قرضہ اقساط کی ادائیگی ،صارفین کو مجبور کرنے پر مزاحمتی قیادت برہم

  سرینگر//جملہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے بینکوں کی طرف سے اپنے صارفین خاص کر ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد کو بینک قرضہ کے قسطوں کی ادائیگی اور اس پر سود کیلئے دباؤ دالنے پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام بینک عوام کی بہبود اور انہی کے اشتراک سے پھلتے اور پھولتے ہیں۔ جموں کشمیر بینک کو ایک قومی اور ملی ادارہ قرار دیکر انہوں نے کہا کہ یہ یہاں کی اقتصادی اور روزمرہ کی زندگی میں ریڈ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور ہمیں اس بات کا اعتراف کرنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ ایک تو یہ ادارہ ریاستی عوام کے لیے ایک کارپوریٹ ادارے کے طور پراپنا لوہا منوا چُکا ہے اور دوئم انہوں نے یہاں بہت سے عوامی اور فلاحی پروجیکٹوں میں کلیدی رول ادا کیا ہے۔ قائدین نے مزید کہا کہ پچھلے چار ماہ سے یہاں کی صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیںہے اور اگر اس کی اقتصادی نس اور معاشی خدوخال پر کسی کی گہری نظر ہے تو وہ جموں کشمیر بینک ہے۔قائدین کے مطابق گزشتہ چار ماہ میں مصائب اور مشکلات کا سب نے اپنی استطاعت کے مطابق سامنا کیا، لیکن ہمارے ٹرانسپورٹ کا شعبہ تقریباً ختم ہوکے رہ گیا ہے۔قائدین نے کہا کہ آئے دن بینکوں کی طرف سے اپنے گاہکوں اور اُن کے گارنٹروں کو نوٹس بھیجنے اور انہیں ڈرا دھما کر قسطوں کی ادائیگی پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم بینک کے ذمہ داروں پر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ تمام کاروباری حضرات اور خاص کر ٹرانسپورٹ مالکان مقررہ وقت پر ادائیگی کرتے تھے، لیکن حالات کی نامساعدت ان کے اپنے اختیار سے باہر تھا اس لیے وہ اس عرصے میں کچھ بھی کمانے سے قاصر رہے،آج کل ان افراد اور اُن کے اہل خانہ کے لیے دو وقت کی روٹی مہیا کرنا بھی جوئے شیر لانے کی مترادف ہے، ایسی گھمبیر صورتحال میں قسطوں کی ادائیگی کسی کے لیے بھی ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اور جس باہمی طور متفقہ ایگریمنٹ کے تحت گاہکوں نے قرضہ وغیرہ حاصل کیا ہے اس کے مطابق کسی بھی فریق کی حدِ اختیار سے باہر کی حالات کی وجہ سے ایگریمنٹ کی شقوں پر پورا اُترنے کا ذمہ دار ٹھہرایا نہیں جاسکتا ہے۔ آزادی پسند قیادت نے بینک کے ذمہ داروں سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ بینک جیسے اداروں پر ملی ہی نہیں بلکہ تجارتی بنیادوں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اُن لوگوں کو تنگ کرنے اور ستانے کے حربوں سے ہر صورت میں اجتناب برتا جائے اور قرضہ کی ادائیگی کو موخر(Re-Schedule) کریں اور کسی کو مجبور نہ کیا جائے جب تک نہ حالات میں کوئی سدھار آجائے اور ان کو کمائی کے امکانات اور مواقع فراہم ہوجائیں۔ جملہ قائدین نے اس بات پر زور دیا کہ بینک انتظامیہ کو گاہکوں کے ضامنوں (گارنٹروں) کو تنگ اور تادیبی کارروائی کرنے کی دھمکی دینے سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نامساعد حالات کی وجہ سے اداروں کو غیر معمولی اقدامات کرنے پڑتے ہیں جیسا کہ انہوں نے 2014؁ء کے سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے کیا تھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بینکوں کے ذمہ دار عوام کی بنیادی ضرورتوں کا استحصال کرنے کے حکومتی مشینری کے کل پرزے بننے کے بجائے عوام کے دکھوں کا مداوا اور اُن کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے آگے آئیں۔ ایسا نہ ہو کہ ہماری معیشت کا یہ اہم ستون بھی سیاسی انا کا شکار ہوکر اپنی افادیت اور اپنا تشخص کھو بیٹھے ۔