قرآن ِ مقدس کا گوجری مترجم،مولانا شاہجہاں کارِ ثواب

میاں محمد یوسف

لفظ انسان اس گوشت پوست کے ڈھانچے کا نام نہیں بلکہ یہ تو مکان ہے۔ اس میں اصل انسان رہتا ہے اور اصل انسان سے مراد روح ہے اور روح کا تعلق کردار کے ساتھ ہے کیوں کہ جب جسم سے روح نکل جائے تو پھر اس کا نام بدل جاتا ہے۔ میت ،جنازہ، لاش وغیرہ اور روح اللہ تعالیٰ کا امر ہے، اس پر موت نہیں آتی یہی وجہ ہے کہ انسان اپنے کردار اور روح کی وجہ سے زندہ رہتا ہے اور پھر انسانوں میں بھی کچھ شخصیات کو اللہ تعالیٰ نے فوقیت عطا فرمائی ،جن میں انبیاء علیہم السلام کے بعد صحابہ کرامؓ، اولیا اللہؒ اور علماء کرام کے علاوہ صالحین کو باقی لوگوں پر برتری حاصل ہے۔ ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’ میری امت کے علما کا درجہ بنی اسرائیل کے انبیا ؑکے برابر ہو گا‘‘۔

 

عالم کون ہوتا ہے یہ آپ جانتے ہیں صرف ظاہری شکل صورت یعنی ٹوپی ،داڑھی، جُبہ ،پگڑی کا نام عالم نہیں ہے بلکہ عالم اس کو کہا جاتا ہے جو دین اسلام کے تمام اصلوبوں کا علم جانتا ہو ،عالم فتنہ پرور نہیں ہوتا ،عالم جھوٹ نہیں کہتا، عالم امت کے لئے مسائل نہیں پیدا کرتا اور عالم کسی فرقہ کا ترجمان نہیں ہوتا بلکہ وہ کوشش کرتا ہے کہ امت کی اصلاح ہو اور جس شخص کی جو زبان ہو گی، اس کی اصلاح اس زبان میں کرنے میں آسانی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر انبیاء علیہم السلام بھی ان کی قوموں میں سے مبعوث فرمائے تاکہ وہ گمراہ لوگوں کو اُن کی زبان میں راہ راست پر لا سکیں۔ انبیا علیہم السلام کے بعد یہ منصب صحابہ کرامؓ اور پھر فی زمانہ علماء اسلام اور اولیاء کرام کو سونپا گیا اور یہ ہی انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں ۔میں آج خاندان گنھیلہ شریف کی ایک علمی اور ادبی شخصیت ابوسعید مولانا میاں محمد شاہ جہان کا کچھ تذکرہ اپنی بساط اور معلومات کے مطابق کروں گا۔ آپ مولوی میاں غلام سکندر ؒ کے گھر 1967 میں پیدا ہوئے۔

 

آپ کا تعلق بالاکوٹ کے معروف گاؤں گنھیلہ شریف سے ہے اور آپ ولی کامل معروف بزرگ حضرت میاں جمال الدین ولی رحمتہ اللہ کے خاندان سے ہیں، جو’ خاندان گنھیلہ شریف‘ سے مشہور ہے اور ان کی گوت گجر کھٹانہ ہے۔ میاں محمد شاہجہاں نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر میں اپنے بھائی بہن اور والد صاحب سے حاصل کی ،مزید دینی تعلیم جامعہ رضویہ فیض المالک مانسہرہ مولانا عبدالمالک لقمانوی ؒ سے حاصل کی۔ اس کے بعد جامعہ رضویہ ضیا العلوم راولپنڈی سے درجہ ثالثہ تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنےوالد صاحب کی علالت کی وجہ سے گھر واپس آئے، جو گاؤں دبن دلولہ میں امام و خطیب تھے۔ میاں شاہجہاں نےاپنے والد صاحب کی ہی کتب سے استفادہ حاصل کیا اور پھر والد صاحب کی جگہ منصبِ امامت وخطابت پر فائز ہو گئے اور آپ 2021 تک وہیںامامت و خطابت کرنے کے ساتھ ساتھ فلاحی امور، جس میں یتیم ،نادار اور بیواؤں کی امداد کے کام شامل ہیں، بھی سرانجام دیتے رہے۔ دبن کی سڑکیں بھی ان ہی کی کاوشوں سے بنی ہیں۔ 2000 میں انہیں جموں وکشمیر سے طبع شدہ قرآن مجید کا گوجری زبان میں ترجمہ حاصل ہوا، تو آپ نے بڑی توجہ سے اس کو پڑھا ،مگر اس میںبقول اُن کے گوجری زبان پروہاں کا علاقائی لہجہ غالب تھا ،جو یہاں کی عوام کے لئے عام فہم نہ تھی اورکچھ مفہوم بھی واضح نہیںہو رہے تھے ۔پھرانہوں نے ارادہ کیا کہ وہ قرآن مجید کا گوجری زبان میں ترجمہ لکھیںگے۔ سجادہ نشین گنھیلہ شریف میاں ولی الرحمنٰ مرحومؒ کے بڑے بھائی میاں جمعہ ؒسے ملاقات ہوتی رہتی تھی اور وہ ہر وقت قرآن مجید کی تلاوت میں محو رہتے تھے ۔ تنہائی میں وہ بلند آواز سے تلاوت کیا کرتے تھے اور ساتھ ہی گوجری زبان میں اس کا زبانی مفہوم بھی بیان کرتے تھے۔ اُن کے اس عمل سے بھی میاں محمد شاہجہاں کے اندر گوجری زبان میں قرآ ن مجید کاترجمہ لکھنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ جبکہ آپ کی چاہت تھی کہ میں پہلے حرمین شریفین میں حاضری دوں اور اس کے بعد یہ عمل شروع کروں۔ 2018 میں اللہ تعالیٰ نے اُن کی دعا سن لی اور دیارِ حبیبؐ میں حاضری کا موقع عطا کیا۔ 2018 کے پہلے جمعہ کو گنبد خضریٰ کے سامنے بیٹھ کر سورہ فاتحہ کا کنز الایمان سے گوجری زبان میں ترجمہ لکھنا شروع کیا۔ واپس آ کر دبنؔ میں ہی باقی ترجمہ جاری رہا ،کچھ حصہ کاغانؔ میں اور کچھ حصہ نواں ؔشہرایبٹ آباد، مولانا محمد اسماعیل ذبیحؔ رحمہ اللہ کے پڑوس میں۔ الغرض 27 رمضان 2021 کو یہ ترجمہ پنسل سے مکمل کیا،چنانچہ اب بھی اس پر کام جاری ہے اور پوری تحقیق کے بعد اِن شاء اللہ اس کی کمپوزنگ اور طباعت عمل میں لائی جائے گی۔ اس ترجمہ کی ایک انفرادیت اور خصوصیت یہ بھی ہے کہ کنزالایمان کا گوجری زبان میں ترجمہ بنام ’’جمال الایمان ‘‘شروع کرنے سے قبل آپ نے دو سال تک کنز الایمان اُردو کو مستند عربی تفاسیر اور مختلف مکاتب فکر کے علما کے تراجم سے موازنہ کرنے کے بعد کنز الایمان اُردو کو ہی گوجری زبان کے لئے منتخب کیا۔ گوجری زبان کے لئے ماہرین ِگوجری زبان سے ملاقاتیں کیںاور رابطے رہے۔

 

اُردو اور گوجری لغات کے علاوہ مفتی فیض الوحید رحمتہ اللہ علیہ کی ترجمہ وتفسیر’’ فیض المنان‘‘ اور مولانا عابد رحمانی صاحب کے گوجری ترجمہ قرآن مجید اور گوجری ڈکشنری، جو ڈاکٹر جاوید راہی کی مرتب کردہ ہے، انٹرنیٹ سے کاپی کروا کر اس سے بھی استفادہ حاصل کیا اور گوجری زبان کے شعرائے کرام کی کچھ کتب بالخصوص مولانا محمد اسماعیل ذبیحؔ کی تصنیف’ گلدستہ ذبیح‘ سے بھی الفاظ کا استفادہ حاصل کیا اور کوشش کی کہ یہ ترجمہ مسالک سے ہٹ کر معتدل ہو اور الفاظ بھی سارے گوجری زبان کے ہی ہوں۔ اس ضمن میں حضرت ناچیز سے بھی مستقل رابطے میں رہے اور گاہے بگاہے بات چیت چلتی رہی اور گزشتہ ماہ ’’سانجھی تہذیب گوجری زبان وادب مظفرآباد‘‘ کی جانب سے اُنہیں ایک ایوارڈ بدست (پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر) کے سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ چوہدری محمد ابراہیم ضیاؔ اور معروف شاعر جناب مخلصؔ وجدانی اور صدارتی ایوارڈ یافتہ گوجری شاعر عبدالرشید چوہدری دیا گیا۔ بلاشبہ یہ ایک بہت بڑا تاریخی کام ہے اور پیچیدہ بھی ہے۔ کیوں کہ کتابِ مقدس کا کسی زبان میں ترجمہ کرنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ اس پر مولانا کو جتنی داد دی جائے کم ہے اور امید ہے کہ جلد ہی چھپ کر منظر عام پر آجائے گا۔ کیوں کہ اس سے قبل پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں تین شخصیات نے قرآن مجید کے گوجری زبان میں ترجمے کئے تھے ۔ جن کے اسم گرامی مولانا فقیر محمد چیچی، مولانا عبدالرحیم ندیم (برادر اکبر ڈاکٹر صابر آفاقی و مخلصؔ وجدانی)اور بشیر احمد قمرؔ صاحب ہیں۔مولانا میاں محمد شاہجہاںکا قرآن مجید کا گوجری ترجمہ تاحال منظر عام پر نہیں آیا ہے،طبائی مرحلے میںہے۔اللہ تعالیٰ مولانا کی عمر میں برکت عطا فرمائے اور ان کی اس عظیم کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے اور یہ جلد طبع ہو کر مارکیٹ میں آئے تاکہ گوجری قوم اس سے بھرپور استفادہ حاصل کر سکے۔ یہ ایک ایسا کام ہے جو صدیوں تک مولانا میاں محمد شاہ جہاں صاحب لوگوں کے دلوں میں زندہ رکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ اُن کے اس کام کو اُن کے لئے صدقہ جاریہ بنائے اور خوب خوب اَجر عطا فرمائے۔ آمین
[email protected]