’’قرآنِ کریم‘‘ اللہ کی آخری الہامی کتاب رشدو ہدایت

ڈاکٹر عامر عبداللہ محمدی

قرآن، جو امّ الکتاب بھی ہے، فرقان بھی ہے، کتابِ ہدایت و انقلاب بھی ہے، انسان کے لیے دستور حیات بھی ہے۔ اس کے نزول کا آغاز اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبرؐ کے قلب ِاطہر پر کیا۔ غور فرمائیے! پچھلی ساری سماوی کتب اور الہامی صحائف سے لےکر تادم آخرین ساری کتابوں سے افضل و اکمل کتاب کے نزول کے لیے اس بستی کا انتخاب ہوا جو اُم القریٰ ہے ،جہاں اللہ کا پہلا گھر قائم ہوا یعنی وہ بستی جو دنیا کی ساری بستیوں سے افضل ہے، جس مہینے کو منتخب کیا گیا وہ سارے مہینوں کا سر دار، جس رات کے نصیبے میں یہ سعادت آئی ،وہ ایک رات ساری راتوں سے افضل کہ(ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت و ریاضت سے بہتر ہے) جس فرشتے سیدنا جبرائیل ؑ کو اللہ نے وحی پہنچانے کی ذمہ داری سونپی، وہ فرشتہ بھی آسمان کے سارے فرشتوں کا سردار۔

یہ قرآن مقدس، کائنات کی جس عظیم ہستی کے قلب ِ اطہر پر نازل ہوا، جو صاحب ِ قرآن بنا، وہ بھی ساری کائنات میں افضل الخلائق، سید البشر ہی نہیں، سید ولد آدم بھی وہی، امام الا نبیاء ہی نہیں ،نوید مسیحا بھی وہی، رحمۃ للعالمین ہی نہیں محبوب ِ کبریا بھی وہی۔ خود قرآن نے ایک مقام پر ارشاد فرمایا،’’ تحقیق اللہ نے مومنوں پر بہت بڑا احسان کیا کہ اُن میں اُن ہی میں سے ایک رسولؐ مبعوث کیا جو اُن پر آیات پڑھتا ہے، انہیں پاک کرتا ہے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور اس سے قبل یہ لوگ کھلی اور واضح گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔‘‘ اور گمراہی بھی کیسی کہ خانہ خدا کا برہنہ طواف کرنا عبادت سمجھا گیا، ایک اللہ کے مقابلے میں تین سو ساٹھ معبودان باطل، خود اللہ کے گھر میں سجا دئیے گئے تھے، اپنی بیٹیوں کو خود اپنے ہاتھوں سے زندہ درگو ر کیا جانے لگا، وہ دور کمزوروں اور بے کسوں پر ظالم و طاقتور کے وحشیانہ راج کا دور تھا، دوسری طرف قبائل کے درمیان جنگیں اور انتقام در انتقام کی آگ نسلوں کو تباہ کرتی چلی آرہی تھی۔

ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ کی رحیمی و کریمی نے جوش مارا اور جبرائیل ؑ کو غارِ حرا میں عبادت میں مگن دُرِّ یتیم مکّہ، محمد ابن عبد اللہ پر وحی دےکر بھیجا قرآن کی اس پہلی وحی (سورۃ العلق کی ابتدائی آیات کے نزول) نے محمد ابن عبد اللہ کو محمد رسول اللہؐ بنا دیا، آمنہ کے لال کو ساری دنیا کا تاجدار، خدیجہ ؓ کے سرتاج کو ساری دنیا کی عورتوں کا مطاع بنا دیا، ابو طالب کے جانشین کو دین ابراہیمی ؑ کا علمبر دار اور موسی ؑ و عیسیٰ ؑ کا جانشین بنا دیا۔اسی قرآن نے لڑتی، کٹتی، پھٹتی اور لٹتی ہوئی انسانیت کو مکرم و محترم بنادیا، بھیڑ بکری چرانے والے قیصر و کسریٰ کے خزانوں کے مالک بنا دئیے گئے۔ وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوتِ ہادی عرب کی زمیں جس نے ساری ہلادی اور اُترکر حرا سے سوئے قوم آیااور ایک نسخہء کیمیا ساتھ لایا۔

افسوس کہ آج مسلم دنیا بھی اس نسخہ کیمیا (قرآنِ مقدس) کے ساتھ ناقدری اور بےحرمتی کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب سے ترکمانستان تک اور نائیجریا سے البانیہ تک 65 سے زائد اسلامی ریاستیں، مملکتیں اور حکومتیں اپنے تمام تر مالی، اقتصادی اور سائنسی وسائل کے باوجود عالم کفر کے دست ِ نگر ہیں۔ مغلوب اور مقہور ہیں۔ ساری دنیا میں مسلمانوں کو آج جن حالات کا سامنا ہے شاید اس سے پہلے کبھی نہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،’’بے شک ،اللہ اسی قرآن کو تھامنے کی وجہ سے قوموں کو عزت و شرف اور عروج عطا کر تا ہے اور جن قوموں کو پست اور ذلیل و رسوا کر تا ہے، انہیں قرآن چھوڑنے کے جرم میں یہ سزا بھگتنی پڑتی ہے۔‘‘ (مفہوم) وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر۔

آج مسلمانوں نے قرآن کو محض مردے بخشوانے کا ذریعہ بنا لیا ہے، کتنے ہی مسلمان ہیں جو قرآن کریم پڑھتے ہی نہیں اور جو پڑھتے ہیں ان کی بھی اکثریت محض حصولِ ثواب کی خاطر اور بس۔ قرآن کا کیا پیغام ہے؟ کیا مطلوب ہے؟ یہ اپنے پڑھنے والوں سے کیا چاہتا ہے؟ اس جانب کوئی توجہ ہی نہیں ہے ،یہ ہی وجہ ہے کہ 50 سالہ بزرگ بھی احیائے اسلام کے لیے قرآن کی پیروی نہیں کرتے، اگر انہوں نے قرآن کو سمجھ کر پڑھا ہوتا تو وہ جانتے کہ قرآن غالب ہونے کے لیے آیا ہے،مغلوب رہنے کے لیے نہیں۔سورۃ الصف کی یہ آیت چیخ چیخ پیغام دے رہی ہے کہ اللہ نے قرآن بھیجا ہی اس لیے ہے کہ اُسے غالب کر دیا جائے۔’’اللہ وہ ذات ہے جس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور دین حق دیکر بھیجا، تاکہ وہ اسے تمام ادیانِ باطلہ پر ظاہر، (غالب) کر دے، اگرچہ یہ مشرکوں کو کتنا ہی نا گوار کیوں نہ ہو۔‘‘آج درحقیقت وہ ایمان،وہ اسلام،وہ توکل اور حسن عمل نہیں ہے جس کا شاہد میدانِ بدر بنا تھا، اقبال ؒ نے کہا تھا ؎فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کواُتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی۔
آج تو فضائے بدر پیدا کرنے کی باتیں‘ افسانوی اور محض کتابی معلوم ہوتی ہیں اللہ ہمیں توفیق عطا فرما کہ ہم اہل کفر کے سامنے اللہ کی یہ آخری کتاب قرآن مجید کاپیغام پہنچائیں اور اپنی ذمہ داری ادا کریں۔آمین
(نوٹ۔ اس مضمون میں ظاہر کی گئی آراء مضمون نگار کی خالصتاً اپنی ہیں اور انہیں کسی بھی طور کشمیر عظمیٰ سے منسوب نہیں کیاجاناچاہئے۔)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔