قربانیوں کے طفیل ہی دنیا کشمیر کی اہمیت سے واقف:مزاحمتی خیمہ

سرینگر//انجمن شرعی شیعیان،تحریک کشمیر اور ماس مومنٹ نے میرواعظ کشمیر مولانا محمد فاروق،خواجہ عبدالغنی لون اور شہدائے حول کو اُن کی برسیوں پر خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان قربانیوں کے طفیل ہی پوری دنیا تنازعہ کشمیر کی اہمیت اور تاریخی حیثیت سے واقف ہو چکی ہے۔انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما آغا سید حسن نے میرواعظ مولانا محمد فاروق،خواجہ عبدالغنی لون اور شہداء حول کی برسی پر شہر سرینگر میں بندشوںاور مزاحمتی قائدین پر عائد پابندیوںکو بھارتی فورسز کے سیاہ جرائم کی پردہ پوشی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ شہدائے کشمیر بالخصوص مایہ ناز دینی و سیاسی شخصیات کی شہادتیں رواں جدوجہد کا انمول سرمایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی جتماعات پر قدغن سے بھارت کے جمہوری اور سکولرازم کے دعوئوں کی قلعی کھل گئی ہے۔ انہوںنے کہا کہ کشمیری قوم اپنے مایہ ناز سپوتوں اور دینی و سیاسی قائدین کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔اس دوران انجمن کے ترجمان نے ماہ مبارک کے دوران آغا حسن کی خانہ نظربندی کومداخلت فی الدین قراردیا ہے۔ تحریک کشمیر کے صدر محمد موسیٰ نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ قربانیوں کے طفیل ہی آج تنازعہ کشمیر زندہ ہے اور پوری دنیا اس تنازعہ کی اہمیت اور تاریخی حیثیت سے واقف ہو چکی ہے۔ اب یہ قوم کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس حوالے سے کم از کم ان قربانیوں کا دل و جان سے تحفظ کرکے مشن کو آگے بڑھائے ۔ ماس مومنٹ نے سربراہ فریدہ بہن جی نے خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ شہدائے حول نے اپنے خون سے سرزمین کشمیر کو لالہ زار کیا۔انہوں نے اس عزم کو دہرایا کہ حصول مقصد تک یہ جدوجہد جاری رہی گی۔اس دوران شہر خا ص کو فوجی چھاونی میں تبدیل کرکے تعزیتی اجلاسوں پر پہرہ لگانے کی مذمت کی ۔