قاضی گنڈ میں شدید تصادم،جنگجو اور فوجی ہلاک

 قاضی گنڈ+ترال//جنوبی کشمیر کے قاضی گنڈ علاقے میں منگل کی صبح جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے مابین مسلح تصادم میںمقامی جنگجو اور ایک فوجی اہلکار جاں بحق جبکہ فوج اور پولیس کے 2اہلکار زخمی ہوئے۔ اس دوران فورسز نے ضلع پلوامہ کے ترال علاقے میں جیش محمد کے ایک خفیہ ٹھکانے کا پتہ لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔ قاضی گنڈ میں جاری مسلح تصادم کے پیش نظر جنوبی کشمیر کے بیشتر حصوں میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات منقطع کی گئیں۔ پولیس نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کنڈ قاضی گنڈ کیہلیون کنڈ قاضی گنڈ گائوں میں جنگجوؤں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر 9 آر آر، 10سکھ رجمنٹ ، پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) اور سی آر پی ایف نے مذکورہ علاقہ میں منگل کی صبح تلاشی آپریشن شروع کیا۔ تاہم جب سیکورٹی فورسز علاقہ میں ایک مخصوص جگہ کی جانب پیش قدمی کررہے تھے تو وہاں موجود جنگجوؤں نے ان پر فائرنگ کی۔ پولیس نے بتایا کہ فورسز نے جوابی فائرنگ کی جس کے بعد طرفین کے مابین باضابطہ جھڑپ کا آغاز ہوا۔ پولیس نے مزید بتایا کہ طرفین کے مابین ابتدائی فائرنگ میں ایک جنگجو ہلاک جبکہ فوج کے 2 اہلکار زخمی ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ زخمی فوجی اہلکاروں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں  10سکھ رجمنٹ سے وابستہ ایک اہلکار مجیندر سنگھ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔جبکہ ایک فوجی اہلکار کی حالت نازک ہے اسکے علاوہ ایس ایس پی کولگام کا ایک ذاتی محافظ پولیس کانسٹیبل فدا حسین بلٹ نمبر 726بھی شدید زخمی ہوا ۔ہلاک ہونے والے ایک جنگجو کی شناخت مزمل احمد ڈارعرف بدڑو ساکن یاری پورہ کولگام کے بطور کی گئی ہے جو لشکر طیبہ سے تعلق رکھتا تھا۔دریں اثناء جونہی مذکورہ جنگلاتی علاقے میں تصادم آرائی کا آغاز ہوا تو آس پاس دیہات نبوگ، والٹینگو اور روزلو، چوگام ،سوپٹ ،چرٹ اور کنڈمیں نوجوان گھروں سے باہر آئے اور انکوانٹر کی جگہ کی طرف جانے کی کوشش کی جس کے دوران فورسز اور مظاہرین میں شدید جھڑپیں ہوئیں۔فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے شلنگ کا سہارا لیا۔ علاقے میں جھڑپ ختم ہونے کے بعد میں پر تشدد جھڑپیں جاری رہیں۔مظاہرین نے چوگام میں دیوسر روڑ بند کردیا جس کے بعد شدید شلنگ کی گئی۔ اس دوران جنوبی کشمیر کے چاروں اضلاع اسلام آباد ،کولگام ،پلوامہ اور شوپیان میں کولگام جھڑپ میں مقامی جنگجو کے جاں بحق ہونے کے ساتھ ہی مو بائیل انٹر نیٹ خد مات معطل کر دی گئیں۔ادھرترال کے لام جنگل میں منگل کی صبح فائرنگ  کی آوازیں سنائی دیں۔جس کے فوراً بعد جموں کشمیر پولیس کے اعلیٰ افسران نے سوشل میڈیا پر جھڑپ کی تصدیق کی جو بعد میں افواہ ثابت ہوئی ۔ ترال سے پندرہ کلومیٹر دور گوٹنگو جواہر پورہ لام ترال کے جنگلات سے منگل کی صبح ساڑھے سات بجے کے قریب گولیوں کی آواز سنائی دی  اور علاقے میں فوج اور جنگجوئوں کے درمیان جھڑپ کی افواہ پھیل گئی تاہم جائے واردات کے نزدیک رہائش پذیر آباد ی نے بتایا کہ فائرنگ یک طرفہ ہو رہی تھی۔ پولیس ذرائع نے فائرنگ شروع ہونے کے ساتھ ہی بتایا تھا کہ علاقے میںپیرا  ملٹری کی ایک پارٹی موجود ہے جن کے ساتھ مقامی فورسززایجنسی کے اہلکار شریک نہیں ہیں جسکی وجہ سے مکمل جانکاری موصول نہیں ہورہی ہے ۔ علاقے میں انٹرنیٹ سروس کو فوری طور معطل کیا گیا تاہم بعد میںمعلوم ہوا کہ علاقے میںکوئی جھڑپ نہیں ہوئی بلکہ فوج کے پیرا ونگ سے وابستہ ایک پارٹی نے علاقے میں ایک معمولی کمین گاہ کو دیکھنے کے بعدفائرنگ کرکے آگ لگا دی جہاں سے کچھ چیزیں برآمد کرنے کا دعوی کیا ہے۔