فورسز کارروائیوں کے دوران مظاہروں کا چلن

جموں//اروند شرما //ریاستی پولیس کے سربراہ نے جنگجومخالف کارروائیوں کے دوران رخنہ اندازی کرنے والے مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میںجائے تصادم یا تلاشی مہم کے قریب آنے والوں کے خلاف اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ جنگجو مخالف کارروائیوں کے دوران سنگبازی کے بڑھتے واقعات کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ ایک میٹنگ کے بعد ریاستی ڈی جی پی ایس پی وید نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ مظاہرین کو انکاﺅنٹر یا تلاشی کے مقام سے ایک کلو میٹر دور رکھنے کےلئے حکمت عملی طے کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گنجان علاقے، جہاں بھاری تعداد میں فورسز کی تعیناتی ممکن نہیں ہوتی ، وہاں لوگوں کی نقل و حرکت پر قدغن لگانے کے لئے کچھ متبادل اقدامات کئے جائیں گے“۔ تاہم انہوں نے ان اقدامات کا یہ کہتے ہوئے خلاصہ نہیں کیا کہ یہ باتیں میڈیا کے ساتھ شیئر نہیں کی جا سکتیں۔ڈی جی پی نے کہا کہ حالیہ ترال انکاﺅنٹر میں لوگوں کی پیش قدمی کو کامیابی سے محدود کر لیا گیا تھا ۔ اس دوران ذرائع نے بتایا کہ فورسز نے محاصرہ میں لئے گئے جنگجوﺅں کے فرار کی راہوں کو مسدود کرنے کے ساتھ ساتھ سویلین اور فورسز کے جانی اتلاف کو کم سے کم کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے ، ماضی قریب میں لوگوں نے تلاشی اور محاصروں کے دوران بڑے پیمانہ پر مظاہرے کئے جس سے نہ صرف جنگجوﺅں کے فرارکی راہ ہموار ہو گئی بلکہ فورسز کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ فوجی سربراہ نے بھی گزشتہ ماہ اینٹی ملی ٹینسی کارروائیوں کے دوران عوامی مداخلت کے خلاف انتباہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ ایسا کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نپٹا جائے گا۔