فیصل سے مرسی تک

عالم  اسلام کا ایک اور عظیم مجاہد محمد مرسی صیہونی سازشوں کا شکار ہوکر اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔مصر جہاں ہر دور میں فرعونیت کا راج رہا، فرعونِ وقت کے قوانین اور مظالم سے دوچار اخوان المسلمین کا جمہوریت پسند سچا اور پکا مسلمان رہنما ساری دنیا کے زندہ ضمیر مسلمانوں کو اشک بار کرگیا۔ مصر کے سابق صدر کا تختہ اُلٹ کر صیہونیوں کے آلۂ کار السیسی نے جیل میں ڈال دیا تھا اور محمد مرسی کے علاوہ 132؍افراد پر جیل توڑنے ملکی دفاعی راز افشا کرنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ تعاون اور ان کے ذریعہ مصر میں دہشت گردی پھیلانے کے الزام میں 20سال قید کی سزا سنائی تھی۔ مئی 2015ء میں مصر کی ایک عدالت نے محمد مرسی کو جیل توڑنے کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی جسے مصر کی اعلیٰ ترین عدالت میں ختم کردیا تھا، مگر یہ ایک المناک حقیقت ہے کہ دوران قید ہی احاطہ عدالت میں وہ اللہ کو پیارے ہوگئے۔ محمد مرسی بلاشبہ عالم اسلام کے حالیہ عرصہ کے دوران غیر معمولی عوامی مقبولیت حاصل کرنے والے قائد تھے جنہوں نے مصر کو مغربی تہذیب کی آلودگی سے پاک کرنے کی کوشش کی۔ اسلامی نظام کو رائج کرنے کے عزائم تھے۔ گذشتہ 60سال کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ یہود و نصاریٰ نے عالم اسلام کو مختلف بہانوں سے تباہ و تاراج کرنے کی کوشش کی۔جو سلسلہ شاہ فیصل سے شروع ہوا تھا ،صدام حسین سے ہوتا ہوا مرسی تک پہنچا اور مستقبل میں اندیشہ ہے کہ کچھ اور ایسے مسلم ممالک کے سربراہوں کو کسی نہ کسی بہانے سے صفحہ ہستی سے مٹادیا جائے گا جو مغرب کی بالادستی کو قبول نہیں کرتے، جو اپنے ملک میں صالح حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ 20ویں صدی کی ابتداء سے لے کر 21ویں صدی کی ایک چوتھائی تک یہود و نصاریٰ مسلسل مسلمانوں کی طاقت کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ پہلی جنگ عظیم چاہے کسی وجہ سے ہوئی ہو‘ مگر حقیقت تو یہی ہے کہ خلافت عثمانیہ کا خاتمہ اس کا اصل مقصد تھا۔ سعودی عرب میں جب تیل کے ذخائر دریافت ہوئے، وہاں کی زمین سونا اُگلنے لگی اور مغربی دنیا کیلئے عالم عرب کا پٹرول زندہ رہنے کیلئے آکسیجن کی طرح اہم تھا۔ سعودی حکمراں شاہ فیصل نے امریکہ کے لئے پٹرول کی سپلائی بند کردی تھی تب شاہ فیصل کے آگے امریکی صدر ہورائزن کا قاصد گڑگڑا رہا تھا کہ اگر بادشاہ سلامت پٹرول پر سے پابندی ہٹالے تو ان کا جہاز اپنے ملک کے لئے پرواز کرسکتا ہے۔ شاہ فیصل نے جواب دیا تھا کہ ان کی بھی خواہش ہے کہ وہ قبلۂ اول بیت المقدس میں جاکر بارگاہ ِایزدی میں سجدہ کرسکیں۔ شاہ فیصل اور اوپیک کے رُکن ممالک نے 19؍اکتوبر 1973ء سے مارچ 1974ء تک مغرب کے لئے تیل کی سربراہی بند کردی تھی جس سے امریکہ میں بحران کی سی کیفیت پیدا ہوگئی اور عالمی سیاست اور عالمی معیشت دونوں ہی متاثر ہوگئی تھی۔ شاہ فیصل سعودی عرب کی تاریخ کے واحد حکمران ہیں‘ جنہوں نے امریکہ کو ناک رگڑنے کے لئے مجبور کیا تھااور امریکہ نے اس کا انتقام لیا۔ ان کے اپنے بھتیجے کے ہاتھوں 25؍مارچ 1975ء کو شہید کروادیا۔
شاہ فیصل اس لئے بھی مغرب کی نگاہوں میں کھٹک رہے تھے کہ 1974ء میں لاہور میں اسلامی سربراہ کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا تھا جس میں ایک طاقتور اسلامی بلاک کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا تھا جس میں یہ بڑا تاریخ ساز موقع تھا جب اس کانفرنس میں افغانستان، ا لجیریا، بحرین، بنگلہ دیش، گیانا، انڈونیشیا، ایران، لیبیا، ملیشیا، میزبان پاکستان، فلسطین کے سربراہوں نے شرکت کی۔ اس کانفرنس میں پاکستان نے بنگلہ دیش کو ایک آزاد ملک کی حیثیت سے تسلیم کیا تھا اور اس کے بعد ہی دوسرے مسلم ممالک نے بنگلہ دیش کو تسلیم کیا۔ اس سربراہ کانفرنس سے مغرب کے حلقوں میں ہلچل مچ گئی کیوں کہ اس کانفرنس میں اسلامی بلاک کو مغربی تہذیب سے آزاد کرکے وہاں اسلامی کلچر کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ فلسطین کے مسئلہ کی یکسوئی، یروشلم پر عالم عرب کا حق کا بھی اعلان کیا تھا۔ یہ بھلا مغرب کو کیسے گوارا ہوتا کیوں کہ ان کی معیشت کا دار و مدار عالم اسلام ہی رہا ہے؟ چنانچہ مغرب نے اپنی سازشوں سے اسلامی بلاک کو کمزور کرنے کیلئے ان کے قائدین کو راستے سے ہٹانا شروع کیا۔ 
کچھ مہینوں بعد یکے بعد دیگر وہ قائدین جو اس کانفرنس کے روح رواں تھے‘ صفحہ ہستی سے مٹادیئے گئے۔ شاہ فیصل شہید ہوئے، شیخ مجیب الرحمن وزیر اعظم بنگلہ دیش اپنے چھ ارکان خاندان کے ساتھ 15؍اگست 1975ء کو ہلاک کردیئے گئے۔ شیخ حسینہ واجد اُن دنوں لندن میں زیر تعلیم تھیں۔ اس لئے بچ گئیں۔ ذوالفقار علی بھٹو ایک قتل کی سازش میں پھانسی پر چڑھا دئے گئے۔ 9برس بعد1988ء میں جنرل ضیاء الحق طیارہ حادثہ میں جاں بحق ہوگئے، انہوں نے بھی اپنے ملک میں نظام مصطفیٰؐ رائج کرنے کا خواب دیکھنا شروع کیا تھی۔ بہرحال مسلم حکمرانوں کے صفایا کا سلسلہ جاری رہا۔ ایران، عراق جنگ میں بھی مغرب کا حال رہا جس میں قدرتی وسائل سے مالا مال دو ممالک کو جھونک دیا گیا، لاکھوں مسلمانوں چاہے ان کا تعلق کسی بھی مسلک سے کیوں نہ رہا ہوں لقمۂ اجل بن گئے۔1980ء سے 2019ء تک 30سال کا اگر جائزہ لیا جائے تو کم و بیش 14مسلم ممالک کو مغرب نے جن کی قیادت امریکہ نے کی‘ کسی نہ کسی بہانے سے تاخت و تاراج کیا۔ چاہے وہ ایران ہو یا لیبیا جس پر (1981, 86, 89 اور 2011ء میں حملے کئے گئے)آخر کار عرب بہار یہ کے نام پر کرنل قذافی بھی ہلاک کردیئے گئے۔ لبنان 1983ء، کویت 1981ء عراق 1991ء، 2004 اور 2011، صومالیہ 1992, 93 اور 2007، بوسنیا 1995، سعودی عرب 1991, 1996، افغانستان 1998, 2007، سوڈان 1998، کوسوو 1999، یمن 2000اور 2002 پاکستان 2004ء کے بعد شام کی تباہی کا سلسلہ شدومد سے جاری ہے۔مسلم ممالک میں مغرب کی لوٹ کھسوٹ، جبر و تشدد ایک طرف مغربی ممالک میں مسلمانوں کو تنگ کرنے ، ان سے ان کے مذہبی حقوق چھیننے کی کوششیں جاری ہیں۔ 9/11 حالانکہ خود یہودیوں اور نصرانیوں کی سازشوں کا نتیجہ تھا، مگر الزام آیا مسلمانوں پر۔ اس کے بعد سے ساری دنیا میں مسلمانوں کو دہشت گرد کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔ داڑھی ، ٹوپی، حجاب اور مساجد کے میناروں پر پابندی کی کوششیں جاری ہیں۔ ڈنمارک جسے حرامیوں کا مرکز کہا جاتا ہے‘ جہاں مسلمانوں نے اپنی مذہبی شناخت برقرار رکھنے کی کوشش کی ،تو حکومت نے باقاعدہ ان مسلمانوں کو ڈنمارک کے کلچر کو اپنانے کا حکم دیا ہے۔ دوسری صورت میں انہیں تمام مراعات سے محروم کردینے کی دھمکی دی گئی ہے۔ آسٹریا، بلجیم، اٹلی اور باویریا، فرانس، جرمنی میں بھی حجاب پر پابندی، مسلمانوں کو ان کی شناخت ختم کرنے کے لئے مجبور کیا جارہا ہے۔تاہم مسلمان حالات سے مقابلہ کررہے ہیں۔ دنیا کی تاریح گواہ ہے کہ جب جب مسلمانوں پر ظلم بڑھا تب تب مسلمانوں نے اسے سہا بھی اور مقابلہ بھی کیا اور اپنی مذہبی شناخت کی حفاظت کی چاہے وہ سوویت یونین ہو‘ یا چین سوویت یونین میں بھی مساوات کا درس دینے والے لادینی کمیونسٹوں نے مساجد کو تالے لگادیئے تھے اور علمائے کرام مظالم ڈھائے۔ قرآن کریم پر پابندی عائد کی تھی۔ 70برس تک سوویت یونین کے مسلمان نسل درنسل خاموشی کے ساتھ تہہ خانوں میں واٹر پائپ میں چھپ چھپ کر اپنی نئی نسلوں کو اپنا مذہب سے آشنا کرتے رہے۔ اور ایک وقت وہ بھی آیا جب اسلام کو مٹانے کی کوشش کرنے والا سوویت کے تین ٹکڑے ٹکڑے ہوگیابکھرگیا اور خدائی کے منکر کمیونسٹ اپنے جن قائدین کو خدا کی طرح پوجتے تھے،ان کے مجسموں کو مردہ کتوں کی سڑی ہوئی لاشوں کی طرح سڑکوں پر گھسیٹا گیا۔
مصر اور ترکی میں اسلام کا سورج دوبارہ طلوع ہوا۔ مغرب ہی نہیں‘ تمام اسلام دشمن طاقتوں کی آنکھیں چندھیا گئیں عالم اسلام میں اتحاد کے فقدان،مسند اقتدار کیلئے اپنی قوم، غیرت و حمیت کو قربان کرنے والے شاہوں اور شہزادوں کی کمزوری کا فائدہ اٹھایا اور ایک ملک کو دوسرے ملک کا خوف دلاکر دونوں کا استحصال کیا۔ انہیں تحفظ فراہم کرنے کے بہانے اپنے اَربوں ڈالرس کے ہتھیار فروخت کئے۔ پانی کے بھائو ان کا تیل حاصل کیا اور ہر بڑی کمپنی اور اہم اداروں پر اپنے نمائندوں کو مسلط کردیا۔ آج عالم عرب کی بے بسی کا یہ حال ہے کہ وہاں کی مساجد کے خطبات اور وہاں کے جامعات کا نصاب بھی اب آنے والے دنوں میں امریکہ کی منظوری سے ممکن ہے۔
جس طرح گذشتہ صدی میں خلافت عثمانیہ کو ختم کرنے کیلئے پہلی جنگ عظیم ہوئی‘ اب عالم اسلام کو برباد کرنے کیلئے تیسری جنگ کا بہانہ تلاش کیا جارہا ہے۔ اس وقت سعودی عرب کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کی سازش ہے۔ پاکستان دو ٹکڑے ہوچکا ہے ،اس کی مزید تقسیم کی سازشیں زیر عمل ہیں۔ ایران اور عراق کی تقسیم بھی ان کا ہدف رہا ہے۔ ایک وقت ایسا بھی ممکن ہے جب سعودی عرب پر بھی ن کا قبضہ ہوجائے گا، ویسے بھی سعودی عرب کے عیاش وبے نیاز حکمران انہی کے شکنجے میں ہیں‘ کیوں کہ انہوں نے اس مقدس سرزمین پر سنیما گھر قائم کرنے کے لئے کسینوز اور نائٹ کلبوں کا کلچر بھی متعارف کیا ہے۔ وہاں ترقی کے نام پر مخلوط کلچر کو فروغ دیا جارہا ہے۔ عوام کو عیاشی اور موج مستی کا عادی بنایا جارہا ہے۔ آج تو عرب ممالک امریکہ کو اپنا حق سمجھ رہے ہیں مگر آنے والے کل کسی نہ کسی بہانے سے ان کی سرزمین پر اور بیرونی ممالک کے بنکوں میں موجود ان کی بھاری رقومات کو وہ ضبط کرلیںگے اور ان عیاش حکمرانوں کو انہی کے ارکان خاندان کے ہاتھ ختم کرادیںگے۔ اللہ رحم کرے۔
رابطہ : ایڈیٹر ’’گواہ‘‘ فون9395381226