قانون کا مقصد ہر شہری کی فلاح و بہبود ہونا چاہئے :مودی

الہ آباد// وزیر اعظم نریندر مودی نے عدلیہ میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیتے ہوئے آج کہا کہ قانون کا مقصد ہر شہری کی فلاح و بہبود ہے ۔مسٹر مودی نے الہ آباد ہائی کورٹ کے 150 ویں یوم تاسیس کی اختتامی تقریب میں کہا کہ ملک کے عوام اور عدالتوں پر سے بوجھ کم کرنے کی سمت میں کام کیا جا رہا ہے اور ابھی تک 1200 قوانین کو ہم نے ختم کیا ہے ۔ عدلیہ کے نظام میں ہماری جو ذمہ داری ہوگی اسے پورا کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی سے سب کا کام آسان ہو جائے گا۔ایس ایم ایس سے مقدمے کی تاریخ بھیجی جائے ، قانون صرف امیروں کیلئے نہیں ہے ۔قانون سب کے لئے ہے اور قانون سب کے لئے برابر ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ ہندستان کے انصاف کی دنیا کی زیارت گاہ ہے ۔عدالت اور جیل کو جوڑا جائے تو مجرم نہیں بھاگ پائیں گے ۔ اس سے قیدیوں کو عدالت لے جانے میں ہونے والا خرچ بھی بچے گا۔مسٹر نریندر مودی نے کہا کہ الہ آباد ہائی ہائی کورٹ کے 100 سال مکمل ہونے پر اس وقت کے صدر جمہوریہ رادھا کرشنن یہاں آئے تھے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ"قانون ایسی بات ہے ، جو مسلسل بدلتی رہتی ہے ۔ قانون لوگوں کے مزاج اور روایتی اقدار کے موافق ہونا چاہئے ۔ قانون کو چیلنجوں کا خیال رکھنا چاہئے ، کس طرح کی زندگی ہم گزارنا چاہتے ہیں؟، قانون کا کیا کہنا ہے ؟،قانون کا مقصد ہے "ہر شہری کی فلاح و بہبود، صرف امیر کی ہی نہیں۔ اس مقصد کو مکمل کیا جانا چاہیے ۔   مسٹر مودی نے کہا کہ گاندھی جی کہتے تھے کہ ہم کوئی بھی فیصلہ کریں تو اس کی کسوٹی کیا ہو؟ وہ کہتے تھے کہ اگر فیصلہ لینے میں مشکوک ہوں تو سوچئے کہ آخری سرے پر بیٹھے شخص پر اس کا اثر کیا ہوگا ؟ تب آپ صحیح فیصلہ لے پائیں گے ۔ مسٹر مودی نے کہا کہ گاندھی جی نے آزادی کے وقت لوگوں کو اپنی صلاحیت کے مطابق ڈھال دیا تھا۔ وکلاء کا بھی اس میں تعاون رہا ہے ۔   انہوں نے کہا کہ 2022 میں آزادی کے 75 سال ہو رہے ہیں۔ کیا الہ آباد سے ملک کو تحریک مل سکتی ہے ۔ کیا ہم کوئی روڈ میپ طے کر سکتے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ لوگ ایسا نہیں کر سکتے ۔ 2022 میں ہم گاندھی جی، رادھا کرشنن کے اقدار پر ملک کو آگے لے جا سکتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ "مجھے امید ہے کہ ملک کے سوا سو کروڑ لوگوں کا خواب ملک کو سوا سو کروڑ قدم آگے لے جا سکتا ہے ۔ میں نے کہا تھا کہ مجھے یہ تو نہیں پتہ کہ کتنے قانون بناؤں گا لیکن روز ایک قانون ختم کروں گا، اب تک ہم نے 1200 قانون ختم کر دیئے ہیں"۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کے 150 سال مکمل ہونے پر منعقدہ پروگرام کا آج اختتام ہو رہا ہے ، سال بھر چلنے والی تقریب اختتام کے ساتھ نئی توانائی، نئی تحریک، نئے حل اور نئے ہندوستان کے خواب کو پورا کرنے کی طاقت بن سکتی ہے ۔ مسٹر مودی نے اس موقع پر الہ آباد ہائی کورٹ سے متعلق یادگاری سوینیر بھی جاری کیا۔ اس موقع پر مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد نے کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کی تاریخ انتہائی قابل فخررہا ہے اور اس کے فیصلے سنگ میل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم فوری انصاف کی سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور حکومت عدلیہ کی غیر جانبداری کے لئے مصروف عمل ہے ۔ تقریب میں وزیر اعلی مسٹر یوگی نے کہا کہ عدالتوں میں زیر التوا معاملات جلد ختم کرنے کی پہل عدلیہ نے ہی کی ہے ۔ قانون سے بڑا کوئی نہیں ہے اور انصاف فراہم کرناسب سے بڑا مذہب ہے ۔ کوئی بھی سماج قانون ہی چلتا ہے ۔انہوں نے کہا، "عدلیہ اور مقننہ ہمیشہ سے ایک دوسرے کی تکمیل کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے مسٹر مودی نے دیپ جلاکر الہ آباد ہائی کورٹ کے 150 ویں یوم تاسیس کی اختتامی تقریب کے پروگرام کی شروعات کی۔ اس موقع پر الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر ڈی بی بھوسلے نے مسٹر مودی کو میمنٹو پیش کیا۔ خیال ر ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ ایشیا کی سب سے پرانی عدالتوں میں ہے ۔ یہ ہائی کورٹ پہلے آگرہ میں تھی اور بعد میں اس الہ آباد میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کی بنچ لکھنؤ میں بھی ہے ۔ اس تقریب میں حصہ لینے کے لئے صبح قریب ساڑھے دس بجے یہاں بمرولی ہوائی اڈے پہنچنے پر اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے وزیر اعظم مسٹر مودی کا خیر مقدم کیا۔