فورلین شاہراہ کی تعمیراتی کمپنی کے خلاف مقامی ورکروں اور انجینئروں کا ا حتجاج

محمد تسکین
بانہال // فورلین تعمیراتی کمپنی  میں کام کرنے والے ورکروں نے اپنے مطالبات کو لیکر بانہال میں احتجاجی مظاہرے کئے اور دھرنا دیکر کام کو بند کر دیا۔ دھرنے کی وجہ سے بانہال کے شفا پانی علاقے میں کمپنی کے ورکشاپ کا کاج ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے۔ احتجاج پر آمادہ فورلین شاہراہ تعمیراتی ورکروں کا کہنا ہے کہ تعمیراتی کمپنی سی پی پی پی ایل بیرون ریاستوں سے ورکروں کو لاکر یہاں ملازمتیں دے رہی ہے جبکہ یہاں کام کرنے والے مقامی ورکروں اور انجینئروں کو نکال باہر کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فورلین تعمیراتی کمپنی نے لیبر قوانین کی دھجیاں بکھیر کے رکھ دی ہیں اور یہاں کام کرنے والے ورکروں کو نہایت ہی کم اجرتیں دی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رام بن۔ بانہال سیکٹر میں فورلین تعمیراتی کے ورکروں سے روزانہ دس سے بارہ گھنٹوں تک کام لیا جاتا ہے اور بدلے میں انہیں دس سے بارہ ہزار روپئے کی رقم ماہانہ تنخواہ کے طور دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورکروں کا نہ تو انشورنس ہے اور ناہی ان کو پراویڈنٹ فنڈ دیا جاتا ہے جبکہ شناختی کارڈ اور تعیناتی کا آرڈر بھی نہیں دیا جارہا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ کمپنی کے ذمہ دار غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرکے ورکروں میں خوف وہراس پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہیں یا تو باہر کا راستہ دکھایا جا رہا ہے یا انہیں ڈھلواس بٹوت بھیجا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دس بارہ ہزار کی قلیل تنخواہوں پر ورکر کو بانہال سے بٹوت بھیجنا سراسر زیادتی اور ناانصافی ہے۔انہوں نے کہا کہ اب لیبر محکمہ کے احکامات پر مقامی ورکروں اور انجینئروں کی تنخواہیں بڑھانے کا وقت آیا ہے تو انہیں یا تو باہر کا راستہ دکھایا جارہا ہے یا انہیں یہاں سے قلیل تنخواہ کے باوجود دوسرے علاقوں میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ را م بن سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کی نسبت مداخلت کرے ورنہ ورکر غیر معینہ مدت پر ہڑتال پر جائینگے۔بعد میں ایس ایچ او بانہال نعیم الحق نے موقع پر جاکر ورکروں کو یقین دلایا کہ وہ ان کے مطالبات کو کمپنی اور حکام کی نوٹس میں لائینگے اور ان کی یقین دھانی کے بعد دھرنا ختم کیا گیا۔