قانون ساز اسمبلی میںمسلہ کشمیر کی صدائے باز گشت

جموں/ / قانون سازاسمبلی میں کچھ اپوزیشن اور چند حکومتی اراکین نے الحاق کو مشروط اور مجبوری قرار دیتے ہوئے کشمیر یوں کو حق خود ارادیت کی حمایت کی۔اس دوران اراکین نے جنگجوئیانہ اورسنگباری کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی پاداش میں گرفتارنظربندوں کیخلاف لاگوپبلک سیفٹی ایکٹ کاسرنوجائزہ لینے اور سرحدپارسے کشمیرواپسی کیلئے نیپال کے راستے کوجائزقراردینے کی مانگ کرتے ہوئے پاکستان اورپاکستانی زیرانتظام کشمیرسے تعلق رکھنے والی خواتین کوپاسپورٹ اورسفری دستاویزات فراہم کرنے پربھی زوردیا ۔ممبر اسمبلی بانڈی پورہ نے پی ڈی پی ممبران سے مخاطب ہو کر کہا کہ اگر میں اخوانی ہوں تو آپ لوگوں کے ہاتھ بھی معصوم لوگوں کے لہو سے رنگے ہوئے ہیں۔سنیچر کو وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے تابع محکمہ داخلہ کے مطالبات زر پیش کئے گئے۔ اس موقعہ پرپی ڈی پی سے وابستہ کچھ ممبران اسمبلی اور ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید یک زبان نظر آئے جب  انجینئر رشیدنے ایوان میں مسئلہ کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قراردادوں اور وعدوں کے مطابق کشمیر ی عوام کو اب بھی رائے شماری یا حق خود ارادیت کا حق حاصل ہے۔ اس موقعہ پر بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ ممبر اسمبلی پون گپتا نے انجینئر رشید کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ آپ بار بار ایوان میں مسئلہ کشمیر کے حل طلب ہونے اور کشمیریوں کی حق خور ارادیت کی بات کرتے ہیں۔ دونوں کے درمیان اس معاملے پر نوک جھونک اور گرم گفتاری بھی ہوئی۔ممبراسمبلی لنگیٹ نے وزیر اعلیٰ سے سوال کیاکہ وہ ان والدین کو کس طرح تسلی دینا تجویز کرینگی جن کے معصوم بچوں کو خون میں نہلا کر تب تابوتوں میں بھر دیا گیا جب انکے کھیلنے کی عمر تھی۔ انجینئر رشید نے ایوان میں جموی مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور وادی میں ہوتی آرہی زیادتیوں کو لیکر وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے سوال کیا کہ اگر وہ طبعی موت مرنے والے اپنے 82سال کے والد کو نہیں بھلا پارہی ہیں تو پھر کشمیری عوام اپنے ان معصوموں کو کیسے بھلاسکتے ہیں جنہیں سرکاری فورسز نے بے موت مارا ۔انجینئر رشید نے کہا کہ کشمیری عوام افسپا،پی ایس اے اور اس طرح کے کالے قوانین کی تنسیخ کے لئے بھیک مانگنے کے بجائے کسی بھی طرح کے دباؤمیں آئے بغیر حق خود ارادیت کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی جیسی جماعتوں کو نوآبادیاتی نظام کے ایجنٹوں سے زیادہ کچھ بھی ثابت نہیں ہونے دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیری قوم کی جدوجہد نہ افسپا کو ہٹوانے کے لئے ہے نہ پی ایس اے یا اس طرح کے کسی اور قانون کی تنسیخ کرانے کے لئے اور نہ ہی معصوم بچوں کو اندھا کردینے والے پیلٹ گن پر پابندی کے لئے بلکہ یہ خالصتاََ حق خودارادیت کی تحریک ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاستی عوام نے محبوبہ مفتی میں رضیہ سلطانہ کی جھلک دیکھنا چاہی تھی لیکن ناگپور والوں نے انہیں مخالف راستے پر ڈالدیا ہے اور وہ بھی اسی راستے پر آگے ہی بڑھتی جارہی ہیں۔انجینئر رشید نے کہا کہ محبوبہ جی کا اپنے 82سال کے والد کی جدائی میں بار بار رونا ٹھیک ہے اور ایسی محبت کے لئے انکی تعریفیں کی جانی چاہیئں تاہم انہوں نے محبوبہ مفتی سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان والدین کو کس طرح تسلی دینا تجویز کرینگی جن کے معصوم بچوں کو خون میں نہلا کر تابوتوں میں بھر دیا گیا جب انکے کھیلنے کی عمر تھی۔اسی دوران پی ڈی پی سے وابستہ ممبر اسمبلی چاڈورہ جاوید مصطفی میر اپنی نشست پر کھڑے ہوئے اور انہوں نے انجینئر رشید کا ساتھ دیتے ہوئے بتایا کہ کشمیریوں کی طرف سے رائے شماری کی مانگ کرنا اب بھی جائز ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے کشمیری عوام کے ساتھ یہ وعدہ کیاہے کہ انہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ لینے کیلئے رائے شماری کا موقعہ فراہم کیا جائیگا۔ جاوید مصطفی میر کا کہنا تھاکہ پنڈت نہرو کے اس وعدے کے تحت کشمیری عوام کا مطالبہ رائے شماری آئینی طور جائز ہے اور اگر اسمبلی کے ایوان میں کسی ممبر کی طرف سے اس کا ذکر کیا جاتا ہے تو یہ کوئی غیر آئینی حرکت نہیں ہے اور نہ اس بحث کو ایوان کی کارروائی سے حذف کیا جاسکتا ہے۔ جاوید مصطفی میر کا مزید کہنا تھاکہ جب عمر عبداللہ ریاست کے وزیر اعلیٰ تھے تو میں نے اس وقت اسی ایوان میں پنڈت نہرو کے وعدے کی یاد دہانی کرائی تھی تو میرے الفاظ کو ایوان کی کارروائی سے حذف نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے  اسپیکر سے مخاطب ہو کر کہا کہ اگر انجینئر رشید کی باتوں یا اظہار خیال کو ایوان کی کارروائی سے حذف کیا جاتا ہے تو میرے اُن الفاظ کو بھی حذف کیا جائے۔  جاوید مصطفی میر نے کہاکہ کشمیر میں حالات خراب کرنے کیلئے عمر عبداللہ ذمہ دار ہیں نہ محبوبہ مفتی ،بلکہ یہ بیج خود ہندوستان نے بویاہے اور تب تک حالات ٹھیک نہیں ہوسکتے جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا۔انہوںنے کہاکہ حالات خراب خود حکومت ہند کرتی ہے اور اس کا الزام پھر ریاستی قیادت پر لگادیاجاتاہے ۔ میر نے کہاکہ یہ اہم سوال ہے کہ 1947سے لیکر 2016تک ریاست میں جو کچھ بھی ہوا ،اسے کس نے انجام دیا اور کیسے کیاگیا ۔انہوںنے کہاکہ 1947میں جب ہندوستان آزاد ہواتو یہ ریاست مہاراجہ ہری سنگھ کی تھی ،تب تک تو ہم ہندوستان کا حصہ تھے نہیں لیکن جب ضرورت پڑی تو انہوںنے ہندوستان کے ساتھ نہ ہی الائنس کیا ، نہ انضمام بلکہ کچھ شرائط کی بنیاد پر اپنے طور پر الحاق کیا ۔انہوںنے مرکزی سرکار کو مخاطب ہوکر کہا’’ کتنا زہر پلائیںگے اور ہم پیتے رہیںگے ،زہر پلاتے ہو اورپھر بھی کہتے ہو ہم زندہ رہیں،آپ 1947سے لیکر آج تک ہمیں زہر دے رہے ہو پھر بھی کہتے ہو ہم زندہ رہیں،آج تک حکومت ہند نے کب ہمارے ساتھ انصاف کیا ،چھوڑ دیجئے انسانیت ، کشمیریت ، رائے شماری کو،جو وعدے کئے انہیں پورے کیجئے‘‘۔میر کا مزید کہناتھا’’کیا سر دھڑ سے الگ کردیںگے پھر بھی ہم سے کہیں گے کہ ادھر پتھر کیوں چلتاہے ،ادھر گولی کیوںچلتی ہے ‘‘۔پی ڈی پی رکن اسمبلی نے کہاکہ 2010میں عمرعبداللہ صاحب نے تھوڑے ہی حالات خراب کرائے اور نہ ہی 2016میں محبوبہ مفتی جی نے ایسا کرایا ۔ان کاکہناتھا’’آپ مسئلہ حل کرایئے یہ نہیں ہوگا،خود ہندوستان نے بیج بوکر رکھاہے ،جب اس بیج کو اکھاڑ پھینکیں گے نہیں اورجب تک جموں ، کشمیر اور لداخ سے انصاف نہیں کرینگے تب تک حالات کے ٹھیک ہونے کی امید نہ رکھیئے ‘‘۔ان کاکہناتھاکہ ہندوستان جموں کشمیر میں چاہے جتنا بھی پیسہ کیوں نہ خرچ کرے اور پورے ہندوستان کا بجٹ دے دیاجائے لیکن اس بات کو بھول جایئے کہ حالات ٹھیک ہونگے ۔ان کاکہناتھا’’آپ مسئلہ کشمیر حل نہیں کریںگے توکچھ نہیں ہوگا‘‘۔نیشنل کانفرنس سے وابستہ ممبر اسمبلی سونہ واری محمد اکبر لون نے وزیرا علیٰ محبوبہ مفتی سے اپیل کی کہ جن افراد کو جنگجوئیانہ یا سنگباری کی سرگرمیوں میں شامل ہونے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا ہے ، اُن کے خلاف لاگو پبلک سیفٹی ایکٹ کا فوری جائزہ لینے کیلئے ضلعی سطح پر تعینات پولیس حکام کو ہدایات دی جائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس سارے عمل کے دوران ممبران اسمبلی کی سفارشات کو بھی زیر غور لایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ بد قسمتی سے گرمائی ایجی ٹیشن 2016کے دوران سنگباری اور دیگر ایسی سرگرمیوں میں شامل ہونے کی پاداش میں نوجوانوں کے ساتھ ساتھ مساجد کے امام صاحبان کو بھی گرفتار کیا گیا اور یہ سارے لوگ پی ایس اے کے تحت ایام اسیری کاٹ رہے ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پر زور دیا کہ جن لوگوں کو پی ایس اے کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے ، انکے کیسوں کا جلد سے جلد جائزہ شروع کیا جائے۔ پی ڈی پی ممبر اسمبلی ایڈوکیٹ اعجاز احمد میر نے کہا کہ سرحد پار مقیم کشمیری نوجوانوں کی واپسی اور باز آباد کاری کے حوالے سے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جو کشمیری اپنے بیوی بچوں کو لیکر نیپال کے راستے واپس گھر آجاتے ہیں تو ان کو راستے میں گرفتار کیا جاتا ہے اور پھر انکی گھر واپسی کو جائز بھی قرار نہیں دیا جاتا ہے۔ اعجاز میر نے اس بات پر زور دیا کہ واپسی کیلئے نیپال کے راستے کو جائز قرار دیا جائے ۔ ایڈوکیٹ اعجاز احمد میر نے مطالبہ کیا کہ ایسی خواتین کے حق میں پاسپورٹ اور سفری دستاویزات کی جائیں تاکہ وہ اپنے میکے والوں سے ملنے کیلئے جاسکیں۔انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں ملی ٹنسی کی سرگرمیاں کم ہوئی ہیں ان علاقوں سے افسپا کو ہٹانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔اعجاز میر نے سنگباری کی پاداش میں گرفتار نوجوانوں کو عام معافی دینے پر بھی زور دیا۔ کانگریس سے وابستہ ممبر اسمبلی بانڈی پورہ عثمان مجید نے کہا کہ پی ڈی پی نے الیکشن میں کبھی آزادی تو کبھی پاکستان کو سر عام فروخت کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں ایک اخوانی ہوں تو پی ڈی پی والوں کے ہاتھ بھی معصوم لوگوں کے لہو سے رنگے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے پی ڈی پی کشمیری عوام سے دھوکہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جب الیکشن جلسوں کے دوران پی ڈی پی لیڈران مسئلہ کشمیر ، آزادی اور پاکستان کا ذکر کرتے ہیں تو کشمیری عوام کو لگتا ہے کہ کچھ بڑھا ہونے والا ہے لیکن بعد میں ویسا ہی کچھ ہوتا ہے جیسا پی ڈی پی نے اسمبلی انتخابات کے بعد بھاجپا کا ہاتھ تھام کے کیا۔