فکری اختلاف…متوازن رویہ

 ۲۔  جماعت ِ اسلامی
امت مسلمہ کی نشاۃ ثانیہ کے لئے صدیوںسے جدوجہدجاری ہے۔اس جہدوکاوش کی نوعیت علمی وفکری بھی ہے،سماجی وتہذیبی بھی اورسیاسی وتمدنی بھی۔ہردورکے صاحبانِ علم وفکر اپنی اپنی صلاحیتوںاورفہم ودانش کے مطابق اس جدوجہدمیںحصہ لیتے رہے ہیں۔اکابرِامت کی لمبی فہرست ہے جن کی کاوشوںاورقربانیوںکے دمکتے نقوش جریدئہ عالم کے صفحات پرثبت ہیں۔بیسویںصدی کے قافلہ سالاروں میں متعددنام سامنے آتے ہیں مگرجن شخصیات نے امت کی بیدرای میںبہت نمایاںکرداراداکیااورعلمی وفکری اورتعلیمی دائروںمیںنہایت وسیع اثرات مرتب کئے،ان میں ہمیں مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی نمایاںنظرآتے ہیں۔
1931میںمولاناسیدمودودی نے رسالہ’ترجمان القرآن‘خریدا۔بعدازاںیہی رسالہ مولاناکے افکارونظریات کی شاعت کے ساتھ ساتھ ان کی شہرت کاذریعہ بنا۔1936تک یہ رسالہ خالص علمی ومذہبی نوعیت کاتھا۔’حکومت الٰہیہ‘یا’نظامِ اسلامی کی اقامت‘ کے حوالے سے ابھی تک اس رسالے کے صفحات ناآشناتھے۔مسلمانوںکے مذہبی افکارواعمال پرتنقیدکے ساتھ ساتھ مغربی افکارونظریات اورتہذیب ِ فرنگی کے تاریک پہلوئوںپرمولانامتکلمانہ تنقیدکرتے تھے اوراسلامی تہذیب کے محاسن کی تائید وحمایت کاپہلوغالب تھا۔یہ رسالہ غیرمنقسم ہندوستان میںبلاامتیازمسلک وعقیدہ اہلِ علم کی ایک بڑی تعدادکومتاثرکئے بنانہ رہ سکا۔مولانامودودی ایک منجھے ہوئے انشاء پرداز تھے ۔ اُن کے قلم کاجادُواقبالؔاورکلامؔ کوبھی اپنااسیرکرگیا۔اُن کے اچھوتے اسلوبِ نگارش اوردل کش منطقی طرزِاستدلال کابھی اس جذب والتفات میںبڑاحصہ تھا۔
1937 کے جداگانہ انتخاب میںکانگریس کوہندوستان کے اکثرصوبوںمیںواضح اکثریت حاصل ہوگئی تھی۔اس صورتحال نے مسلمانوں میں اضطراب وسراسیمگی کی کیفیت پیداکردی اوروہ اپنے مستقبل کے بارے میںسنجیدگی کے ساتھ سوچنے پرمجبورہوگئے۔مسلمان محسوس کرنے لگے تھے کہ اگراس خطرے کابروقت سدِّباب نہ کیاگیاتومسلمانوںکے ملّی تشخص اوران کی تہذیبی انفرادیت کاخاتمہ یقینی ہے۔کانگریس کی اس غیرمعمولی کامیابی کودیکھ کر مسلمانوںکاایک طبقہ جس کی قیادت علماء کے ایک گروپ کے ہاتھ میںتھی،کانگریس کاہم نوابن گیااور’متحدہ قومیت‘کی حمایت شروع کردی۔ مسلم لیگ اوراس کے حامی علماء نے شدیدمخالفت کی ۔اس صورتحال کے پیش ِ نظرمولاناسیدمودودی نے 1937کے آخراور1939کے آغازتک ایک سلسلہ مضامین شروع کیاجوبعدازاں’مسلمان اورموجودہ سیاسی کشمکش‘کے نام سے کتابی صورت میںشائع ہوا۔
ان مضامین میںایک طرف جمہوری لادینی نظام کی مضرتوںسے،جس کی بنیادقومیت واحدہ کے کانگریسی نظریہ پر قائم تھی،مسلمانانِ ہندکوآگاہ کیاگیاتودوسری طرف آئینی تحفّظات اوربنیادی حقوق کی اصلیت وحقیقت بھی ان پرواضح کی گئی اورانہیںخبردارکیاگیاکہ الفاظ کے گورکھ دندوںمیںنہ الجھیںبلکہ حقائق پرنگاہیںمرکوزرکھیں۔علاوہ ازیںمولانانے ان مضامین میںہی مثبت طورپراپنے نصب العین کابھی اظہارکیا،جوآگے جاکر’اقامتِ دین‘ کی ان کی دعوت وفکر کاسنگِ بنیادبنا۔(احیائے ملت اوردینی جماعتیں،ص272ازالطاف احمداعظمی)
اسلامی نظامِ حیات کے بارے میںمولانامودودی کی تحریروں،ان کے استدلال،ان کے علمِ کلام اوران کے سائنٹفک اسلوبِ نگارش نے مشرق ہی نہیںبلکہ مغرب کی نئی نسل پردوسروںسے زیادہ وسیع اورگہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔اپنی کتابوںکے ذریعے فکری سطح پرانھوںنے بعض کلیدی نوعیت کے نکات کوواضح کیا،جیسے:
۱۔  قوت وطاقت اورحاکمیت وحکمرانی کاسرچشمہ اللہ تعالیٰ ہے۔
۲۔  اسلام ایک جامع نظامِ حیات واقدارہے۔
۳۔  دین وسیاست میںدوئی نہیں۔
۴۔  عصرِحاضرمیںایک اسلامی ریاست کی صورت گری ممکن ہے۔
۵۔  اوراقامت ِ دین کے لئے ایک منظم جدوجہدکی ضرورت ہے۔(ابوالاعلیٰ مودودی:علمی وفکری مطالعہ ۔ص10،مرتبین رفیع الدین ہاشمی،سلیم منصورخالد)
 مولانامودودی نے جماعت اسلامی کی تاسیس نصب العین کے حصول کے لئے اجتماعی جدوجہدکے لئے کی۔وہ نصب العین جیسا کہ سطورِبالامیں اشارہ کیاگیا’حکومتِ الٰہیہ‘کاقیام ہے۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ جس طرح عالم ِ تکوینی کے سارے معاملات اللہ کی مرضی ومنشاء کے مطابق انجام پاتے ہیںاورکائنات کی ہرچیزاس کے تابع فرمان ہے،اسی طرح عالم ِ تشریعی یعنی انسان کی تمدنی زندگی کابھی حاکم وآمراللہ ہے۔اس لئے انسان کے انفرادی واجتماعی دونوںمعاملات اسی کے حکم وہدایت کے مطابق انجام پانے چاہئے۔اگراس کے برخلاف ہے تویہ حاکم ِ حقیقی کے خلاف بغاوت کے ہم معنی ہے۔ ’نصب العین‘کے عنوان کے تحت مولانا محترم رقمطرازہیں’’جماعت اسلامی کانصب العین اوراس کی تمام سعی وجہدکامقصوددنیامیںحکومتِ الٰہیہ کاقیام اورآخرت میںرضائے الٰہی کاحصول ہے ۔‘‘ …(مسلمان اورموجودہ سیاسی کشمکش،حصہ سوم،ص172)
نصب العین کی’تشریح‘کرتے ہوئے وہ مزیدلکھتے ہیں’’جہاںتک امرِتکوینی کاتعلق ہے،اللہ تعالیٰ کی حکومت آپ اپنے زورپرقائم ہے اوراس سے بالاترہے کہ معاذاللہ اس کاقیام وبقابندوںکی مددکا محتاج ہو۔تمام مخلوقات خواہ ارضی ہوںیاسماوی،اس کے قہروغلبہ سے مغلوب ہیں۔اس کے زبردست قانون کی بندش میںجکڑی ہوئی ہے۔کسی میںاس کے حکم سے سرتابی کایارانہیںاوردوسری مخلوقات کی طرح انسان بھی خواہ وہ مومن ہویاکافر،اللہ کی تکوینی حکومت کے تحت ایک بندئہ مجبورہے۔لہٰذاحکومت الٰہیہ کے قیام سے مراداللہ کی تکوینی حکومت کاقیام نہیںبلکہ دراصل اس سے مراداللہ کی شرعی حکومت کاقیام ہے،جس کاتعلق صرف انسان سے اورانسان کی زندگی کے اس حصے سے ہے،جس میںاللہ نے انسان کو اختیار عطا کیا ہے۔‘‘(ایضاًص173)
مولاناکے بقول جوشخص صرف تکوینی حیثیت سے اللہ کومانتاہولیکن انسانی زندگی کے اختیاری حصہ میںخودکومختارِمطلق سمجھتاہواورزمین کے کسی حصّے میںاپنی مرضی کے مطابق جس طرح چاہے حکومت کرنے کامدعی ہو،تووہ دراصل خداکے مقابلے میںبغاوت کامرتکب ہے۔اس بغاوت کوفروکرنامردِمومن کی زندگی کااصل مقصودہے۔لکھتے ہیں ’’مومن کاکام اس بغاوت کودنیاسے مٹانااورخداکی زمین پرخداکے سواہرایک کی خداوندی ختم کردیناہے۔مومن کی زندگی کایہ مشن ہے کہ جس طرح خداکاقانونِ تکوینی تمام کائنات میںنافذہے،اسی طرح خداکاقانونِ شرعی بھی عالمِ انسانی میںنافذہو۔‘‘(ایضاًص 176)
اسلامی ریاست کی ضرورت کے متعلق مولاناکاستدلال یہ ہے کہ قرآن مجیدنے زندگی گزارنے کاجواسلامی تصوردیاہے،وہ یہ ہے کہ انسان کواپنی پوری زندگی اللہ کی رضااورمنشاکے حصول کے لئے صرف کردینی چاہئے۔قرآن صرف اخلاقیات کے اصول ہی بیان نہیںکرتابلکہ زندگی کے دیگرشعبوںکے لئے بھی ہدایات دیتاہے۔وہ بعض جرائم کی سزائیںبھی تجویزکرتاہے اورمالیاتی معاملات کے اصول بھی طے کردیتاہے۔جب تک کوئی ریاست ان کونافذکرنے کے لئے موجودنہ ہو،یہ سارے اصول اورضابطے عمل میںنہیںلائے جاسکتے اوراسی سے اسلامی ریاست کی ضرورت سامنے آتی ہے ۔ مولانا نے سورۃ النساء کی آیت 59 سے اسلامی ریاست کے حسب ذیل اصول اخذکئے؛
۱۔  اللہ،مقتدراوربالادست قانون عطاکرنے والاہے اوربلاچون وچرااُس کی اطاعت لازمی ہے۔(مضمون جاری ہے)
�������