فوٹو جرنلسٹ کے ساتھ زیادتی کا الزام | صحافیوں کا احتجاج

ٹنگمرگ//کنزر میںپیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی میں مبینہ طور پر رکاوٹ ڈالنے اور ایک فوٹو جرنلسٹ کا کیمرہ چھیننے کے واقعہ کیخلاف ٹنگمرگ ورکنگ جرنلسٹ ایسوسی ایشن نے احتجاج کیا اور معاملہ صوبائی کمشنر کشمیر اور ڈپٹی کمشنر باہمولہ کی نوٹس میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ کنزر میںپینے کے پانی کی عدم دستیابی پر لوگ احتجاج کررہے تھے کہ احتجاج کی عکس بندی کرنے کے دوران روزنامہ کشمیر ٹائمز کے فوٹو جرنلسٹ سجاد حمید اور وہاں موجود تحصیلدار کنزر کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے مطابق مذکورہ فوٹو جرنلسٹ کو دھکے مارنے کے علاوہ اُن کاکیمرہ چھیننے کی کوشش کی گئی اور اسے بلیک لسٹ کرنے کی بھی دھمکی دی گئی۔ ایسوسی ایشن نے اس سلسلے میںایس ڈی ایم گلمرگ کے دفتر کے سامنے احتجاج کیا ۔اگرچہ ایس ڈی ایم نے معاملہ رفع دفع کرنے کیلئے ایسوسی ایشن کے صدر اشفاق احمد ڈار کو یقین دلایا کہ آئندہ اس طرح کاکوئی واقعہ دوبارہ پیش نہیں آئے گا تاہم ایسوسی ایشن کی مانگ تھی کہ کارروائی کو یقینی بنایا جائے ۔  ایسوسی ایشن کے ترجمان اعلیٰ مشتاق الحسن نے سجاد حمید کے ساتھ کئے گئے برتائو کی مذمت کرتے ہوئے معاملہ صوبائی کمشنر کشمیر اور ڈپٹی کمشنر باہمولہ کی نوٹس میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔