قربانی ۔حصولِ تقویٰ اور مطلوبِ رضائے الٰہی ! پاکیزہ اور نیک زندگی قابل فخر ہی نہیں،نجات کی راہ بھی ہے

ندیم خان۔ بارہمولہ کشمیر

آج بھی ہو جو ابراہیم سا ایماں پیدا
آگ کرسکتی ہے انداز گلستاں پیدا
“قربانی‘‘ عربی زبان کے لفظ’’ قُرب‘‘ سے ہے، جس کا مطلب’’ کسی شے کے نزدیک ہونا‘‘ ہے۔ شرعی اصطلاح میں قربانی سے مُراد’’ عبادت کی نیّت سے ایک خاص وقت میں حلال جانور کو اللہ کی راہ میں قربان یا ذبح کرنا ہے۔‘‘گویا قربانی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قُرب مقصود ہے۔ ماہ ذی الحج کی دس، گیارہ اور بارہ تاریخ میں سے کسی بھی دن اللہ تعالیٰ کی رضا کے واسطے سُنّتِ ابراہیمیؑ کو پورا کرنے کے لیے جانور ذبح کیے جاتے ہیں۔ قربانی کی تاریخ حضرت آدم علیہ السّلام کے بیٹوں، ہابیل اور قابیل سے شروع ہوتی ہے۔ حق تعالیٰ جلَّ شانُہ کا اِرشاد ہے۔’’ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اہلِ کتاب کو آدمؑ کے دو بیٹوں کا واقعہ سُنا دیجیے، جب اُن میں سے ہر ایک نے اللہ کے لیے کچھ نیاز پیش کی، تو اُن میں سے ایک کی نیاز مقبول ہوگئی اور دُوسرے کی قبول نہیں کی گئی۔‘‘ علّامہ اِبنِ کثیرؒ نے اِس آیت کے تحت حضرت اِبن عباسؓ سے روایت نقل کی ہے کہ ہابیل نے مینڈھے کی قربانی کی اور قابیل نے کھیت کی پیداوار میں سے کچھ غلّہ صدقہ کرکے قربانی پیش کی۔ اُس زمانے کے دستور کے موافق آسمانی آگ نازل ہوئی اور ہابیل کے مینڈھے کو کھا گئی، قابیل کی قربانی کو چھوڑ دیا۔دراصل، قربانی ہر اُمّت میں رہی ہے، جیسا کہ سورۂ حج میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے،’’ اور ہر اُمّت کے لیے ہم نے قربانی مقرّر کر دی تھی تاکہ اللہ نے جو چوپائے اُنہیں دیے ہیں، اُن پر اللہ کا نام یاد کیا کریں۔‘‘(آیت34) البتہ، قربانی کے احکامات اور طریقۂ کار میں ضرور فرق رہا ہے۔ یہودیوں کی کُتب میں بہ کثرت قربانی کا ذکر ملتا ہے، جب کہ عیسائیوں میں تو اسے بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔تاہم، حضرت اِبراہیم ؑاور حضرت اِسماعیلؑ کے واقعے سے قربانی کے فریضے کو اِک خاص پہچان اور شان حاصل ہوئی۔ نیز اسی واقعے کی یادگار کے طور پر اُمّتِ محمّدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربانی کو واجب قرار دیا گیا۔
ہر سال ہمارے درمیان عید قرباں کے تاریخی ایام آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں۔ لیکن ہم میں سے آج بہت ہی کم لوگ ایسے ہیں جو اس بات کی ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ اس کی حقیقت کو جانیں اور سمجھیں کہ اس میں ایسی کون سی خصوصیات ہیں کہ اس دن کو قیامت تک کے لیے یادگار قرار دیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کی وہ ایثار و قربانی اور حصولِ رضائے الٰہی کا وہ جذبہ ہی تھا جس کی بنیاد پر ابراہیم ؑ نے گھر، وطن، دولت تو چھوڑی ہی، بادشاہ وقت سے بھی بغاوت کی، پھر اللہ کی خاطر بیوی اور ننھے سے دودھ پیتے بچے کو بے آب میدان میں بے سہارا چھوڑ آئے اور خود آگ کے دہکتے الاؤ میں ڈالے گئے، یہاں تک کہ اپنی جان ہی نہیں لختِ جگر کی قربانی کے آخری حکم کی بھی تعمیل کی۔ اخلاص و سچائی اور ایثار و قربانی کا یہ ایسا بے نظیر واقعہ ہے جس کی مثال آج تک کوئی قوم پیش نہیں کرسکی، اسی لیے اللہ نے اس بلند ترین عمل کو قیامت تک کے لیے ایک فریضہ کی حیثیت دے دی تاکہ عید قرباں کی تاریخی حیثیت پر نگاہ رکھتے ہوئے بندۂ مومن اپنے اندر بھی وہی جذبہ پیدا کرے اور رضائے الٰہی کے حصول کے لیے وہ سب کچھ قربان کردے جو میسر ہو۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ لوگوں نے اسے بھی رسم بنا ڈالا، نہ اس کی حقیقت کو پہچانا اور نہ اس کے تقاضے کو سمجھا۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کو نہ جانور کا گوشت اور نہ اس کا خون چاہیے بلکہ مومن کا تقویٰ اور رضائے الٰہی مطلوب ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے واقعہ میں ہمارے لیے بڑی نصیحت ہے کہ ہم نے بھی یہی اقرار کیا ہے کہ ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ ہمارا نہیں ہے اللہ کا ہے۔ ہم اللہ کے حکم پر چلیں گے، اور اس کے حکم کے سامنے نہ اپنے دل کی بات مانیں گے اور نہ کسی دوسرے کی خواہش کی پرواہ کریں گے۔ اس عید کے منانے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر قربانی کی وہی روح، اسلام و ایمان کی وہی کیفیت اور خدا کے ساتھ محبت اور وفاداری کی وہی شان پیدا ہو جس کا مظاہرہ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی پوری زندگی میں کیا ہے۔ اگر کوئی انسان محض ایک جانور کے گلے پر چھری پھیرتا ہے اور اس کا دل اس روح سے خالی رہتا ہے جو قربانی میں مطلوب ہے، تو وہ ایک ناحق جاندار کا خون بہاتا ہے۔
دور جاہلیت میں لوگ قربانی کرکے اس کا گوشت بیت اللہ کے سامنے لاکر رکھتے اور اس کا خون بیت اللہ کی دیواروں پر ملتے تھے۔ قرآن نے بتایا کہ خدا کو تمہارے گوشت اور خون کی ضرورت نہیں، ’’نہ ان کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں نہ خون، مگر اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لیے ایک بہت بڑی رعایت ہے اور اس نے جو جانور ہماری خدمت کے لیے پیدا کیے ہیں، جب وہ اللہ کی راہ میں ہمارے بدل کی حیثیت سے قربان ہوتے ہیں تو یہ سب سے بڑی خدمت ہے جو ہماری وہ انجام دیتے ہیں اور یہ سب سے زیادہ اشرف مقصد ہے جس میں ہم ان کو استعمال کرتے ہیں۔ جو لوگ ہرچیز کو صرف معاشی پیمانوں سے ناپتے ہیں وہ ان چیزوں کی قدر وقیمت نہیں سمجھتے۔ اس وجہ سے ان پر طرح طرح کے اعتراضات کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک بھیڑوں اور بکریوں کی قدروقیمت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی سے زیادہ ہے‘‘۔ لیکن آج افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس اہم فریضے کو محض ایک دنیاوی تہوار سمجھ کر ایسے کام شروع کر دیے ہیں جس سے اس اہم فریضے کے ادائیگی کا مقصد پورا نہیں ہوتا، روحِ عبادت پر نمود و نمائش غالب آگئی ہے۔ ہر کوئی قربانی کے نام پر اپنی حیثیت اور استطاعت کی شیخی بگاڑتا نظر آتا ہے۔ اور قربانی کا گوشت جس پر سب سے پہلا حق مستحقین کا ہوتا ہے، اُنہیں اُنکا حق اول تو ملتا ہی نہیں اور جو ملتا ہے تو وہ جو بچ جاتا ہے رشتہ داروں، ہمسائیوں وغیرہ سے وہ اُنکے حصے میں آتا ہے، جسے بڑے حقیرانہ انداز میں، عجیب سے تیور دکھا کر انہیں دیا جاتا ہے، جیسے کوئی بہت احسان کر رہے ہوں اور جو سفید پوش ہیں اُنہیں یہ دن بھی ایسے ہی فاقے میں گزارنا پڑتا ہے، کیونکہ ہاتھ وہ نہیں پھیلا سکتے۔ جو نعمتیں خدا نے ہمیں عطا کی ہیں وہ خدا کے دیے ہوئے میں سے بے بس، لاچار، مستحقین اور خاص کرکے سفید پوش لوگوں پر خرچ کرنا ہمارا فرض ہے ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ سب ایک جیسے ہیں مگر وہ لوگ جو صاحبِ حیثیت اور صاحبِ استطاعت ہیں جن کے رزق میں خدا نے کشادگی کر رکھی ہے، وہ کیوں خندہ پیشانی سے لوگوں کے کام نہیں آتے، کیوں اُنکے ہمدرد اور معاون نہیں۔ قربانی کے دن صرف جانوروں کو ذبح کردینے سے ہی اگر خدا کی رضامندی حاصل ہو سکتی تو ابراہیم ؑ سے سو اونٹ ذبح کروانے کے بعد بھی خدا فرزند کی قربانی نہ مانگتے۔ خدارا قربانی کی اصل روح کو سمجھیں، خدا کو گوشت اور خون کی کوئی حاجت نہیں وہاں تو جو چیز مطلوب ہے وہ دراصل یہ ہے کہ جو انسان کلمہ لا اِلٰہ پر ایمان لائے وہ مکمل طور پر بندہ ٔحق بن کر رہے۔ کوئی ذاتی دلچسپی، کوئی ذاتی مفاد، کوئی ذاتی دباؤ، کوئی لالچ، خوف اور نقصان غرض کوئی اندر کی کمزوری یا باہر کی طاقت اس کو حق کے راستے نہ ہٹا سکے۔ وہ خدا کی بندگی کا اقرار کرنے کے بعد پھر کسی دوسری چیز کی بندگی قبول نہ کرے۔ اس کے لیے ہر تعلق کو قربان کردینا آسان ہو، مگر اس تعلق کو قربان کرنا کسی طرح ممکن نہ ہو جو اس نے اپنے خدا سے کیا ہے۔ یہی قربانی اسلام کی اصل حقیقت ہے۔ ہم جس طرح جانور کی قربانی کرتے ہیں۔ اسی طرح اپنی نفسانی خواہشات کو بھی قربان کردیں گے، تاکہ اختلاف، انتشار بغض و حسد، کبر و غرور، عناد و دشمنی، مکر و فریب اور حق تلفی وجاہ طلبی کے ذریعہ انسانیت کی تباہی کا ذریعہ نہ بنیں بلکہ عظمت و بلندی کا جو معیار قرآن مجید نے بتایا ہے، اسے ہم اپنی زندگی میں سجا بسا لیں۔ ذات برادری، رنگ و نسل اور دولت و غربت کے سارے امتیازات کو مٹا کر اخوت و مساوات، پیار و محبت اور ایک خدا کی عبادت و بندگی کی فضا قائم کریں۔ خدا کی محبت کے تقاضے کو سمجھیں، اُسکی رضا اور اُسکے قرب کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے نفس پہ چھری پھیریں، اور وہ تمام مادہ پرست خواہشات جو خدا کی اطاعت اور محبت میں آڑے آتی ہیں اُنہیں خدا کی راہ میں قربان کریں، نفس کے خلاف جہاد کریں۔ اس عید پر جب قربانی کے جانور کو اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر تکبیر پھیریں تو خدا کی رضا کی خاطر اپنے نفس پہ بھی تکبیر پھیریں۔ بہت سے والدین ایسے مواقعوں پر اپنے بچوں کی حسرتوں کو پورا نہیں کرسکتے ،اُنکی معصومیت کا خاص خیال رکھیں۔ گوشت دیتے ہوئے کوئی ایسے الفاظ استعمال نہ کریں جن سے اُنکی دل آزاری ہو۔ کسی کے دئیے ہوئے گوشت میں سے اُنکو حصہ نہ دیں بلکہ اپنے حصے میں سے اُنکا حق اُنہیں دیں، اگر جانور کو قربان کر ہی دیتے ہیں اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے تو پھر قربانی کا گوشت پوری طرح حقدار تک منتقل کر کے اللہ کی رضا حاصل
کریںاور خدا سے ڈرتے رہیں، یہی ہے قربانی کے دن کا پیغام ہے۔
(رابطہ۔ 6005293688)
[email protected]