قابل اعتماد اورمعتبرتحقیقا ت ہو

سرینگر//گپکار الائنس نے حیدرپورہ انکوانٹر کی جوڈیشل انکوائری کامطالبہ کیا ہے۔اس ضمن میںصدر جمہوریہ کو ایک مکتوب بھی روانہ کیا جائیگا۔ جمعرات کو اس معاملے پر پیپلز الائنس کی ایک ہنگامی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں محبوبہ مفتی خانہ نظر بندی کے باعث شرکت نہیں کرسکی۔میٹنگ کے بعد الائنس کے ترجمان محمدیوسف تاریگامی نے کہاکہ حیدر پورہ انکاؤنٹر کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے۔انہوںنے کہاکہ ہم نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ،ملک کے صدر رام ناتھ کووندکو ایک خط بھیجیں گے جس میں ہم نے مطالبہ  کیاہے کہ اس کی معتبر تحقیقات ہونی چاہیے۔تاریگامی کاکہناتھاکہ ہم نے کہا ہے کہ حیدرپورہ انکائونٹرکی معتبر انکوائری ہونی چاہیے اور ہم سمجھتے ہیں کہ صرف عدالتی انکوائری ہی درست ہے۔انہوں نے کہا کہ واقعہ میں ملوث افراد کے ساتھ قانون کے مطابق نمٹا جائے۔ تاریگامی نے کہاکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس میں ملوث افراد قطعہ نظر ان کے عہدوں کے، قانون کی خلاف ورزی کرنے والے ہیں اور سزا کے مستحق ہیں۔انہوںنے کہاکہ ستم ظریفی یہ ہے کہ متعدد مسائل بشمول کوویڈ، سیکورٹی وجوہات اور دیگر کا حوالہ دیتے ہوئے تدفین کی اجازت نہیں دی جارہی ہے جو کہ آئین کے خلاف ہے۔ تاریگامی نے کہاکہ ہم نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی قیادت میں متاثرہ خاندانوں سے ملنے کا فیصلہ کیا تھا اور پولیس کو اس  بارے میں مطلع کیا تھا، لیکن اجازت نہیں دی گئی۔انہوں نے کہا کہ یہ وقت سیاست کرنے کا نہیں ہے بلکہ غم کو دور کرنیکا ہے۔ تاریگامی نے کہاکہ ہر کوئی حیدر پورہ میں ہونے والی اموات پر سوگوار ہے۔ اگر واقعات نہ رکے اور لاشیں واپس نہ کی گئیں تو ہم آواز اٹھانے کے لئے ہر دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ارکان پارلیمنٹ بھی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے۔تاریگامی نے کہاکہ پورا کشمیر صورتحال کو سمجھتا ہے اور ہم متحد ہو کر آواز اٹھائیں گے اور کشمیر کو قبرستان میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے لوگوں کی زندگیوں کا تحفظ چاہتے ہیں، یہی ہماری فکر ہے۔