فیصلہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں:سول سوسائٹی

سرینگر// نظر بندوں کی رہائی ،آر پار تجارت کو بحال کرنے اور جموں سرینگر شاہراہ پر 2 روزہ پابندی کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے سیول سوسائٹی ممبران نے سوموار کو پریس کالونی میں احتجاجی دھرنا دیا ۔مظاہرین میں محمد امین صوفی ، سلمان بٹ اور صدر الطاف احمدبھی شامل تھے۔مظاہرین ایل او سی تجارت کی معطلی کے فیصلے کے خلاف نعرہ بازی کر رہے تھے ۔اُن کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ ممبران کا کہنا تھا کہ گزشتہ 11برسوں سے آر پار تجارت جاری ہے اور آج تک ایسا کھبی نہیں دیکھنے کو ملا تاہم آج تجارت کو معطل کرنا یہ وادی کے لوگوں کے روزگار کے ساتھ کھیلنے کے برابر ہے ۔انہوں نے نظر بندوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مختلف جیلوں میں نظر بند کشمیریوں کی حالت دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے جبکہ انہیں گھر والوں سے بھی ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی ۔ احتجاجیوں  نے جموں سرینگر شاہراہ پر سیول ٹرانسپورٹ پر پابندی کے خلاف بھی احتجاج کیا ۔اُن کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ ریاست کی اقتصادی حثیت کو کمزور کرنے کی ایک سازش کے تحت ہو رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے نہ صرف عام شہریوں کو بلکہ مریضوں اور طلاب کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وادی کو روزانہ اس فیصلے سے کروڑوں کا نقصان ہوتا ہے ۔مظاہرین نے احتجاج کرتے ہوئے آر پار تجارت کو بند کرنے کے فیصلے کو واپس لینے کیلئے جموں سرینگر شاہراہ پر دو روزہ پابندی ہٹانے اور نظر بند کی رہائی کا مطالبہ کیا اور سرکار کو اس فیصلے پر دوبارہ سے نظر ثانی کرنے کی اپیل کی ۔