کو بزور ِبازواپنا ہم عقیدہ بننے پر مجبور کر ے۔ اس کے علی الرغم عقل ودانش یہ ہے کہ طاقت والے کو اگر کسی مستنددانش ور اور قلم کارکے ساتھ کسی بھی چھوٹے بڑے معاملے پر اختلاف ِ رائے ہو، اس کے کسی خیال وبیان سے کسی مکتب فکر کی دل آزاری محسوس ہوتی ہو ، اس کے دلائل پر عدم اطمینان ہو ، تو بھی فہم وفراست، تہذیب وشرافت اور سنجیدہ علمی مباحثے کے دائرے میں رہ کر اختلافی نکتہ نظر رکھنے والے کی سننا اور اسے اپنی سنانا کانام ہی جمہوریت ہے۔ اور اگر فریق مخالف سچے معنوں میں علم ودانش کا بے غرض خادم اور سچائی کا بے لوث علم بردار ہوا تووہ لازماً قلم اور زبان کی حرمت کا پاس ولحاظ رکھتے ہوئے ملائمت اور ندامت کے ساتھ یا تو بلا جھجھک اپنے خیال کی کمزوری اورسوچ کی کجی کا اعتراف کر ے گا یا اپنے عندیے کے حق میں مزید روشن وغیر مبہم دلیلیں دے کر اپنے مخالف کو اپنے موقف کا قائل کرنے کی کوشش کر ے گا۔ اس متوازن طرز عمل کو اختیار کرنے سے طرفین میں بدمزگی اور کڑوا ہٹ کی بجا ئے افہام وتفہیم کی صحت مند صورت نکل سکتی ہے جو وقت کی اشد ضرورت ہے۔ عصر رواں میں جہاں قلم اور زبان کی عفت قائم ودائم رکھنے کے واسطے اقوام عالم میںآزادی ٔ اظہار کے عنوان سے کئی ایک تابندہ مثالیں موجود ہیں، وہیں ایک جانب اس آزادی کی آڑ لے کر قلم کا ناجائز اورغلط استعمال بھی ہوتارہاہے، دوسری جانب آزادیٔ اظہار کے مخالفین اس اہم ترین جمہوری آزادی پر غیر ضروری پابندیو ں کی بیڑیاں بھی پہنا تے جارہے ہیں۔ خطہ ہائے مخاصمت میں اکثر و بیشتر اس حوالے سے صورت حال ناقابل بیان ہے۔ وادی ٔکشمیر گزشتہ ستائیس سال سے سیاسی ہلچل کے باعث جن نامساعد حالات سے گزر رہی ہے، اس کے دباؤ میںآکر یہاں قلم اور زبان کی آزادی کاتقدس مسلسل پامال چلا آرہاہے ۔ وقت کی بالادست قوتوں کی پر چھائیاں مختلف پیرائیوں میں نہ صرف قلم اورزبان پر قد غن بن کر وقتاًفوقتاًحاوی ہوتی رہی ہیں بلکہ ہمارے یہاں گھٹن بھرے ماحول میں کشمیر نے اپنے بہت سارے مایہ ناز دانش وروں، راست گو افرادا ور قلم کاروں کو کھو بھی دیا۔ بعضوں کو جان سے مارا گیا، کئی ایک کو راندۂ درگاہ ٹھہرا یا گیا ، کہیوں کی دانش جوئی پر جبر یت کے تالے چڑھائے گئے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ برس ہا برس سے اخبارات کو خصوصی طور اس ناقابل ِبیان درد وکرب کو چار وناچار سہنا پڑا ہے۔ عصری تاریخ کے اوراق میں یہ اند ھ کار تند وتلخ حقائق کی شکل میں محفوظ ہے کہ اس شورش زدہ خطے میں مقامی میڈیا سے وابستہ قلم اور کیمرے کو مختلف الاطراف دباؤمیں رہ کر اپنا پیشہ ورانہ کردار ادا کر نا پڑ ا۔ اس کے عام لوگ عینی گواہ ہیں اور عصری تاریخ بھی ان کی آئینہ دار ہے۔ بہرحال قلم اور زبان کا جائز استعمال کرنے میں افراط و تفریط سے گریزاں ہو نا از بس ضروری ہے مگر ان پر بے جا پابندیاں عائد کر نا بھی کوئی جمہوری روایت نہیں۔ البتہ قلم کے ہربے لوث سپاہی کو متانت اور وقار کے ساتھ اپنے اس اعزاز کا حق اد اکر نا ہو گا، چاہے حالات موافق ہوں یا ناموافق۔بقول غالبؔ
لکھتے رہے جنوں میںحکایاتِ خونچکاں 
ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے