قربانی کیلئے زندہ بھیڑوں کی قیمت فی کلو270 اور 285 مقرر

سرینگر// قربانی کے جانوروں کی قیمتوں کو مقرر کرنے پر حکومت اور ہول سیل مٹن ڈیلر پھر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے ہیں۔  کوٹھداروں نے محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کی جانب سے زندہ بھیڑ کی قیمت285روپے فی کلو کو مسترد کیا ہے۔ وادی میں4 ماہ کے بعد مٹن ڈیلر اور انتظامیہ کے درمیان ایک بار پھر تنازعہ کھڑا ہوا ہے جس کا اثر براہ راست عید الضحیٰ پر پڑنے کا احتمال ہے خاص کر قربانی کے جانوروں کی فروخت کو لیکر اس معاملے نے ٹکرائو کی صورتحال کو جنم دیا ہے۔ عید الضحیٰ کی مناسبت سے جمعرات کو محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری نے قربانی کے جانوروں کی قیمتوں کو طے کرنے کیلئے اہم میٹنگ منعقد کی،جس کیلئے مٹن ڈیلروں کو بھی دعوت دی گئی۔ میٹنگ کے بعد محکمہ شہری رسدات امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کے ڈائریکٹر عبدالاسلام میر نے قربانی کے جانوروں کی قیمتوں سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کی جس میں کہا گیا کہ میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا کہ عید قربان پر دہلی والے بھیڑ (زندہ) اور’میرنوکراس‘ کی قیمت285 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے جبکہ بکروال بھیڑ اور مقامی کشمیری بھیڑ کی قیمت 270روپے فی کلو کے علاوہ زندہ بکرے کی فی کلو قیمت260روپے مقرر کی گئی۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ میٹنگ میں گزشتہ قیمتوں کا جائزہ لیا گیا اور جموں کشمیر مٹن لائسنسنگ قانون اور کنٹرول آرڈر مجریہ1973کے تحت حاصل اختیارات کے علاوہ ایس آر ائو31محررہ1974کے تحت  قربانی کے جانوروں کی قیمتوں کے حوالے سے یہ فیصلہ لیا گیا جس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ محکمہ کی جانب سے قربانی کے جانوروں کی قیمتوں کو متعین کرنے کو ہول سیل مٹن ڈیلروں نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سرکار کی جانب سے قربانی کے جانوروں کی جو قیمت طے کی گئی ہے وہ بہت کم ہے۔کشمیر ہول سیل مٹن ڈیلر کے صدر منظور احمد قانون نے بتایا کہ انتظامیہ دانستہ طور پر مٹن ڈیلروں کو ستا رہی ہے۔انہوں نے کہا’’ میں از خود میٹنگ میں موجود تھا اور میں نے میٹنگ کے دوران ہی ان قیمتوں سے اتفاق نہیں کیا اور سرکار کو تجویز دی تھی کہ زندہ بھیڑ کی فی کلو قیمت340روپے مقرر کی جائے‘‘۔ منظور احمد قانون نے بتایا کہ عام بھیڑوں کے مقابلے میں قربانی کے جانور اعلیٰ نسل اور معیاری ہوتے ہیں اور انکی قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے،جبکہ قربانی میں صرف نر بھیڑ بکریوں کا استعمال ہوتا ہے،جس کے نتیجے میں انکی قیمتیں بھی منڈیوں میں ہی زیادہ ہوتی ہے۔ انکا مزید کہنا کہ جب سرکار نے گوشت کی قیمت کو طے کیا تھا اس کے بعد کرائیوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا،اور سرکار نے اسی قیمت کی شرح سے اب قربانی کیلئے درکار زندہ جانوروں کی قیمتوں کو طے کیا جسکی کوئی منطق نہیں ہے۔ دریں اثناء عوامی حلقوں سے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مٹن ہول سیل ڈیلروں اور کوٹھداروں کی مان مانیوں کیخلاف کارروائیاں کریں کیونکہ پوری وادی میں 600روپے کے حساب سے گوشت فروخت ہورہا ہے۔