قبلۂ اول پر صیہونی یلغار

ہمارے قارئین سوشل میڈیاپرمسجداقصیٰ سے متعلق تازہ ترین صورتحال دیکھ رہے ہوں گے کہ جہاں فلسطینی مسلمانوں کازدوکوب کرکے ان کاقبلہ اول میں داخلہ بندکردیاگیاہے ۔جعلی،جبری اورناجائز ریاست اسرائیل کایہ ایکشن ایسے وقت میں سامنے آگیاکہ جب قبلہ اول کے ہمسایہ مسلمان ممالک پرمسلط اغیارکے نمایندے جو علی ا لاعلان صلیبی قوتوںکے اوچھے مقاصد اور مسلم دشمن ایجنڈے کی تکمیل کے لئے ایک دوسرے کاگریبان پھاڑ رہے ہیں ، ایک دوسرے کونیچا دکھا رہے ہیں اور ایک دوسرے کے مفاد ات پر ضربیں لگا رہے ہیں۔ ان کی اس گتھم گتھااورآپسی سرپٹھول کے عالم میںخدانہ کرے کہ کوئی ایساسانحہ عظیم پیش آجائے جسے عملانے کے لئے جعلی،جبری اورناجائز ریاست اسرائیل اپنے یوم ِتاسیس سے ہی تاک میں بیٹھی ہوئی ہے ۔ ناپاک ونامراد یہودی منصوبے میں یہ طے پاچکاہے کہ مسجداقصیٰ کوالعیاذ باللہ شہید کرکے مسلمانوں کے اس مقدس مقام پر ہیکل سلیمانی تعمیرکیاجائے ۔
مسلمانوں کے قبلہ اول کے پڑوس میں موجود مسلمان ممالک میں لگ بھگ 45؍کروڑمسلمان رہتے بستے ہیں،جن میںسے 85ملین یعنی آٹھ کروڑپچاس لاکھ مصری ،55ملین یعنی پانچ کروڑ پانچ لاکھ حجازی ،40ملین یعنی چارکروڑ الجزائری ، 35ملین یعنی تین کروڑپچاس لاکھ مراکشی ،30ملین یعنی تین کروڑ عراقی ،30ملین یعنی تین کروڑ سوڈانی ،45ملین یعنی چارکروڑپچاس لاکھ شامی ،63ملین یعنی چھ کروڑتیس لاکھ یمنی ،10ملین یعنی ایک کروڑتیونسی،7ملین یعنی سترلاکھ اماراتی ، 5ملین یعنی پچاس لاکھ لبنانی ، 5ملین یعنی پچاس لاکھ اردنی، 6ملین یعنی سٹھ لاکھ لیبیائی،3ملین یعنی تیس لاکھ کویتی ،3ملین یعنی تیس لاکھ بحرینی ،2ملین یعنی بیس لاکھ اومانی ،الغرض لگ بھگ 45کروڑمسلمان رہتے بستے ہیں اورانہیں 8ملین یعنی اسی لاکھ اسرائیلوںنے ناک میں دم کررکھاہے ۔اس کے ساتھ ساتھ غیرعرب یعنی عجمی مسلم ممالک کی ایک ارب سے زائدمسلمان آبادی اوریہ کل ملاکرڈیڑھ ارب مسلمان ہوتے ہیں تواتنی عظیم الجثہ امہ کو80لاکھ اسرائیل روزللکاررہاہے اورامہ بے حال اوربے جان ہوکراس للکارکے سامنے لیٹ چکی ہے ۔اناللہ واناالیہ راجعون۔
 مکہ مکرمہ سے بیت المقدس کا فاصلہ تقریبا تیرہ سو کلو میٹر ہے۔فلسطینی اورآس پاس کے مسلمان اسے’’ الحرم القدس الشریف‘‘ کہتے ہیں۔ یہ سرزمین فلسطین پرمشرقی یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل کاناجائزقبضہ اورجارحانہ تسلط ہے۔ مسجد اقصی میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جب کہ مسجد کے مقدس صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔سنہ 2000ء میں الاقصی انتفاضہ کے آغاز کے بعد سے یہاں غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہے۔بیت المقدس پہاڑیوں پر آباد ہے۔انہی میں سے ایک پہاڑی کا نام کوہ صہیون جس پر مسجد اقصیٰ اور قبہ الصخرہ واقع ہیں۔کوہ صہیون کے نام پر ہی یہود یوں کوصہیونی اوران کے جبرکو صہیونیت کہاجاتا ہے۔بیت اللحم اور الخلیل بیت المقدس کے جنوب جب کہ رملہ شمال میں واقع ہے۔مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلہ اول اور خانہ کعبہ اور مسجد نبویؐ کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔
خلیفہ دوئم امیرالمومنین سیدنا حضرت عمر فاروق کے دور میں مسلمانوں نے بیت المقدس فتح کیا تو امیرالمومنین نے شہر سے روانگی کے وقت صخرہ اور براق باندھنے کی جگہ کے قریب مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا، جہاں امیرالمومنین ؓنے صحابہ کرام علییم الرضوان سمیت نماز ادا کی تھی۔بیت المقدس کی فتح کے بعد بہت سے صحابہؓ نے تبلیغ اسلام اور اشاعت دین کی خاطر بیت المقدس میں اقامت اختیار کی۔مقدس دورہ صحابہؓ کے بعد خلیفہ عبد الملک بن مروان نے مسجد اقصیٰ کی تعمیر شروع کرائی اور خلیفہ ولید بن عبد الملک نے اس کی تعمیر مکمل کی اور اس کی تزئین و آرائش کی۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے بھی اس مسجد کی مرمت کرائی۔ پہلی صلیبی جنگ کے بعد جب عیسائیوں کا بیت المقدس پر قبضہ ہو گیا تو انہوں نے مسجد اقصیٰ میں بہت رد و بدل کیا۔ انہوں نے مسجد میں رہنے کے لیے کئی کمرے بنا لیے اور اس کا نام معبد سلیمان رکھا، نیز متعدد دیگر عمارتوں کا اضافہ کیا جو بطور جائے ضرورت اور اناج کی کوٹھیوں کے استعمال ہوتی تھیں۔ انہوں نے مسجد کے اندر اور مسجد کے ساتھ ساتھ گرجا بھی بنا لیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے 1187ء میں فتح بیت المقدس کے بعد مسجد اقصیٰ کو عیسائیوں کے تمام نشانات سے پاک کیا اور محراب اور مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا۔سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے قبلہ اول کی آزادی کے لئے تقریبا 16 جنگیں لڑیں اور ہر جنگ کے دوران وہ مسجدکے لئے بنائے گئے منبر کو اپنے ساتھ رکھتے تھے تا کہ فتح ہونے کے بعد اس کو مسجد میں نصب کریں۔مسجد اقصیٰ کے نام کا اطلاق پورے حرم قدسی پر ہوتا تھا جس میں سب عمارتیں جن میں اہم ترین قبہ الصخرہ ہے جواسلامی طرز تعمیر کے شاندار نمونوں میں شامل ہے ۔ تاہم آج کل یہ نام حرم کے جنوبی جانب والی بڑی مسجد کے بارے میں استعمال کیا جاتا ہے ۔وہ مسجد جو نماز کی جگہ ہے وہ قبہ الصخرہ نہیں، لیکن آج کل قبہ الصخرہ کی سنہری تصاویر پھیلنے کی بنا پر اکثر مسلمان اسے ہی مسجد اقصیٰ خیال کرتے ہیں، حالانکہ فی الواقع ایسی بات نہیںبلکہ مسجد الاقصیٰ تو بڑے صحن کے جنوبی حصہ میں اور قبہ صحن کے وسط میں ایک اونچی جگہ پر واقع ہے۔
پہلی جنگ عظیم دسمبر 1917 کے دوران میں انگریزوں نے بیت المقدس اور فلسطین پر قبضہ کر کے یہودیوں کو آباد ہونے کی عام اجازت دے دی- نومبر 1947ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کو عربوں اور یہودیوں میں تقسیم کردیا اور جب 14 مئی 1948 ء کو یہودیوں نے جعلی،جبری اورناجائز ریاست اسرائیل کے قیام کا اعلان کردیا تو پہلی عرب اسرائیل جنگ چھڑ گئی۔ اس جنگ کے نتیجے میں اسرائیلی فلسطین کے 78 ؍فیصد رقبے پر قابض ہوگئے تاہم مشرقی یروشلم’’بیت المقدس‘‘غرب اردن کے علاقے اردن کے قبضے میں آگئے- تیسری عرب اسرائیل جنگ جوان 1967میں اسرائیلیوں نے بقیہ فلسطین اور بیت المقدس پر بھی تسلط جما لیا- یہودیوں کاچھوٹادعویٰ یہ ہے کہ 70 کی تباہی سے ہیکل سلیمانی کی ایک دیوار کا کچھ حصہ بچا ہوا ہے جہاں دو ہزار سال سے یہودی زائرین آکر رویا کرتے تھے۔اسی لیے اسے’’ دیوار گریہ‘‘ کہا جاتا ہے ۔
ہیکل سلیمانی اوربیت المقدس کو 586ق م میں شاہ بابل یعنی عراق کے بادشاہ بخت نصر نے مسمار کردیا تھا اور وہ ایک لاکھ یہودیوں کو غلام بنا کر اپنے ساتھ عراق لے گیا تھا- بیت المقدس کے اس دوربربادی میں حضرت عزیز ؑ کا وہاں سے گزر ہوا، انہوں نے اس شہر کو ویران پایا تو تعجب ظاہر کیا کہ کیا یہ شہر کبھی پھر آباد ہوگا؟ لیکن سو سال بعد بیت المقدس پھر آباد اور پررونق شہر بن چکا تھا- بخت نصر کے بعد 539ق م میں شہنشاہ فارس کوروش کبیر سائرس اعظم نے بابل فتح کر کے بنی اسرائیل کو فلسطین واپس جانے کی اجازت دے دی- یہودی حکمران ہیرو داعظم کے زمانے میں یہودیوں نے بیت المقدس شہر اور ہیکل سلیمان پھر تعمیر کرلیے تھے- یروشلم پر دوسری تباہی رومیوں کے دور میں نازل ہوئی- سورہ الروم کے آغازپر رب الکریم نے اس علاقے اوراس مقام پربخت نصراوررومیوں کے مدوجزر کامفصل تذکرہ فرمایا ۔ 
مسجد اقصیٰ قبلہ اول بیت المقدس کو 59 ؍سال بعد ایک مرتبہ پھر غاصب صیہونی اور جعلی،جبری اورناجائز ریاست اسرائیل کے احکامات پر مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے۔ 1969 ء کے بعد پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ قبلہ اول بیت المقدس کو فلسطینیوں کے لئے مکمل طور پر بند کیا گیا ہے۔ 1969ء میں مسجد اقصیٰ کو صیہونی درندگی کا نشانہ بنایا گیا تھا اور مسجد اقصیٰ کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی گئی تھی جس کے باعث مسجد کے بڑے حصے کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ اِس وقت بھی صیہونی احکامات پر مسجد اقصیٰ کو مکمل طور پر بند کردیا گیا تھا اور اب جمعتہ المبارک 14؍جولائی2017 ء کو مسجد اقصیٰ پر صیہونی افواج کے ایک جارحانہ حملے کے بعد اسے ایک مرتبہ پھر مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے مسجد اقصیٰ پر حملہ کیا اور تین فلسطینیوں کو جو کہ نہتے تھے، انہیں شہید کردیا، جب کہ اسرائیلی افواج کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی توہین بھی کی گئی جس پر فلسطینیوں نے شدید احتجاج کیا اور جھڑپوں میں دو اسرائیلی صیہونی فوجی بھی مارے گئے۔ بہرحال اِن تمام حالات کے بعد اب مسلمانوں کا قبلہ اول بیت المقدس کہ جو خانہ کعبہ او روضہ رسول کے بعد مسلم دنیا کا تیسرا مقدس مقام ہے اسے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے اور فلسطینی مسلمانوں کواس میں داخل ہونے اورعبادت کرنے کی اجازت نہیں ہے۔مسلمانوںکے حقوق ومعاملات،ان کے مقامات مقدسہ اور شعائراسلام کے تحفظ کے حوالے سے غیرمسلم اقوام کے معیار بدل جاتے ہیںاور اقوام متحدہ کوبھی اس حوالے سے انسانیت یاد رہتی ہے اور نہ ہی انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو احساس ہوپاتا ہے۔ 
مسجد اقصیٰ ایک ایسا مقدس ترین مقام ہے کہ جو انبیائے کرام کامسکن اورمدفن رہا ۔اِس مقام مقدسہ کی فضیلت میں سے سب سے بڑی فضلیت کاسبب یہ بھی ہے کہ سید الانبیا ء ،خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی کریم صلعم سفرمعراج کے دوران مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ لائے گئے اورمسجد اقصیٰ میں تمام انبیا ء کرام کی نماز کی امامت کرنے کے بعد آپ صلعم براق کے ذریعے یہیںسے ساتوں آسمانوں کاسفرطے کرکے رب العالمین سے ہم کلام ہوئے۔قرآن مجید،فرقان حمیدکی پندرویں پارہ کاآغازاورسورہ الاسراء کے ابتدائی حصے کامطالعہ پورے شرح وبسط کے ساتھ اِس مبارک سفرمعراج کومبارک الفاظ میں بیان کرتاہے اوراس مقام مقدسہ کے فضائل نکھارتاہے۔
جعلی،جبری اورناجائز ریاست اسرائیل کی فلسطینی سرزمین پر قبضے کے بعد سے ہی یہ کوشش رہی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح بیت المقدس پر اپنا مکمل کنٹرول حاصل کر لے اور اِس کام کے لئے صیہونیوں نے نہ صرف مسجد اقصیٰ کے نیچے کھدائی کر کے مسجد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، بلکہ 1969 میں جنونی صیہونیوں نے مسجد اقصیٰ کو نذرِ آتش کر کے اپنے مذموم عزائم کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔14 ؍جولائی 2017 ء کو اسرائیلی افواج کا بیت المقدس پر حملہ اور معصوم فلسطینیوں کو شہید کرنا اور پھر مسجد کو مکمل طور پر بند کر دینا دراصل ایک کے بعد ایک بین الاقوامی قانون کی دھجیاں بکھیرنے کی کھلی مثالیں ہیں۔بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے قوانین کی رو سے دنیا کے ہر فرد کو آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہوں میں آزادی کے ساتھ عبادت کرے اور آمدورفت رکھے لیکن یہ واحد سرزمین فلسطین ہے کہ جہاں اسرائیلی مظالم اور دہشت گردانہ کارروائیوں کے باعث مسلسل 70 ؍برس سے فلسطینی مسلمانوں کے تمام بنیادی حقوق پامال ہوتے آئے ہیں۔ 
پہلے ہی کی طرح 14جولائی2017 کو بھی دنیا نے دیکھا کہ کس طرح مسجد اقصیٰ کے صحن میں تین اسرائیلی فوجی ایک فلسطینی جوان کے جسم میں گولیاں اتار رہے تھے۔ نام نہادعالمی برادری کی بے حسی کو جھنجھوڑنے کے لئے میرے پاس جو شائستہ الفاظ ہیں، میں نے اِن کا استعمال کیا ہے کہ شاید تیرے دل میں اتر جائے میری بات۔دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ قبلہ اول بیت المقدس مسلسل صیہونی سازشوں کے نشانے پر ہے، آئے روز فلسطین میں معصوموں کا قتل عام ہورہا ہے ۔مسلمان ممالک پرمسلط حکمرانوں کواللہ تعالی کی طرف سے یہ غضب نازل ہوچکاہے کہ انہوں نے اپنے آپ کواوراپنے زیرتسلط ممالک کوایسے مسائل میں ایسا اُلجھا رکھا ہے کہ وہاں سے کبھی نکل نہیں پائیں گے ۔جہاں کہیں مسلمانوںکوغلام بنانے کی سازش کو عملی جامہ پہنانے کے لئے تگ ودوجاری ہے، المیہ یہ ہے کہ مسلم دنیا پرمسلط حکمران ہی اس سازش میںاستعمال ہورہے ہیں۔ یہ یقینا مسلم دنیا کی بدترین صورت حال ہے کہ جس سے امریکہ اوراسرائیل سمیت جملہ کفریہ دنیااپنے مقاصد رذیلہ کشیدکررہے ہیں۔ ان کی غفلت اور لاپرواہی کے رویوں کے نتیجہ میںرب الکریم کی یہ ان پرپھٹکارہے کہ قبلہ اول مسجد اقصیٰ صیہونیوں کے کڑے محاصرے میںہے۔ادھرکشمیر اور ادھرفلسطین جس عتاب کا شکار ہیں۔یہ سب مسلم دنیا پرمسلط حکمرانوں کی شامت اعمال اورپھرڈیڑھ ارب مسلمانوں کی بے حسی اورمجرمانہ طرزعمل کانتیجہ ہے۔ امریکا ،اسرائیل اورجملہ عالم کفرکا مقصد یہی ہے کہ تمام مسلمان ممالک آپس میں گتھم گتھا ہوجائیں اور مسئلہ فلسطین اورکشمیرکو فراموش کردیں۔ 
21 اگست 1969 کو ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان نے قبل اول کو آگ لگا دی جس سے مسجد اقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مشرقی جانب عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا۔ محراب میں موجود منبر بھی نذر آتش ہوگیا ۔اس المناک سانحہ کے بعد خواب غفلت میں ڈوبی ہوئی امت مسلمہ کی آنکھ ایک لمحے کے لئے بیدار ہوئی اور سانحے کے تقریبا ایک ہفتے بعد اسلامی ممالک نے موتمر عالم اسلامی ’’او آئی سی‘‘ قائم کر دی۔ تاہم 1973ء میں پاکستان کے شہر لاہور میں ہونے والے دوسرے اجلاس کے بعد سے 56 ؍اسلامی ممالک کی یہ تنظیم عملاََغیر فعال ہے۔یہودی اس مسجد کو ہیکل سلیمانی کی جگہ تعمیر کردہ عبادت گاہ سمجھتے ہیں اور اسے گرا کر دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ کبھی بھی بذریعہ دلیل اس کو ثابت نہیں کرسکے کہ ہیکل سلیمانی یہیں تعمیر تھا۔