قربانیاں بہر صورت رنگ لائیں گی

 سرینگر// طاقت اور تشدد کے بل پر کشمیری عوام کے جذبہ مزاحمت کو توڑنے کے عمل کو استعماری حربے قرار دیتے ہوئے حریت (ع) نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کی حساسیت اور حقیقت سے چشم پوشی کا عمل اس پورے خطے کو مزید خطرات سے دو چار کرنے کا موجب بن رہا ہے ۔ بیان میں کہا گیا کہ بھارت اور پاکستان کے مابین جاری سرحدی کشیدگی مسئلہ کشمیر کی دین ہے اورگزشتہ کئی دہائیوں سے جاری کشیدگی اور مخاصمت کے خاتمے کیلئے ضروری ہے کہ اس مسئلہ کو یہاں کے عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق حل کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں ۔بیان میں کہا گیا کہ بھارت کے ارباب سیاست جان بوجھ کر اس مسئلہ سے جڑے تاریخی و سیاسی تلخ حقائق کو نظر انداز کررہے ہیں اور اس سیاسی اور انسانی مسئلہ کو محض انتظامی مسئلہ قرار دیکر اس پورے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھاوا دے رہے ہیں۔حریت نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کی تاریخی متنازعہ حیثیت اور کشمیری عوام کے جذبات اور احساسات کو نظر انداز کرکے نہ تو اس خطے میں دیرپا امن کی توقع کی جاسکتی ہے اور نہ دو ہمسایہ جوہری مملکتوں کے تعلقات میں سدھار کی ضمانت فراہم کی جاسکتی ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ اس خطے میں امن کا راستہ کشمیر سے ہوکر گزرتا ہے اور ضروری ہے کہ جنوبی ایشیا کے کروڑوں عوام کے محفوظ مستقبل کیلئے مسئلہ کشمیر کو اس کے تاریخی تناظر میں حل کرنے کیلئے مسئلہ سے جڑے سبھی فریقین کے درمیان ایک بامعنی مذاکراتی عمل کے آغاز کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنے کی کوششیں بروئے کار لائی جائیں۔اس دوران محبوس حریت چیرمین میرواعظ کی ہدایت پر حریت کے ایک وفد جس میں مشتاق احمد صوفی، ایڈوکیٹ یاسر دلال، پیر غلام نبی، فاروق احمد سوداگر، وغیرہ شامل ہیں نے  احمد نگر صورہ جاکر گزشتہ دنوں ایک عسکری تصادم کے دوران جان بحق کئے گئے عسکریت پسندعیسیٰ فاضلی کو شاندر الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ ایک عظیم نصب العین کے حصول کیلئے دی جارہی جانی قربانیاں رواں تحریکی مزاحمت کا ایک انمول اثاثہ ہیں اور ان قربانیوں کو اسی وقت ثمر آور بنایا جاسکتا ہے جب پوری قوم فکری اور ذہنی یکسوئی کے ساتھ رواں تحریک مزاحمت کے تئیں استقامت اور وابستگی کا عمل جاری رکھیں۔وفد نے عیسی فاضلی کے والد کے ساتھ محبوس حریت چیرمین کی جانب سے بھر پور یکجہتی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ شہدائے کشمیر کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور وہ وقت عنقریب ہے جب ان قربانیوں کے طفیل یہ قوم اپنے مقصد میں کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔دریں اثنا حریت ترجمان نے حریت چیرمین میرواعظ کی مسلسل نظر بندی اور سینئر حریت رہنما مختار احمد وازہ کو گرفتار کرکے گزشتہ کئی روز سے صدر تھانہ اسلام آباد میں مقید رکھنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکمران حریت قیادت کے تئیں اپنی معاندانہ اور انتقام گیری سے عبارت پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں تاہم اس قسم کے حربوں سے حریت قیادت کو اپنے جائز موقف سے دستبردار نہیں کیا جاسکتا۔